May 28th, 2024 (1445ذو القعدة20)

قصہ غم میں تیرا نام



قصہ غم میں تیرا نام

بواسطة Admin / 0 Comment

زینب قتل کیس کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوا، مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، اداروں اور تنظیموں نے اپنے اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کیا، مشتعل لوگوں نے جلوس نکالے، پولیس نے یہ احتجاجی جلوس منتشر کرنے کے لیے اپنی ’’کارکردگی‘‘ کا مظاہرہ کیا۔ یہ ’’کارکردگی‘‘ کچھ نہتے اور عام لوگوں کے لیے موت اور بربادی کا پیغام ثابت ہوئی۔ کچھ گھرانے اُجڑے، کچھ بچے یتیم ہوئے، کچھ مائیں زندگی بھر کے لیے غم و اندوہ میں ڈوب گئیں۔ سانحات میں سے مزید سانحات نے جنم لیا فتنے سے مزید فتنے بھی پیدا ہوئے، کسی نے اپنی سیاست چمکائی تو کسی نے اپنی ’’ریٹنگ‘‘ بڑھائی۔ فتنہ پر دازوں کو بھی خوب خوب زبان دراز کرنے کا موقع ملا۔ وطن عزیز میں موجود مُلحد اور لبرل گروہوں کو اپنی ناپاک زبانوں سے دین اسلام، شرعی تعزیری قوانین، ذاتِ باری تعالیٰ، دینی جماعتوں اور علما پر طعنے کسنے اور گمراہوں کی گمراہیوں میں مزید اضافہ کرنے کا موقع ہاتھ آیا۔ موم بتی مافیا سے تعلق رکھنے والی ’’آنٹیوں‘‘ نے ٹی وی اسکرین پر ’’جلوہ افروز‘‘ ہو کر جدید میک اپ و ملبوسات اور نت نئے ہیئر اسٹائل کے ساتھ دُکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ’’کہاں ہیں علما‘‘؟ کہاں ہیں دینی جماعتیں؟۔ دوسرے لفظوں میں وہ مُلحد اور لبرل لابی کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈھکے چھپے لفظوں میں یہ کہنا چاہ رہی تھیں کہ کہاں ہے وہ خدا (نعوذباللہ) جس کی نمائندگی و نیابت کا دعویٰ کرتے ہیں یہ علما، کہاں ہے وہ دین اسلام جس کے نفاذ کو مسائل کا حل گردانتی ہیں دینی جماعتیں؟۔ دین کے خلاف بات اگر سات پردوں میں چھپ کر، کبھی انسانیت کے نام پر، کبھی رنج و غم کے اظہار کے پردے میں تو کبھی عورتوں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کی آڑ میں۔ جس رنگ میں بھی کی جائے گی دین اسلام کی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ ’’اصل مدّعا‘‘ جان لیں گے۔ اچھی طرح پہچان لیں گے لیکن عام آدمی، روزی روٹی کی مشقت میں ڈوبا ہوا آدمی، مسائل میں گھرا ہوا آدمی، دین سے دوری کا شکار طبقہ، ایسے سوالات کی تہہ میں چھپے گمراہ کن پروپیگنڈے کو شاید بلکہ یقیناًنہیں جان سکتا۔ یہ ملحدین اور نام نہاد جدّت پسندوں کا گروہ اس سانحے کے تناظر میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ جب ملک میں اسلام اور مسلمان نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں، جب یہ ملک مسلمانوں کا نہیں بلکہ جنسی درندوں کا ملک بن چکا ہے تو پھر دین اسلام کی (ان کے نزدیک) ’’پخ‘‘ لگانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اس ملک کو ایک سیکولر اور لبرل ریاست کیوں نہ بنادیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھلا دین اسلام میں ایسی طاقت ہی کہاں ہے کہ وہ ایسے سانحات کی روک تھام کرسکے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ جب دینی جماعتیں اور علما حضرات حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فحاشی عریانی پھیلانے والے تمام چینلز بند کیے جائیں، اسکولوں میں رقص و موسیقی کے نام پر، آرٹ و کلچر کے نام پر بیہودگی اور حیا سوز سرگرمیاں رکوائی جائیں، انڈین چینلز بند کروائے جائیں تو یہی لوگ اور ان کے ہمنوا میڈیا چینلز، علما اور دینی جماعتوں کو دقیانوسی اور انتہا پسند قرار دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک جج صاحب کے سامنے جب سپریم کورٹ میں انڈین چینلز بند کروانے کی درخواست کی سماعت ہوئی تو جج صاحب نے فرمایا کہ ’’دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اس ویلیج میں انڈیا اور پاکستان اکٹھے رہتے ہیں۔ لہٰذا ایک دوسرے کی ثقافت دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ پھر جب بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی دین و قرآن سے پھرے ہوئے، خوف خدا سے کوسوں دور رہنے والے جنسی درندوں کو بھڑکاتی ہے اور معصوم بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے سانحات ہونے لگتے ہیں تو یہی لوگ جو وجودِ باری تعالیٰ ہی کے منکر ہیں، بکاؤ میڈیا کی سرپرستی میں، ٹی وی اسکرین پر آکر دین اسلام اور اس کے پاسبانوں کو للکارتے ہیں، انہیں موردِ الزام ٹھیرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی یہ ہرزہ سرائی سن کر عام آدمی بھی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اللہ کی بے آواز لاٹھی کہاں ہے؟ کب برسے گی؟ کیوں نہیں فرشتے آکر روک لیتے جنسی درندوں کو؟ کیوں ایسا ہوا کہ حرم پاک کے سامنے کھڑے زینب کے والدین کی دُعائیں رد کردی گئیں؟ کیا انہوں نے اپنے اہل و عیال کی سلامتی و حفاظت کی دُعائیں نہ کی ہوں گی؟، دُعائیں کیوں رد کردی جاتی ہیں یہ تو ایک علیحدہ موضوع ہے، لیکن مُلحد اور لبرل لوگ یہ ضرور جان لیں کہ دین اسلام پر زبان دراز کرنے پر اللہ تعالیٰ نے انہیں جو چھوٹ دے رکھی ہے یہ آزادی اور چھوٹ اُس کی اُسی مشیت کا نتیجہ ہے کہ جس مشیت کے تحت جنسی درندوں کی رسّی اللہ تعالیٰ نے دراز کی ہوئی ہے۔ جب اس چھوٹ اور مہلت کا وقت ختم ہوجائے گا تو ظالموں کے لیے نہ ہی کوئی جائے فرار ہوگی اور نہ ہی چھپنے کا کوئی ٹھکانہ مل سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا آئین جو اُس نے نظام کائنات چلانے کے لیے بنایا ہے، بار بار تبدیل نہیں ہوا کرتا۔ ولن تجد لسنۃ اللہِ تبدیلا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اس نے مقام آخرت کو دارِ جزا اور دارِ سزا ٹھیرایا ہے۔ دنیا دارِ سزا یا دارِ جزا نہیں ہے۔ جن قوموں پر ماضی بعید میں اور ماضی قریب میں عذاب آتے رہے ہیں وہ تو اُس سزا کا محض ایک چھوٹا سا ٹریلر تھے اصل سزا تو آخرت میں دی جائے گی۔ تاہم دنیا میں ایک مکافات عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ جو جیسا یہاں بوئے گا ویسا کاٹے گا۔ دنیا میں لوگوں کے ظاہری اعمال کے نتائج تو اُلٹ نظر آتے ہیں، بظاہر سرکش و کافر لوگ پھل پھول رہے ہیں اور خوف خدا رکھنے والے متقی، جیّد و عاملِ علما کو پھانسیوں پر لٹکایا جارہا ہے۔ قید خانوں میں صعوبتیں اور اذیتیں دی جارہی ہیں۔ یہ ظاہری نتائج دیکھ کر سرکشوں کی ’’چلت پھرت‘‘ دیکھ کر عام آدمی تو ضرور دھوکا ہی کھا جاتا ہے اور وہ بھی ملحدین اور لبرل لوگوں کا ہمنوا بن جاتا ہے، یہاں تک کہ بہت سے لوگ ملحد ہوجاتے ہیں، دہریے بن جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عظیم ان تمام باتوں سے بے نیاز ہے یہ اس کی شانِ بے نیازی ہی تو ہے جس کو اُس نے اپنی کتاب پاک میں یوں فرمایا ہے کہ ’’اگر ساری دنیا بھی مل کر وجودِ باری تعالیٰ کا انکار کردے تو اُس کی بادشاہی میں کوئی فرق نہیں پڑنے والا‘‘۔ سورج روزانہ اُسی کے حکم سے طلوع و غروب ہوگا اور کائنات میں چلنے والے لاکھوں طرح کے نظام و احکامات اُسی کے حکم سے جاری ہوں گے۔ نہ ہی تو سرکشوں کی ’’چلت پھرت‘‘ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کی کوئی بے آواز لاٹھی (نعوذباللہ) ہے ہی نہیں اور نہ ہی متقین کی صعوبتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے ایمان والوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اسی طرح تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان، متقین کے درجے بڑھا رہا ہے اور سرکشوں کو جہنم کے اُن بدترین درجات کا مستحق بنارہا ہے جو اُس نے ان کے لیے تیار کرکے رکھے ہیں۔
رہی بات سانحات کی روک تھام سے متعلق تو ایسے سانحات کا تدارک انفرادی اور اجتماعی طور پر اہل ایمان کی اور حکومتی سطح سے انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سربراہانِ مملکت کی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اقتدار و اختیار استعمال کرتے ہوئے عوام کے جان و مال و عزت کے تحفظ کے ذمے دار ہیں۔ جب یہی ذمے داران اور معاشرہ اپنے فرائض سے پہلوتہی کرتا ہے، ادارے کرپشن کریں، بچوں سے جنسی زیادتی کی ویڈیو بنانے والا گروہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے کی وجہ سے گرفتاری کے باوجود رہا کروالیا جائے، سزا دیے بغیر چھوڑ دیا اور دینی جماعتیں تمام قسم کی ایسی ناانصافیوں اور کرپشن کے خلاف آواز اُٹھائیں تو بکاؤ میڈیا اصلاح چاہنے والوں کا ہم نوا نہیں بنتا۔ سیئات (فحاشی عریانی) کا پھلنا پھولنا ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیا جاتا ہے اور جب یہی سئیات پھل پھول کر سانحات کو جنم دینے لگتی ہیں تو پھر وہی میڈیا ایسے لوگوں کو اپنے چینلوں پر نمایاں کرتا ہے جو پوچھتے ہیں کہ ’’کہاں ہیں دین کے ٹھیکیدار‘‘؟ کہاں ہے دین اسلام؟ اور اسی پر بس نہیں سوشل میڈیا پر ایسے بلاگس اور ایسی پوسٹیں گردش کرنے لگی ہیں جن میں کسی فرضی نام سے اُسی ملحد لابی کا کوئی بلاگر زیادتی کے مقدمات میں شرعی قوانین اور تعزیری سزاؤں کو غیر موثر اور بے وقعت ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی نے میرے واٹس ایپ پر ایک بلاگ بھیجا جس کا source مجھے معلوم نہیں ہوسکا۔
لکھا تھا کہ ’’اگر زینب زندہ رہ جاتی اور شرعی عدالت میں اس کا کیس سماعت کے لیے پیش کیا جاتا اور مجرم کو گرفتار کرکے سامنے لایا جاتا تو چار مسلمان گواہوں کی شرط پوری نہ ہونے کے باعث مجرم کو پھانسی کی سزا نہ دی جاتی بلکہ چند کوڑوں (اور کوڑے بھی وہ جن سے مجرم کی کھال نہ اُترنے پائے) کی سزا دے کر مجرم کو چھوڑ دیا جاتا۔ یہ اس بلاگ کی طویل تحریر کا لب لباب ہے جو میں نے یہاں درج کیا ہے۔ عام آدمی اس وقت جس خوف، ذہنی کرب و اذیت اور عدم تحفظ کے جذبات سے گزر رہا ہے ایسے موقعے پر اس طرح کی تحریریں، بیانات اور الیکٹرونک میڈیا پر اس طرح کے گمراہ کن پروپیگنڈے جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں۔ عوام کو دین اسلام اور دین داروں سے برگشتہ و باغی کرنے کے لیے عام آدمی کی ’’برین واشنگ‘‘ کے ان ہتھکنڈوں کا منہ توڑ جواب دینا اہل ایمان کی ذمے داری ہے۔ ہمارے ملک میں شرعی قوانین یا تعزیری سزاؤں کا علم رکھنے والے لوگ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں اگر موجود ہیں تو وہ بھی خاموش نہ رہیں بلکہ اس سلسلے میں اپنی ذمے داری کو بروقت ادا کریں۔
دین اسلام نے تو زِنا جیسے قبیح افعال کے لیے انسدادی تدابیر قرآن حکیم کے ذریعے بیان کردی ہیں، شریعت الٰہی تو ایسے شرمناک اور انسانیت سوز افعال تک لے جانے والے تمام محرکات اور تمام ذرائع ہی کو بند کرنے کا حکم دیتی ہے جو ایک بالغ فرد کو انسانیت کے اعلیٰ مقام سے گرا کر جنسی درندوں کی سطح تک لے جاتے ہیں۔ دین اسلام تو ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے جس کے نفاذ کے نتیجے میں ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ تشکیل پاتا ہے جہاں اس طرح کی گندگیوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہیں مل پاتا اور اگر زِنا جیسے شرمناک واقعات و سانحات ہو بھی جائیں تو اس گندگی کو اُسی جگہ ختم کردیا جاتا ہے جہاں اس نے جنم لیا نہ کہ بے حیائی اور انسانیت سوز افعال کی تشہیر کرکے ان کو گھر گھر پہنچانے کا انتظام کردیا جائے۔ بے حیائی کی تشہیر تو بذاتِ خود ایک بے حیائی اور گناہ کبیرہ ہے۔ حتیٰ کہ انسدادی تدبیر کے طور پر بھی بچوں کے تعلیمی نصاب میں جنسی تعلیم کے ابواب شامل کرنا بھی تعلیمی اداروں میں بے حیائی کا ایک اور باب کھولنے والی بات ہے۔ معصوم بچے انسانی جسم کے اندر موجود جذبہ حیوانیت و شہوانیت سے اگر اب تک بے خبر تھے تو جنسی تعلیم کے ذریعے گویا اُن کو سفلی جذبات سے آگاہ کرنے اور ان میں بے جا تجسس کو اُبھارنے کا انتظام کیا جارہا ہے تا کہ مخلوط اداروں میں طلبہ و طالبات کے مابین جنسی اعضا اور جنسی تعاملات موضوع بحث بن جائیں، ٹیچرز اور طلبہ کے مابین تقدس و احترام کا ماحول بے حجابانہ طرزِ عمل میں تبدیل ہوجائے اور جو تجسس بچوں میں اُبھارا جائے گا لامحالہ اس کی تسکین کے لیے بھی بچے کوئی نہ کوئی عملی تدبیر اختیار کرنے لگیں گے۔ کیا دین اسلام اور نبی رحمتؐ کی شریعت میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے کوئی اصول وضع نہیں کیے گئے ہیں؟ جو لوگ اس حوالے سے علم رکھتے ہیں انہیں کیوں نہیں الیکٹرونک میڈیا موقع دیتا کہ وہ آکر بتائیں کہ شرم و حیا کیا ہے اور بے حیائی کیا ہے۔ نگاہ اور شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ کون کون سی چیزیں ہیں۔ ماہرین نفسیات کیوں خاموش ہیں؟ ماہرین تعلیم کیوں نہیں اس بات پر زور دیتے کہ تعلیمی نصاب میں جنسی تعلیم کے بجائے شرم و حیا کی تعلیم دینے والے ابواب شامل کیے جائیں۔ بے حیائی کا علاج حیا ہے نہ کہ جنسی تعلیم۔ حیا کی حفاظت ’’نیچی نگاہ‘‘ کے ذریعے ’’غضِ بصر‘‘ کے ذریعے ہوتی ہے نہ کہ جسم کے قابل شرم حصوں کو کھول کھول کر بیان کرنے سے۔ اگر آپ کے کپڑوں پر گندگی لگ جائے تو آپ اس کو دور کرنے کے لیے اُسی جیسی گندگی استعمال کریں گے یا پاک پانی سے اس گندگی کو دور کریں گے؟۔ میرے ربّ کا بنایا ہوا پاک اور سچا دین تو مجھے پانی کے ذریعے پاک ہونے کی تعلیم دیتا ہے، ایسے جامع اور مکمل دین پر انگلیاں اُٹھانے والے، طعنے کسنے والے لوگ خود بھی ناپاک ہیں اور معاشرے میں بھی گندگی کو بڑھاوا دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔ تمام اہل ایمان کی ذمے داری ہے کہ شریعت الٰہی کی طرف اُٹھنے والی ان انگلیوں کو توڑ دیں اور دراز ہوتی ہوئی ایسی زبانوں کو منہ توڑ جواب دیں۔ ان تمام پروپیگنڈوں اور ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، پوری اُمت مسلمہ سانحات سے دوچار ہے یہ اللہ کی آزمائش ہے ہم اللہ کی مشیت اور اُس کی رضا دونوں ہی پر سرتسلیم خم کردینے والے مسلمان ہیں۔ جس طرح ماں اپنے بچے کو مارتی ہے لیکن پھر بھی بچہ اُسی سے لپٹتا ہے اُسی طرح ایک مسلمان بھی اللہ کی آزمائشوں پر صبر کرتا ہے لیکن اپنے ربّ کا دروازہ نہیں چھوڑتا۔ تکلیفوں اور صدمات پر صبر کرتا ہے، اللہ کو موردِ الزام نہیں ٹھیراتا، دین سے نہیں پھر جاتا، ملحد و مرُتد نہیں ہوجاتا۔ خالق اور مخلوق کا رشتہ توڑنے کی کوشش کرنے والی ملحد اور لبرل لابی ایک دن اس ملک سے ذلیل و خوار ہو کر نکلے گی۔ سانحات کا فائدہ اُٹھا کر دین کو بدنام کرنے والے سُن لیں کہ یہ سچے اہل ایمان لوگوں کا ملک ہے جو اپنے دین کی حفاظت کرنا جانتے ہیں، کئی برس پہلے مہدی حسن نے یہ گیت نہ جانے کس کے لیے گایا تھا اور نہ جانے یہ کس کے لیے لکھا گیا تھا لیکن مجھے حسب حال لگ رہا تھا اس لیے ضرور دہرانا چاہوں گی کہ
قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے
ہم تیرے نام پہ الزام نہ آنے دیں گے
چلتے چلتے ایک بات food for thought کے طور پر کہنا چاہوں گی کہ مختاراں مائی کیس کئی سال پہلے عالمی شہرت حاصل کر گیا تھا۔ مختاراں مائی حافظ قرآن تھی، زینب کے والدین عمرے پر گئے ہوئے تھے اس لیے 192 بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسوں میں یہ ایک کیس ملک گیر احتجاج کے قابل سمجھا گیا۔ مختاراں مائی سے لے کر اب تک پاکستان میں ایک لبرل اور ملحد لوگوں کا گروہ موجود ہے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ ان کے عزائم کیا ہیں۔ اُمید ہے آپ سب اچھی طرح جان گئے ہوں گے یہ لوگ ہمیں ’’بے خدا‘‘ کردینا چاہتے ہیں ان کی چالوں پر گہری نظر رکھیے۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

تحریر: ایڈوکیٹ بینا حسین خالدی


جواب چھوڑیں

.آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا