June 2nd, 2020 (1441شوال11)

قوانفسکم واھلیکم نارا



قوانفسکم واھلیکم نارا

بواسطة Admin / 0 Comment

آج کی صبح اس کے زخموں کو ادھیڑ دیتی ہے ۔ 14 فروری کا سورج اس کے لئے دکھ درد آنسو پچھتاوا اور سب سے بڑھ کر بے بسی لے کر آتا ہے ۔ کاش کاش وہ وقت کو پیچھے موڑ سکتی تو اس کی زندگی میں یہ دن نہ آتا ۔  

آہ ! دو سال گزر گئے لیکن وہ آج بھی اس زندہ لاش کو دیکھ کر نظریں چرا لیتی ہے کہ اسے اپنا آپ اس کا مجرم لگتا ہے   ۔ وہ زخمی نظریں اس سے شکوہ کرتی اس سے سوال کرتی ہیں 

لیکن 

آہ! کاش کہ وہ وقت کو پلٹا سکتی 

کاش! کہ وہ مداوا کر سکتی 

لیکن کچھ چیزوں کا کوئی مداوا نہیں ہوتا 

کچھ زخم زندگی بھر کے لئے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے 

وقت بھی ان کا مداوا نہیں کر سکتا

بس پھر انسان مرتے دم تک زندگی بھر ان زخموں کے ساتھ ہی زندگی کی گاڑی گھسیٹتا ہے 

اس کا جرم بھی تو کوئی معمولی نہیں تھا 

غفلت 

اپنے فرائض سے غفلت نے اسے آج کا دن دکھایا ہے 

ہاں غفلت ، نادانی اور ترقی کی دوڑ اسے لے ڈوبی 

مقابلہ بازی اور آندھی تقلید نے اسے منہ کے بل کیچڑ میں گرا دیا 

سوچنے بیٹھتی ہے تو گھنٹوں سوچتی رہتی ہے 

اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا شمار کرتے کرتے اس کی انگلیاں فگار ہو گئی ہیں 

وہ کیسے اتنی غافل ہو گئی 

اس کی آنکھوں پر کون سا پردہ پڑا رہا 

ہاں ! 

وہ ایک ماں تھی 

اس کے قدموں تلے تو اللہ نے جنت رکھی ہے 

لیکن 

کیا ایسے ہی 

بنا کچھ کئے یہ مقام ملتا ہے ؟

کیا مائیں اس جیسی ہوتی ہیں جو اپنے ہاتھوں اولاد کو تباہی کا موجب بنتی ہیں ؟

جو اپنی آنکھوں کے سامنے اولاد کو کھائی میں گرتا دیکھتی ہیں ؟

وہ کیوں غافل رہی 

جب اس کی بیٹی نے کالج جاتے ہوئے تیاری کے لئے گھنٹوں صرف کرنے شروع کئے 

جب اس کی بیٹی کا لباس چست اور مختصر ہونے لگا 

جب اس کی بیٹی نے آئے دن " دوستوں " کے ساتھ پارٹی کے نام پر زائد جیب خرچ کا مطالبہ شروع کیا 

جب اس کی بیٹی کے پاس نئی نئی سہیلیوں کے نام سے آئے دن نت نئے اور قیمتی تحائف آنے لگے 

جب اس کی بیٹی کبھی لائبریری اور کبھی فرینڈ کے گھر کمبائن سٹڈی کے نام پر دیر سے گھر آنے لگی 

جب 

اس کی بیٹی گھنٹوں موبائل پر بتا دیتی 

اس وقت وہ کہاں تھی 

وہ کیوں نہیں جاگی 

اس نے ان تبدیلیوں پر دھیان کیوں نہیں دیا 

اس نے کیوں توجہ نہیں دی کہ اس کی بیٹی یہ اضافی وقت کہاں گزار کر آتی ہے 

نہیں اس کا جرم صرف غفلت نہیں تھا وہ تو ان سب چیزوں پر خوش ہوتی تھی 

شکر ہے !اس کو بھی کچھ عقل آئی 

اول جلول حلیہ بنائے گھومتی رہتی تھی 

" ڈریسنگ سینس " تو بہتر ہوئی اس کی 

اس کی آنکھوں میں تو فخر اتر آتا تھا 

بیٹی کی ہر ہر " ادا" کو دیکھ کر 

اور پھر 

وہ دن 

وہ اس دن بھی نہیں جاگی 

جب اس کی بیٹی شوخ لباس پہن کر 

تیز میک اپ کے ساتھ 

پارٹی کے نام پر 

رات دیر سے گھر آنے کا کہہ کر " کسی" فرینڈ کی گاڑی میں بیٹھ کر گئی 

اس کو نہیں معلوم تھا کہ 

آج اس کا سارا فخر و غرور 

ساری خوشی مٹی میں ملنے والی ہے ۔ 

کیوں 

کیوں 

کیوں 

اسے تو اللہ تعالٰی نے " ماں " بنایا تھا 

پھر اس نے ایک دوست کی طرح بیٹی سے درد کیوں نہ بانٹے

ایک رہبر کی طرح اس کی رہنمائی کیوں نہ کی ؟

ایک محب کی طرح اس سے محبت کیوں نہ کی ؟

اور 

ایک چوکیدار کی طرح اس کی چوکیداری کیوں نہ کی ؟

اور 

اور

ایک " ماں " کی طرح اسے اپنے پروں تلے کیوں نہ رکھا ؟

اب آپ ہی بتائیے ! 

کہ بڑا مجرم کون ہے 

لٹی پٹی بیٹی 

یا ایک غافل ماں 

کہ منصب جتنا بڑا ہوتا ہے 

ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے 

ارشاد باری تعالٰی ہے!

قوانفسکم واھلیکم نارا 

خدیجہ گیلانی


جواب چھوڑیں

.آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا