October 16th, 2019 (1441صفر16)

عمومی سوالات

 

اسلامی مملکت میں غیر مسلم گروہوں کو تمام مدنی حقوق مسلمانوں کی طرح حاصل ہوں گے ' مگر سیاسی حقوق مسلمانوں کے برابر نہیں ہو سکتے ' اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں ریاست کے انتظام کو چلانا مسلمانوں کی زمہ داری ہے اور مسلمان اس بات پر مامور ہیں کہ جہاں بھی ان کو حکومت کے اختیارات حاصل ہوں وہاں وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق حکومت کا نظام چلائیں۔۔ چونکہ غیر مسلم نہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر یقین رکھتے ہیں اور نہ اس کی اسپرٹ کے مطابق ایمان داری سے کام چلا سکتے ہیں اس لئے وہ اس زمہ داری میں شریک نہیں کئے جا سکتے۔۔۔ البتہ نظم و نسق میں ایسے عہدے ان کو دیے جاسکتے ہیں جن کام پالیسی بنانا نہ ہو۔۔۔اس معاملہ میں غیر مسلم حکومتوں کا طرز عمل منافقانہ ہے اور اسلامی حکومت کا طرز عمل صاف صاف ایماندارانہ۔۔مسلمان اس بات کو صاف صاف کہتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کرنے میں خدا کے سامنے اپنی زمہ داری ملحوظ رکھتے ہوئے غیر مسلموں کے ساتھ انتہائی شرافت اور فراخ دلی کا برتاؤ کرتے ہیں۔۔

نابالغ بچے اگر حج یا عمرہ ادا کرتے ہیں تواسکا ثواب انہیں اور انکے والدین کو ملے گاایک نفلی عبادات کے طور پر لیکن وہ بچے جنکی عمر ۱ ،۲،یا ۳ سال ہو یعنی ایسی عمر کے بچے جو خود حج یا عمرہ ادا نہیں کرسکتے تو اسکا اثر انکے مستقبل پر تو اچھا پڑے گا اورانکے لیئے فائدہ مند تو ہوگا لیکن ان کی طرف سے حج ادا ہوگا اور نہ عمرہ ۔

جی ہاں بہن بھائی کو زکوٰۃ دے سکتی ہے جبکہ بھائی صاحب نصاب نہ ہو اور زکوٰۃ کا مستحق ہو بیوی کی ملکیت میں سونا ہو نے سے شوہر کی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔

سید مودودی فرماتے ہیں کہ جو لوگ یہ بات کہتے ھیں کہ " ساری دنیا کے مسلمانوں کی عید ایک دن ھونی چاھیے وہ تو بالکل ھی لغو بات کہتے ھیں ، کیونکہ تمام دنیا میں رویتِ ھلال کا لازمًا اور ھمیشہ ایک ھی دن ھونا ممکن نہیں ھے ۔۔۔ رھا کسی ملک یا کسی ملک کے ایک بڑے علاقے میں سب مسلمانوں کی ایک عید ھونے کا مسئلہ تو شریعت نے اس کو بھی لازم نہیں کیا ھے ۔۔۔۔۔۔۔ اگر یہ ھو سکے اور کسی ملک میں شرعی قواعد کے مطابق رویت کی شہادت اور اس کے اعلان کا انتظام کر دیا جائے تو اس کو اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ھے ، مگر شریعت کا یہ مطالبہ ھر گز نہیں ھے کہ ضرور ایسا ھی ھونا چاھیے ، اور نہ شریعت کی نگاہ میں یہ کوئی بُرائی ھے کہ مختلف علاقوں کی عید مختلف دنوں میں ھو ۔۔۔۔۔۔ خدا کا دین تمام انسانوں کے لیے ھے اور ھر زمانے کے لیے ھے ۔۔۔۔ آج لوگ ریڈیو ( یا ٹیلی ویژن ) کی موجودگی کی بنا پر یہ باتیں کر رھے ھیں کہ سب کی ایک عید ھونی چاھیے ، مگر آج سے 60-70 برس پہلے تک پورے برّ صغیر ھند تو درکنار ‘ اس کے کسی ایک صوبے میں بھی یہ ممکن نہ تھا کہ 29 رمضان کو عید کا چاند دیکھ لیے جانے کی اطلاع سب مسلمانوں تک پہنچ جاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر شریعت نے عید کی وحدت کو لازم کر دیا ھوتا تو پچھلی صدیوں میں مسلمان اس حکم پر آخر کیسے عمل کر سکتے تھے ؟ ( سیّد ابوالاعلیٰ مودودی رح ، کتاب الصّوم )

پردہ اسلام کا، مسلمان عورت سے مطالبہ اور اسلامی نظام و تہذیب کا تقا ضہ ہے۔ برقع اس کا ایک مقا می ثقا فتی رنگ ہے جو مختلف ثقا فتوں میں مختلف انداز کا حامل ہو سکتا ہے۔