پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کی زندگی پر پڑنے والا ایک نیا بوجھ ہیں۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو کرایے بڑھتے ہیں، سبزی، آٹا، دال، دودھ اور تمام ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔ یوں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت پورے گھر کے بجٹ کو ہلا دیتی ہے۔ ستم یہ ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا بوجھ بھی عوام ہی برداشت کرتی ہے۔ سرکاری قیمت سازی میں عالمی مارکیٹ، درآمدی لاگت اور دیگر عوامل شامل ہوتے ہیں، لیکن پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں حکومت کی طرف سے عائد پٹرولیم لیوی بھی ایک بڑا حصہ ہے۔ حکومت پٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر کے حساب سے لے رہی ہے۔
ذرا حساب کیجئے!
پاکستان میں روزانہ تقریباً دو کروڑ لیٹر پٹرول استعمال ہو رہا ہے اور ہر لیٹر پر 80 روپے پٹرولیم لیوی وصول کی جاتی ہے۔ اس طرح تقریباً 1.6 ارب روپے روزانہ بنتے ہیں، یعنی تقریباً 48 ارب روپے ماہانہ اور سالانہ بنیاد پر تقریباً 584 ارب روپے، جو نہ تو پٹرول پمپ مالکان کو ملتا ہے نہ ہی جی ٹی ایس ہے، بلکہ سیدھا حکومت کے جیب میں جاتا ہے اور یہ تو صرف پٹرول کا حساب ہے، ڈیزل کی لیوی اس کے علاوہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر عوام کب تک یہ بوجھ اٹھائے گی؟
یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ غریب آدمی اپنی موٹر سائیکل میں چند لیٹر پٹرول ڈلوائے تو اس کے پیسے کا بڑا حصہ مختلف حکومتی محصولات میں چلا جائے، اور پھر وہی مہنگا پٹرول بازار کی ہر چیز کو مہنگا کر دے؟
پٹرول صرف گاڑی نہیں چلاتا، یہ معیشت کا پہیہ چلاتا ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو سب سے پہلے متوسط اور غریب گھرانے متاثر ہوتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنے اخراجاتِ کو کم کرے اور عوام کو مستقل معاشی ریلیف دے۔
پاکستانی عوام خیرات نہیں مانگ رہی۔
عوام اپنا حق مانگ رہی ہے۔
عوام پوچھ رہے ہیں:
آخر اس کی محنت کی کمائی کا کتنا حصہ ٹیکسوں اور لیویز کی نذر ہوگا؟
آخر کب تک معاشی بحران کا بل عوام کے نام لکھا جائے گا؟
آخر کب تک غریب اپنی بنیادی ضروریات قربان کرتا رہے گا؟
اور آخر کب تک حکومت عوام سے قربانی مانگتی رہے گی جبکہ عوام پہلے ہی اپنی استطاعت سے بڑھ کر قربانیاں دے چکی ہے؟
اب حافظ صاحب کی قیادت میں ملک کے چپے چپے سے عوام لانگ مارچ کے لئےنکل رہی ہے۔ یہ صرف ایک مارچ نہیں، اپنے حق اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے پُرامن آواز ہے۔
بشکریہ جسارت
.آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا
