December 13th, 2017 (1439ربيع الأول24)

عمومی سوالات

 

السلام علیکم ہم آپ کو جماعت اسلامی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کو جوائن کرنا کچھ مشکل نہیں۔ ہماری ویب سائٹ پر ممبرشپ فارم ہے آپ اُسے بھر دیں۔ membership form link http://jamaatwomen.org/page/be-our-member اس کے علاوہ اگر آپ اپنے علاقے کے حلقہ کو جوائن کرنا چاہتی ہیں تو آپ اپنا نام، پتہ اور فون نمبر ہمیں ارسال کردیں ہم آپ کا رابطہ آپ کے متعلقہ حلقہ سے کروادیں گے۔ اللہ آپ کو آپ کے نیک ارادوں میں استقامت دے۔ آمین

یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ ہم اِس وقت جس مقام پر کھڑے ہیں اسی مقام سے ہمیں آگے چلنا ھو گا اور جس منزل تک ہم جانا چاہتے ہیں اس کو واضح طور پر نگاہ کے سامنے رکھنا ھو گا تاکہ ہمارا ہر قدم اُسی منزل کی طرف اُٹھے ۔ خواہ ہم پسند کریں یا نہ کریں ، نقطۂ آغاز تو لامحالہ یہی انتخابات ہوں گے کیونکہ ہمارے ہاں اسی طریقے سے نظامِ حکومت تبدیل ہو سکتا ھے اور حکمران کو بھی بدلا جا سکتا ھے ۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس وقت ایسا موجود نہیں ھے جس سے ہم پُرامن طریقے سے نظامِ حکومت بدل سکیں اور حکومت چلانے والوں کا انتخاب کر سکیں ۔ اب ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے ہاں انتخابات میں دھونس ، دھوکے ، دھاندلی ، علاقائی یا مذہبی یا برادری کے تعصّبات ، جھوٹے پروپیگنڈے ، گندگی اُچھالنے ، ضمیر خریدنے ، جعلی ووٹ بُھگتانے اور بےایمانی سے انتخابی نتائج بدلنے کے غلط طریقے استعمال نہ ھو سکیں ۔ انتخابات دیانتدارانہ ہوں ۔ لوگوں کو اپنی آزاد مرضی سے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع دیا جائے ۔ پارٹیاں اور اشخاص جو بھی انتخابات میں کھڑے ہوں وہ معقول طریقے سے لوگوں کے سامنے اپنے اصول ، مقاصد اور پروگرام پیش کریں اور یہ بات اُن کی اپنی رائے پر چھوڑ دیں کہ وہ کسے پسند کرتے ہیں اور کسے پسند نہیں کرتے ۔ ہو سکتا ھے کہ پہلے انتخابات میں ہم عوام کے طرزِ فکر اور معیارِ انتخاب کو بدلنے میں پوری طرح کامیاب نہ ہو سکیں ۔ لیکن اگر انتخابی نظام درست رکھا جائے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب نظامِ حکومت پورے کا پورا ایماندار لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے گا ۔ اِس کے بعد پھر ہم نظامِ انتخاب پر نظر ثانی کر سکتے ہیں اور اس مثالی نظامِ انتخاب کو از سرِ نو قائم کرنے میں کامیاب ھو سکتے ہیں جو اسلامی طریقے کے عین مطابق ہو ۔ بہرحال آپ یک لخت جَست لگا کر اپنی انتہائی منزل تک نہیں پہنچ سکتے ۔ " ( تصریحات ۔ انٹرویو ریڈیو پاکستان ، 9 مارچ 1978 )

جماعت اسلامی کسی خاص مسلک سے وابستہ جماعت نہیں بلکہ مسلکی وابستگیوں سے بالاتر ہے کوئی بھی خاتون اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے جماعت اسلامی میں شامل ہو سکتی ہیں۔

حا می، کا رکن،رکن۔

جی ہاں!ہر وہ خا تون جو اس ملک میں اور پوری دنیا میں اللہ کے دین کے غلبہ کی خواہش رکھتی ہے، جما عت اسلامی میں شامل ہو سکتی ہے۔