1993ء کی دوپہر مرکز المحصنات کی بالائی منزل (مرکز جمعیت طالبات) میں اسلامی جمعیت طالبات کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس ہورہا تھا۔ نمازِ ظہر اور ظہرانے کے وقفے میں خبر ملی کہ حلقۂ خواتین کی نئی قیمہ عائشہ منور صاحبہ آئی ہیں۔ میں تیزی سے سیڑھیاں اترکر شوریٰ والے کمرے میں پہنچی تاکہ حلقہ خواتین کی قیمہ سے ملوں۔ دیکھا تو سرخ و سفید رنگت، دراز قد، جواں سال، پُروقار مگر خوش مزاج شخصیت اپنی نائب امت الرقیب صاحبہ کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھیں۔ دورانِ گفتگو کسی بات پر دونوں کھلکھلا کر ہنس دیں اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کمرے سے باہر نکل آئیں۔
یہ میری پہلی ملاقات تھی قیمہ حلقۂ خواتین عائشہ منور صاحبہ اور اُن کی نائب امت الرقیب صاحبہ کے ساتھ۔ میں دونوں کی خوش مزاجی، اپنائیت اور شگفتگی سے بہت متاثر ہوئی اور جمعیت طالبات کے اجلاس میں اعلان کردیا کہ جس تنظیم کی قیادت اتنی خوش خلق ہو اُس میں شامل ہوا جا سکتا ہے۔ بھئی میں تو جمعیت سے فارغ ہوکر جماعت اسلامی میں شامل ہوجاؤں گی۔ پہلی ملاقات کے بعد مسلسل عائشہ باجی اور امت الرقیب خالہ جان سے رابطہ رہا۔
1995ء میں جمعیت سے فارغ ہوکر ہم دونوں بہنوں (میں اور نائلہ اشرف) نے جماعت اسلامی جوائن کرلی۔ 30 دسمبر 1995ء کو ہم دونوں بہنوں کی شادی ہوگئی۔ چھ ماہ بعد امت الرقیب خالہ جان ہمارے آبائی گھر تشریف لائیں کہ کوئٹہ جامعہ کے لیے پرنسپل کی ضرورت ہے۔ والد صاحب نے فوری فیصلہ کردیا کہ لے جائیں، جماعت اسلامی کا مشن میری پہلی ترجیح ہے۔
اس طرح 19 جولائی 1996ء سے 11 ستمبر 1997ء تک نائلہ باجی اور امت الرقیب خالہ کوئٹہ جامعہ کی عمارت لینے اور طالبات کی تلاش کے لیے سرگرداں رہیں۔ ہر طرح کے گرم و سرد حالات کی ساتھی رہیں۔ پھر ثمینہ سعید صاحبہ کو تلاش کرکے جامعہ کی پرنسپل کے طور پر تعینات کیا۔ اس طرح نائلہ باجی کو لاہور واپس بلا لیا گیا۔ امت خالہ سے یہ ابتدائی تعلق آخر تک برقرار رہا۔ مرکزِ خواتین میں پہلا کمرہ آج بھی امت خالہ کے کمرے کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ مہینوں مرکز میں آکر ٹھہرنا، مختلف تنظیمی ذمہ داریوں کو انجام دینا۔ کسی بھی طرح کا ڈیزاسٹر ہو، نگران ہمیشہ امت خالہ ہوتی تھیں۔ ہر اجتماعِ عام کی ذمہ دار امت خالہ ہوتی تھیں۔ کاموں کی کثرت ہو، ذمہ داریوں کا بوجھ ہو، مگر خوش خلقی اور شگفتہ مزاجی میں کمی نہ آتی، اور انہیں دیکھ کر کبھی محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ بہت مصروف ہیں یا ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ کبھی کام نہ ہونے پر دل گرفتہ نہیں ہوئیں، ماتھے پر شکن تک نہیں آئی۔ مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں جتنا بھی بوجھل ماحول ہوتا، ان کی شگفتگی برقرار رہتی۔ جب جب لاہور آتیں، سب کو بلوا کر ملتیں۔ جو مرکز میں نہ آپاتیں، ان کے گھر جاکر ملاقات کرتیں۔ سب کا تفصیلی حال پوچھنا اور محفل کو زعفران زار بنائے رکھنا ان کا خاص کمال تھا۔ جماعت میں انہوں نے ہر طرح کی ذمہ داری بحسن و خوبی ادا کی۔ تنظیم، تربیت، دعوت اور ہنگامی امور، ہر کام مہارت سے کیا۔
میری بڑی بیٹی اسریٰ کے ساتھ بہت دوستی تھی۔ ہر بار پوچھتی تھیں ’’میری سہیلی کا کیا حال ہے؟‘‘ میرے بیٹے احمد کے حفظ کے لیے بہت دعائیں کرتی رہیں۔ گزشتہ 6 سال سے احمد نمازِ تراویح پڑھا رہا ہے۔ ہر سال امت خالہ میسج کرتیں ’’احمد کی تلاوت ریکارڈ کرکے بھیجو۔‘‘ پھر بہت خوش ہوتیں اور بہت دعائیں دیتیں۔
اجلاسِ شوریٰ میں کوئی لطیفہ سنانا اور اختتام پر ترانہ سنانا امت خالہ کا معمول تھا۔ اپنی تنظیمی ذمہ داری کی وجہ سے جتنی بار بھی کراچی جانا ہوا، امت خالہ سے ملاقات کا شرف حاصل رہا۔ سوچ رہی ہوں کہ اگر کراچی کے اپنے آخری وزٹ پر بغیر ملاقات کے آجاتی تو زندگی بھر قلق رہتا۔ میں، راحیل باجی، ثمینہ اور عفت ملنے گئے۔ ذکاء اللہ بھائی جلیبیاں، سموسے اور چکن کی سجی لے کر آئے۔ ہم نے بہت مزے سے کھایا اور امت خالہ کے ساتھ خوب انجوائے کیا۔ انہوں نے بہت ساری دعائیں دیں۔
کچھ دنوں بعد میسج کرکے بہت ساری دعائیں دیتیں اور یہ جملہ ضرور کہتیں ’’ارے بھئی! مجھے تو اپنے نظم کے ساتھ بہت محبت ہے اور تم تو مجھے بہت عزیز ہو، میں تمہارے لیے بہت دعائیں کرتی ہوں۔‘‘
عائشہ باجی اور امت خالہ کی اعلیٰ ظرفی اور قدردانی بے مثل تھی۔ 2001ء میں میرے پاس لاہور ضلع کی ذمہ داری تھی اور میں اپنی فیملی کے ساتھ 15 دنوں کے لیے کراچی نند کے گھر گئی۔ عائشہ باجی اور امت خالہ نے اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ ہر روز گاڑی بھیج کر بلواتیں، کبھی پروگرام میں شرکت کرواتیں اور کبھی شعبہ جات کا وزٹ کرواتیں۔ عائشہ باجی اور امت خالہ نے WWO، بیٹھک اسکول اور گوشہ عافیت کے دفاتر کا خود ساتھ لے کر وزٹ کروایا۔ میں آج بھی سوچتی ہوں کہ ایک ناظمہ ضلع کی اتنی تکریم کہ اسے سکھانے کے لیے تمام مواقع استعمال کیے۔ 1996ء میں ابھی میری رکنیت منظور ہوئی تھی اور پہلی بچی ایک ماہ کی تھی کہ مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کے لیے بلایا اور اراکینِ شوریٰ کے برابر عزت دی۔ مجھے ایک بار بھی محسوس نہیں ہوا کہ میں نووارد ہوں۔
لاہور میں تنظیمی اور تربیتی کام کو بڑھانے کے لیے باجی اور امت خالہ کا خاص کردار ہے۔ مہینوں مرکز المحصنات میں رہ کر لاہور میں کام کو بڑھایا۔ اعلیٰ ظرفی کا یہ حال کہ کبھی ہمیں غیر تنظیمی ہونے کا احساس نہ ہونے دیا، نہ ہی کبھی ہمارے کام کو کم کہا اور نہ ہی کراچی کی مضبوط تنظیم کا احساس دلایا۔ پنجاب اور لاہور نے تو تنظیم کا آغاز ہی عائشہ باجی اور امت خالہ کی نگرانی میں کیا۔ ہم سب نے ان دونوں محبت کرنے والی ہستیوں کے ساتھ رہ کر دعوت، تنظیم اور تربیت کے امور کو سیکھا۔
میں اکثر کراچی کی بہنوں سے کہا کرتی تھی ’’عائشہ باجی اور امت خالہ آپ لوگوں سے زیادہ ہماری ہیں۔‘‘ امت خالہ ہمیشہ کہتیں ’’ارے بھئی! تم لوگ تو میری جان ہو۔‘‘ پھر کھلکھلا کر ہنستیں ’’کوئی دل ہے، کوئی جگر ہے۔‘‘ پھر گلے لگاتیں اور خوب پیار کرتیں۔
امت خالہ قربانی، محبت اور شگفتہ مزاجی کی اعلیٰ ترین مثال تھیں۔ ان کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت تھی۔ ہر وقت کام، کام اور کام، مگر ہمیشہ ہنستا مسکراتا چہرہ، سب کو خوش آمدید کہنا، سب کو یاد کرنا، سب کے لیے دعائیں کرنا، گھر کے ہر فرد کے بارے میں پوچھنا۔ کوئی چھ سال قبل ہمارے گھر آئیں۔ احمد کو بلوایا اور کہا ’’تلاوت سناؤ‘‘ اور خود نقاب کرلیا۔ احمد کے سامنے تو میں خاموش رہی، بعد میں امت خالہ کو بہت تنگ کیا کہ ’’آپ نے تو احمد سے نقاب کرلیا، ابھی تو یہ 12 سال کا ہے اور آپ کی نقاب کرنے کی یہ عمر نہیں ہے۔‘‘
مسکرا کر جواب دیا ’’ارے بھئی! اب نقاب کی عادت ہے، یہ تو میرا بیٹا ہے، مجھے بہت پیارا ہے، اس کے لیے تو میں نے بہت ساری دعائیں کی ہیں۔‘‘
جامعات المحصنات امت خالہ کا سرمایہ ہیں، کروڑوں کی عمارات بنانا اور پھر جامعات کو آباد کرنا، ان کی نگرانی کرنا، طالبات کے ساتھ محبت کا تعلق رکھنا، انہیں بطور ناظمہ اور بطور مدّرسہ تیار کرنا۔ ہر جامعہ کی پرنسپل، وارڈن، اساتذہ اور طالبات کے ساتھ انفرادی تعلق رکھتی تھیں۔ جامعہ کی طالبات کو تحائف دینا اور کھانا بنوا کر کھلانا ان کا معمول تھا۔ مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں ایک پُرتکلف دعوت امت خالہ اپنے شعبے کی طرف سے دیا کرتی تھیں۔ مہمان نوازی ان کا شعار تھی۔ نفلی روزے اور نفلی نمازوں کا معمول تھا۔ ہر طرح کی مصروفیت اور ہر طرح کے موسم میں امت خالہ نفلی روزے سے ہوتی تھیں۔ اس عبادت گزاری اور زہد کو مزاج پر طاری نہیں کیا ہوا تھا۔ تقویٰ کے مظاہرے سے کوسوں دور، سادہ اور مخلص ہستی کا نام امت الرقیب تھا۔
ہم جب بھی کراچی جاتے، امت خالہ کا فون آتا، گھر آنے کی دعوت دیتیں، خوب کھلاتیں پلاتیں۔ ہمیشہ یہ جملہ ہوتا ’’ارے بھئی بتاؤ، گاڑی بھیج دوں؟‘‘
میں طارق صاحب سے اکثر کہا کرتی تھی کہ بچے بڑے ہوجائیں، مجھے امت خالہ بن جانا ہے۔ نیا گھر بنوائیں تو باہر کی طرف دروازہ رکھیے گا، خاموشی سے نکل جایا کروں گی۔ امت خالہ کی طرح دن بھر جماعت کا کام کروں گی اور رات کو خاموشی سے گھر داخل ہوجایا کروں گی تاکہ آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔ آپ وعدہ کریں مجھے امت خالہ بننے سے نہیں روکیں گے۔
ہمارے گھر کا ہر فرد امت خالہ سے واقف تھا اور آج ہر آنکھ اشکبار ہے اور سب کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو منور کردے، جنت کی کھڑکی کھول دے، بغیر حساب کے جنت الفردوس عطا فرمائے، تمام حسنات بڑھا چڑھا کر قبول فرمائے اور ہمیں ان کا صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق دے، آمین۔
ڈاکٹر حمیرا طارق
.آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا
