July 14th, 2024 (1446محرم7)

گفتگوجأنماز سے



گفتگوجأنماز سے

بواسطة Admin / 0 Comment

فجر سے کچھ پہلے اس کی آنکھ کھلی۔ اسے شدید پیاس کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ بستر سے باہر نکلا۔ یکایک اسے فرش کی طرف سے کراہنے کی آواز آئی ۔ وہ غور سے دیکھنے لگا۔ آواز غائب ہوگئی۔  وہ پانی کے جگ کی طرف گیا، ایک گلاس پانی پیا اور دوبارہ آکر بستر میں گھس گیا۔
سردی اچھی خاصی تھی۔ کراہنے کی آواز دوبارہ سنائی دی۔ اس مرتبہ آواز اور تیز تھی۔ لگ رہا تھا کہ کوئی رو رہا ہے۔ اس نے لیٹے ہی لیٹے فرش کو ٹٹولا اس کے ہاتھ میں وہاں رکھی ہوئی جانماز آگئی۔ جانماز ہاتھ آتے ہی آواز بند ہوگئی۔
اس نے تعجب سے کہا: کیا تم ہی کراہ رہی تھیں؟
جانماز: ہاں۔
وہ: لیکن کیوں؟
جانماز:تمھیں تو تمھاری پیاس نے جگادیا۔ تم پانی پی کر سیر بھی ہوگئے۔ مجھے بھی تو پانی کی ضرورت ہے، لیکن مجھے سیراب کرنے والا کوئی نہیں ملتا۔
وہ: تو کیا تم چاہتی ہو کہ میں ایک گلاس پانی تمھارے اوپر لا کر انڈیل دوں؟
جانماز:نہیں یہ پانی میری پیاس نہیں بجھائے گا، میری پیاس تو عبادت وانابت کرنے والے اللہ کے نیک بندوں کے آنسوئوں سے بجھے گی۔
وہ: میں تمھیں ایسے آنسو کہاں سے لاکر دو ں، میری جانماز؟
جانماز:یہی تو میرے رونے کی وجہ ہے۔ اُٹھو رات کے اس اندھیرے میں دو رکعت نماز اللہ کے حضور ادا کرو۔ یہ نماز قبر کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اُجالا کرے گی۔ رات تھوڑی سی ہی بچی ہے۔ وقت کم ہے ۔ پھر فجر کا مؤذن اذان دے دے گا۔
وہ: تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو (وہ سوجاتا ہے)۔
جانماز: اٹھو فجر کی نماز تو پڑھ لو کہ فجر کی نماز قلب وروح کی زندگی ہے۔ دیکھو، مؤذن پکار رہا ہے: الصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ ’’نماز نیند سے بہتر ہے‘‘۔ تم … تم دن رات دنیا کی پکار پر دوڑتے رہتے ہو مگر خداے ذوالجلال کی پکار پر تمھارے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ آخر تمھیں کیا ہوگیا ہے؟
وہ: (جھنجھلاہٹ سے) مجھے سونے دو۔ تم روز مجھے دیکھتی ہو میں رات کو تھکا ہوا آتا ہوں، مجھے جی بھر کر سو لینے دو۔ وہ پھر نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
جانماز: سنو! کیا تم اپنی زندگی، دین سے زیادہ دنیا کی نذر کردو گے؟
وہ: (سختی سے) اب خاموش ہوجائو۔ میں تھکا ہوا ہوں، مجھے سونے دو۔
جانماز: (غمگین لہجے میں) آہ کہاں گئے وہ فجر کے نمازی! کہاں گئے وہ فجر والے!
سنو! کیا تم نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ خوش خبریاں نہیں سنیں:
    ٭    جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے (یعنی فجر اور عصر کی ) نماز پڑھی، وہ جہنم کی آگ میں نہیں جائے گا۔
    ٭     جس نے ٹھنڈک والی (فجر اور عصر) دونوں نمازیں پڑھیں وہ جنت میں جائے گا۔
    ٭     اندھیرے میں مسجد کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی خوش خبری سنادو۔
    ٭    منافقوں پر فجر اور عشاء سے زیادہ گراں اور کوئی نماز نہیں ہے اور اگر وہ ان کے ثواب کو جان لیں تو گھسٹتے ہوئے آئیں۔
وہ: چونک پڑا! اس کا مطلب ہے کہ فجر کی نماز بہت اہم ہے۔
جانماز: یہی تو بات ہے۔ اب اُٹھو ، اٹھ کر نماز کی تیاری کرو۔
وہ: دیکھو میں کل سے ضرور نماز شروع کردو ں گا لیکن آج مجھے سونے دو۔ آج تھکا ہوا ہوں۔
جانماز: (افسوس سے) جسے عمل کے ثواب کا یقین نہ ہو، اس پر ہر حالت گراں ہوتی ہے۔ سونے کے لیے قبر کی کوٹھری بہت کافی ہے، مدتوں سوتے رہو گے، پھر میری نصیحت یاد آئے گی۔
جانماز خاموش ہوگئی۔ وہ دوبارہ سوگیا۔ لیکن یہ کیا! یہ تو اس کی آخری نیند تھی۔ وہ سویا مگر پھر اس کی آنکھ نہیں کھل سکی…!

                                                                                                                                                            ڈاکٹر جاسم محمد مطوع


جواب چھوڑیں

.آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا