June 2nd, 2020 (1441شوال11)

دے اپنی بوند بوند سے مجاہدوں کو حوصلہ



دے اپنی بوند بوند سے مجاہدوں کو حوصلہ

بواسطة Admin / 0 Comment

کشمیر کا نام لیتے ہی لفظ نہیں آنسو بولنے لگتے ہیں، لفظ تو لگتا ہے کہیں کھو ہی جاتے ہیں، کیا لکھیں کیوں لکھیں۔ برسوں سے الفاظ کا گورکھ دھندہ ہی تو جاری ہے، نوحہ پر نوحہ اور مرثیہ نگاری کی جارہی لیکن نتیجہ وہاں آج بھی گل خار بنے ہوئے ہیں اور ہر طرف جبر و زیادتی ہے۔آج بھی کربلا بپا ہے۔آج بھی کشمیری اپنی آزادی کی جنگ میں زندگیاں ہار رہے ہیں، بچے یتیم ہورہے، خواتین کی عصمت دریاں معمول کی بات ہیں۔وہاں سے آج بھی یہی صدا آتی ہے کہ یارب بھیج کوئی محمد بن قاسم جوارض جنت کی ظلم کی سیاہ رات کواجالے میں بدل دے۔ لیکن ہم سالہا سال سے ساتھ کھڑے ہونے کا راگ الاپ کر چین کی بانسری بجارہے ہیں۔ ہمارے نااہل حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں نے ہمیں یہ دن دکھایا، اتنے برسوں بعد بھی دنیا میں ہم کشمیر کے معاملے پر اپنا واضح موقف دینے اور دنیا کو ہمنوا بنانے میں ناکام ہیں۔دنیا تو چھوڑیں ہم تو اسلامی ممالک میں بھی کشمیر کے معاملے میں اپنا دفاع نہیں کر پارہے۔ حد تو یہ ہے اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی فضائی حدود ہماری استعمال کی جارہی ہے۔کرتار پور بارڈر ہم بند نہیں کررہے۔افغانستان کے ساتھ بھارت کی تجارت ہماری زمین کے ذریعہ جاری ہے، یہ سب کر کے ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں ؟بھارتی شہری دنیا بھر میں بھارت کے بہترین سفیر بنے ہوئے ہیں یہ اچھی پوسٹ پر بھی ہیں اور بڑے کاروباری بھی، عرب امارات میں کتنے بڑے بڑے بھارتی کاروباری موجود ہیں، وہ اپنے کاروبار کے ساتھ ساتھ اپنی حکومتوں کا دفاع بھی کرتے اوران کے لیے بہترین لابنگ کرتے ہیں۔ہماری حالت یہ ہے ہمارے لوگ باہر جاکر بھی پی پی، لیگی اور انصافی رہتے ہیں پاکستانی بنتے نہیں، اسی لیے اپنے ملک کی لابنگ کے بجائے ہم اپنی پارٹی لابنگ میں لگے رہتے ہیں۔ باہم دست و گریبان ہونے سے فرصت نہیں، ہم نے چھوٹا سا خطہ لے کر بھی خود کو تقسیم در تقسیم کرلیا۔موجودہ حالات میں ہی اپنے ملک پر نظر ڈالیں ماسوائے چند ایک کہ کسی نے اپنا واضح موقف دیا ؟ عوام جذباتی ہیں اچھی بات ہے، جذبات سرد پڑنے بھی نہیں چاہئیں کہ یہی زندگی کی علامت ہے لیکن دکھ ہے کہ شہ رگ کٹ رہی اور کوئی تڑپ بھی نہیں رہا، مذہبی و سیاسی جماعتیں کیا ایک پلیٹ فارم پر۔ سب کرسیوں کے حصول کے لیے ہی اکٹھا ہوسکتی ہیں ؟ ا خلاقی طور پر تو ہمیں ہر اس  جماعت کے موقف کی حمایت کر کے جو کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے کھڑے ہیں دنیا پر واضح کردینا چاہیے کہ ہم میں انسانیت بھی ہے اور ہم امت بھی ہیں، جس نے کلمہ پڑھا خواہ وہ کسی بھی فرقہ سے ہو ہمارا بھائی ہے نبی کریم ﷺ کا امتی۔۔

بدقسمتی سے ہر دور میں مسلمانوں کے اندر منافقین رہے ہیں، جو ان کے آلہ کار بنے رہے۔ آج بھی یہی صورت حال ہے۔کسی نے کیا خوب کہا تھا   ؎ 

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے

آج سعودی حکومت، متحدہ عرب امارات،ملائیشیاء، بھارت سے بائیکاٹ کا اعلان کردے اور سارے بھارتیوں کو ڈی پورٹ کردے تو دیکھتے ہیں بھارت کیسے گھٹنے نہیں ٹیکے گا،لیکن صد افسوس یہاں بھی نبیﷺ کے پیروکاروں کے لیے امت نہیں اپنا آپ اہم ہے، اپنا مسلک اپنا فرقہ اپنا وطن اپنا مفاد۔۔ 

علامہ اقبالؒ نے تو کب کا کہہ دیا تھا:

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

اسی وطن پرستی نے ہمیں امت کا تصور بھلا دیا۔ میرے نبی ﷺکا فرمان تو ہم کب کا بھلا بیٹھے ہیں کہ مسلمان جسم کی مانند ہیں ایک عضو میں تکلیف ہو تو سارا بدن دکھتا ہے۔ کشمیر، فلسطین،شام،سیریا سب لہو لہان ہیں لیکن اسلامی ملک کے حکمران اپنے اپنے تخت سنبھالے چین کی نیند سورہے ہیں۔ مت بھولیں آج وہ کل ہماری باری ہے۔ جو یہ سمجھتا ہے دشمن کو دوست بنا لو تو ہمارا محافظ بن جاۓ گا وہ آستین میں سانپ پال رہا اور احمقوں کی جنت میں رہ رہا ہے۔ رب نے واضح کہہ دیا یہود و نصاریٰ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہوسکتے سو یہ تو ممکن ہی نہیں، رب سے زیادہ سچی بات کس کی ہوسکتی ہے۔عوام جو کرسکتے ہیں وہ کررہے ہیں،ہر طرف احتجاج جاری ہے، سوشل میڈیا پر بھی جنگ چھڑی ہے لیکن صرف یہ کافی نہیں، اپنے خولوں سے نکل کر ایک ہونا وقت کی ضرورت ہے۔خود کو امتی ثابت کریں، چاہے آپ بریلوی ہوں یا دیو بندی، مذہبی ہوں یا آزاد خیال، ان مسلکی فرق کو چھوڑ دیں، ہم امتی ہیں ہم کلمہ گو ہیں چاہے دنیاکہ کسی بھی خطے میں ہوں، اس فرق کو مٹانا ہوگا ہمیں بھی اور ہمارے حکمرانوں کو بھی، تب ہی امت کے تصور کو تقویت ملے گی، حکمرانوں کو بیدار کرنے کے لیے ہمیں بیدار ہونا ہوگا۔ہم میں شاید کچھ ایسے بھی ہوں جو یہ کہتے ہیں پاکستان سنور نہیں رہا کشمیر لے کر کیا کرنا ہے، انہیں بتادیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے صرف ہمارا نہیں پوچھے گا یہ بھی سوال کرے گا جب تمہارے بھائیوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جارہے تھے تم اس وقت کس صف میں کھڑے تھے۔ اس وقت ہم رب کو کیا جواب دیں گے ؟ بس یہ سوچ لیں اور نکل کھڑے ہوں۔ نہ بھولیں ہم امتی ہیں اور بحیثیت امتی ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے گھروں سے نکلیں، احتجاج ریکارڈ کرائیں، دنیا کو بتادیں کشمیری تنہا نہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ جان دینے کا وقت آیا توان شاء اللہ اس سے بھی گریز نہیں کریں گے کیوں کہ شہادت مومن کا اعزازہے، یہ نہ بھولیں دربار رب میں وہ سرخرو ہوتاہے جو عدو الٰہی کے روبر ہوتا ہے۔ اور موت سے بے خوف ہونا ہی فتح کی کلید ہے۔ خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال اور الفاظ ہمارے سامنے ہیں کہ اگر موت لکھی نہ ہو تو زندگی خود موت کی حفاظت کرتی ہے اور موت تقدیر میں ہو تو زندگی دوڑ کر موت کو گلے لگالیتی ہے، زندگی سے زیادہ کوئی جی نہیں سکتا اور موت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا، دنیا کے بزدلوں کو میرا پیغام پہنچائو کہ اگر میدان جہاد میں موت لکھی ہوتی تو خالد بن ولیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بستر پر موت نہ آتی۔بس یہ یاد رکھیں اور راہ حق میں سینہ سپر ہو کر کھڑے ہوجائیں جس جگہ بھی ہوں اپنے حصے کا دیپ جلائیں، نتائج سے بے پرواہ ہوکر، شکست و فتح اللہ کے ہاتھ میں ہے کنکریاں مارنا ہمارا کام ہے۔

ائے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے

امت پہ تری عجب وقت آکے پڑا ہے

٭…٭…٭

نگہت فرمان


جواب چھوڑیں

.آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا