May 19th, 2019 (1440رمضان15)

چودہ واؤ



چودہ واؤ

بواسطة Admin / 0 Comment

ہر دن کی آخری نماز ، عشاء کی نماز۔ اس کا اختتام ’’وتر‘‘ پر ہوتا ہے اور وتر میں دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے۔ 
دعائے قنوت کیا ہے؟ مرد مومن کی خودی کی بیداری۔ رات کو سونے سے پہلے خود کو ایک یادھانی۔ عہد بندگی کی تجدید۔ اس دعا میں چودہ ’’واؤ‘‘ ہیں اور ہر واؤ ایک عہد کی داستان ہے۔ زبان سے یہ ’’عہد وفا‘‘ روزانہ دہراتے ہیں اور سارا دن گزار کر اللہ میاں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ایسے اور ایسے ہیں مگر کبھی رک کر سوچتے ہین کہ جو کہہ رہے ہیں وہ کر بھی رہے ہیں؟ 
قرآن نے وعید کی ہے کہ جو کہتے ہو کرتے کیوں نہیں؟ ہم کہتے کیا ہیں اور کرتے کیا ہیں؟ سارا دن نہیں سوچا تو دعائے قنوت پڑھتے ہوئے ہی سوچ لیں کہ کہیں قیامت کے روز میرا شمار ان لوگوں میں نہ ہوجائے جن کے قول وعمل میں تضاد تھا۔ جو اس لیے راندہ درگاہ ہوں گے کہ اپنے ’’عہد‘‘ کا پاس نہ کرسکے۔
کیا کہتے ہیں اس دعائے قنوت میں ۔۔۔ آئیے دیکھتے ہیں!!
اللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ۔۔۔ الٰہی ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔
جو اللہ سے مدد چاہنے والے ہوتے ہیں بلاشبہ اللہ کی مدد ان کی پشت پر ہوتی ہے۔ وہ نہ کمزور ہوتے ہیں نہ ضعیف الاعتقاد۔پھر ان کو کسی داتا کے دربار پر مدد چاہنے اور مشکلات سے نکلنے کیلئے نہیں جانا پڑتا۔ وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے سب سے مضبوط سہارا تھام لیا ہے۔ ان کے نزدیک دنیا کے مادّی سہارے تار عنکبوت کی مانند بے حقیقت ہوجاتے ہیں۔
نماز کی ہر رکعت میں ہم سورۃ الفاتحہ پڑھتے ہیں اور اقرار کرتے ہین کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہر چند گھنٹے بعد جب ہم نماز کی نیت باندھتے ہیں تو اسی عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ کس شان کے ہوتے ہیں اس کے مون بندے۔۔۔!!
پہلا واؤ۔۔۔ ونستغفرک۔۔۔ اور ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں۔
استغفار کا حکم قرآن میں بار بار ملتا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو دن میں سو سو بار استغفار کیا کرتے تھے قرآن ان کو بھی بار بار استغفار کی تلقین کرتا ہے اور مومنوں کو اجتماعی استغفار کی دعوت دیتا ہے۔ استغفار طلب کرنا بندگی کی معراج ہے۔ انسان کو نیکیوں پر نخرہ نہیں ہوتا، کبر نہیں ہوتا، اپنے کیے پر یہ بھول نہیں جاتا بلکہ استغفار کرتا رہتا ہے کہ نہ معلوم دیدہ ونادانستہ کتنے گناہ ہوجاتے ہیں استغفار ان گناہوں کو جھاڑنے کا سبب ہے۔
ہم دن میں کتنی بار معافی مانگتے ہیں؟ اور اصل توبہ ’’توبۃ النصوح‘‘ ہے سچی توبہ، جس کے بعد گناہ کی طرف پلٹنے کا خیال بھی آگ میں جانے کے مترادف لگے۔ 
دعائے قنوت ہر شب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ’’مستغفرین بالاسحار‘‘ میں شامل ہوں۔ رات کے پچھلے پہر معافی مانگنے والے، جھکے رہنے والے، عاجزی طلب کرنے والے، جن کی مثال یوں ہوتی ہے کہ
پڑی اپنی خطاؤں پر جب نظر
پھر نظر میں کوئی برا نہ رہا
دوسرا واؤ۔۔۔
وؤؤمنُ بک۔۔۔اور ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔
ایمان ہی اصل زندگی ہے۔ بے ایمان زندگی ہی اصل روگ ہے خود سماج کیلئے بھی فرد کیلئے بھی۔ یہ ایمان ہی ہے جو مٹی کے پتلے کو اتنا بلند اٹھاتا ہے کہ
قہاری وغفاری وقدوسی وجبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
مسلمان جس کا نام ہے وہ اس روئے زمین پر رب رحمن کی صفات کا عکس ہوتا ہے۔ یہ چار عناصر اس کے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں اور اس کی شان یہ ہوتی ہے 
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
تیسرا واؤ۔۔۔
ونتوکل علیک۔۔۔ اور تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں
اس کارخانۂ قدرت میں اور کون ہے بھروسے کے لائق ہستی۔ توکل اعلیٰ ترین انسانی وصف ہے۔ بندہ مومن ہمیشہ متوکل ہوتا ہے۔ حرص وہوا میں گرفتار نہیں ہوتا۔ ’’ھل من مزید‘‘ کی طلب میں در در کی ٹھوکریں کھا کر رسوائے زمانہ نہیں ہوتا۔ اپنی انتہائی جدوجہد کا نتیجہ بھی اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ توکل کی یہ صفت اس کو ایک خوددار انسان بناتی ہے۔ وہ حرص وحسد سے دور رہتا ہے اس لیے کہ اس کا ایمان کامل ہوتا ہے کہ جو اس کیلئے بہتر ہے وہ اس کو عطا کیا گیا ہے اور رب کی بخشش اور عطا سے بہتر بھلا کیا ہوسکتا ہے۔
چوتھا واؤ۔۔۔
نُثنی علیک الخیر۔۔۔ اور تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں۔
اور تعریف صرف زبان سے تو نہیں کی جاتی۔ جب تک اس تعریف میں قلب کی سچائی شامل نہ ہو وہ حقیقی تعریف کے زمرے میں نہیں آتی اور اللہ سبحان وتعالیٰ کی تعریف تو اس کی شدید محبت ہے۔ ولذین امنو اشد حب للہ۔۔۔ اس کے چاہنے والے صرف محبت نہیں بلکہ شدید محبت رکھتے ہیں ، چار سو اس کے جلوتے دیکھتے ہیں۔ رات کی تنہا، سیاہ راتوں میں چپکے چپکے پکارتے ہیں۔ ربنا ماخلقت ھٰذا باطلا۔۔۔ جب زبان حمد کی خوگر ہوتو نفس اطاعت کا خوگر بن جاتا ہے۔ اٹھتے بیٹھتے لیٹے ہر حال میں ذکر، ہر لمحہ تعریف۔ اس کے سوا کوئی ہستی ہے ہی نہیں لائقِ تعریف۔ الحمد للّٰہ رب العالمین
پانچواں واؤ۔۔۔
ونشکرک ۔۔۔ اور تیرا شکر کرتے ہیں۔
جہاں شکر ہوتا ہے وہاں شکوہ کا کیا گزر۔ پوری کائنات ہر لحظہ اس کی حمد وثناء کے ساتھ اس کے ذکر وشکر میں مصروف ہے۔ 
رات کی تنہائی ہے، دعائے قنوت اپنے حواس خمسہ کی موجودگی میں اپنی زبان سے پڑھ رہے ہیں۔ دل میں جھانکیں سچ مچ شکر کی کیفیت ہے۔ پورا دن جو گزرا، کتنی بار شکر کیا اور کتنی بار شکوہ۔ اور شکر صرف زبان سے ادا ہونے والے الفاظ سے ادا نہیں ہوجاتا۔ شکر روئیے کا نام ہے۔ جہاں شکر ہوگا وہاں لازمی ’’صبر‘‘ بھی ہوگا۔ صبر اور شکر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہر رات دعائے قنوت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارا رویہ ہر حال میں شکر کا رویہ ہونا چاہیے۔ الحمدللہ علیٰ کل حال
چھٹا واؤ۔۔۔
وَلا نَکْفرک۔۔۔ اور تیری ناشکری نہیں کرتے۔
ناشکری، کفرانِ نعمت کے معنوں میں آتا ہے۔ شکر کریں تو شکر کی کوئی حد ہی نہیں ہے، کس کس بات پر شکر ادا کریں۔ اس نے اتنی بڑی کائنات ہماری چاکری پر لگا رکھی ہے۔ آسمان، بادل، ہوا، زمین، چاند ، سورج، ستارے، سیارے سب کچھ حضرت انسان کے لیے مسخر کردئیے۔ خود اپنے وجود پر نظر ڈالیں، کسی انسانی عضو کا حقیقی نعم البدل آج تک دریافت نہیں ہوسکا۔ اللہ کی کتنی عظیم الشان تخلیق ہے انسانی وجود اور رحم کے رشتے۔ مگر ناشکرا انسان نہ رب کی حمد پہچانتا ہے نہ اپنی معرفت حاصل کرتا ہے، ساری زندگی شکوے ہی کی نذر ہوجاتی ہے۔
ساتواں واؤ۔۔۔
ونَخْلَع ۔۔۔ اور الگ کرتے ہیں
آٹھواں واؤ۔۔۔
ونترُک من یَفْجُرک ۔۔۔ اور چھوڑ دیتے ہیں ہر اس شخص کو جو تیری نافرمانی کرے۔
ہماری ساری محبتوں کا مرکز ومحور تیری ذات ہے۔ ہم ہر اس شخص کو جو تیرا نافرمان ہو چھوڑ دیتے ہیں، علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ وہ دل جو ایمان سے لبریز ہو کبھی فساق وفجار کی محبت میں گرفتار نہیں ہوسکتا۔ یہ دلوں کے معاملے ہیں۔ یہاں پیمانے ہی مختلف ہیں۔ ہماری اولادوں میں جو ہماری نافرمان ہوں ہم ان کے لئے وہ جذبہ نہیں رکھتے جو فرمانبردار اولادوں کیلئے رکھتے ہیں۔ لیکن جو رب کی نافرمان ہوں ان کو ہم باغی نہیں گردانتے۔ جو ہمارے حقوق میں کمی کرے ہم اس کو معاف نہیں کرتے لیکن رب کے حقوق میں ڈنڈی مار جائے تو ہمارے ماتھے پر شک تک نہیں آتی۔ اسلام انسان کے لطیف احساسات کو مخاطب کرتا ہے کہ دل کے معاملات کی بھی باز پرس ہونا ہے۔
نواں واؤ۔۔۔
اللھُمّ ایّاک نعبد ولک نصلّی۔۔۔ اے اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی لیے نماز پڑھتے ہیں۔
عبادت کا عملی اظہار جو دن میں پانچ مرتبہ ہوتا ہے اس کی شکل نماز ہے۔ نماز جس کا قرآن مین سات سو مرتبہ ذکر ہے۔ دن میں پانچ بار جس کی ندا دی جاتی ہے کہ نماز کی طرف آؤ۔ گویا فلاح کی طرف آؤ، کامرانی کی طرف آؤ۔ بہت بدنصیب ہے وہ جس کو نماز کی توفیق نہیں ملی۔ جو پیشانی سجدوں کی عادی نہیں ہوگی روزِ حشر وہ سجدہ کرنا چاہے گی مگر اس کو اجازت نہ دی جائیگی کہ کیا دنیا میں تمہارے کانوں میں اذانوں کی آواز نہیں پڑتی تھی۔ دعائے قنوت کس قدر جامع دعا ہے کہ معاملات کا بھی عہد ہے اور عبادت کا بھی۔
دسواں واؤ۔۔۔
وَنسجدُ۔۔۔ اور سجدہ کرتے ہیں۔
نماز کے ساتھ سجدے کا الگ سے ذکر کیا گیا ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے اور سجدہ نماز کی معراج۔ سجدے میں رکھی ہوئی پیشانی خود اس بات کا اظہار ہے کہ یہ پیشانی کسی اور در پر جھکنا نہیں جانتی۔ انسان نے اپنی سب سے قیمتی متاع اپنی پیشانی، اپنا فخروغرور، اس ہستی کے سامنے جو کبر کی اصل حقدار ہے پیش کردیا۔ اس ایک ذات کو سجدہ کرنے والا دوسرے بے شمار سجدوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
گیارہواں واؤ۔۔۔
والیک نسعٰی۔۔۔ اور تیری طرف دوڑتے ہیں
یعنی ہماری بھاگ دوڑ کا مرکز ومحور تیری ذات ہے۔ تیری طرف دوڑتے ہیں اور تیری ہی خاطر زمین میں تیری خاطر گردش کرتے ہیں۔
میری زندگی کا مقصد ترے دین کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں، میں اسی لیے نمازی
اب ایک طرف دعائے قنوت میں ہم اللہ کے سامنے یہ گواہی پیش کررہے ہیں کہ ہماری سعی وجہد کا مرکز تیری ذات ہے اور دوسری طرف ہم اپنے معمولات زندگی کا جائزہ لیں کہ ہماری کتنے فیصد سعی وجہد راہ خدا میں ہے اور کتنی دنیا کی لذتوں کے حصول کیلئے ہے۔
بارھواں واؤ۔۔۔
وَنحفِدُ۔۔۔ اور خدمت کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔
یہ شہادت گہر الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
اللہ رب کریم نے امت وسط بنایا۔ مقصد وجود سمجھا کر شریعت کی پوری روشنی عطا فرمائی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے تئیس برس اپنے عمل سے گواہی دی کہ مسلمان ہونے کے کیا تقاضے ہیں۔ اللہ کیلئے سعی وجہد، اس کی زمین سے فتنہ وفساد کا خاتمہ۔ اس کے لیے مقدور بھر جدوجہد۔ اگر صرف عبادات کے ذریعے جنت کا حصول ممکن ہوتا تو آپؐ پوری زندگی غزوات وسرایہ میں نہ مصروف رہتے بلکہ اپنے اصحاب کو بھی عبادات اور درودووظائف کی ٹھنڈی سڑک سے جنت کی راہ دکھادیتے۔ لیکن آپؐ نے مسلسل جدوجہد کا پیغام دیا اپنے قول وعمل دونوں سے۔
دعائے قنوت میں ہم اس سعی وجہد کا عہد کرتے ہیں اور حقیقت حال یہ ہے کہ 
ہے طواف وحج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام
تیرھواں واؤ۔۔۔
ونرجُو رحمتک۔۔۔ اور ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں۔
کیوں کہ تیری زمین پر تیرے دین کے نفاذ کیلئے بے چین ہیں ، معاملات درست رکھتے ہیں، نظام عبادات پر کاربند ہیں، تیرے دین کی سرفرازی کیلئے اپنی بہترین صلاحتیں وقت اور مال صرف کرتے ہیں اس لیے ہمیں تیری رحمت کا آسرا ہے کہ تیرے پسندیدہ بندوں میں ہمارا نام بھی شامل ہوگا۔ درھقیقت آسرا ہی تیری رحمت کا ہے نہ کہ اپنے اعمال کا۔ ہمیں اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لے۔ ہمارے اعمال کی سمت نہ دیھ اس لیے کہ ہم تیری رحمتوں کی سمت دیکھتے ہیں۔
چودھواں اور آخری واؤ۔۔۔
وَنَخْشیٰ عذابک۔۔۔ اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔
تیرا عذاب ہے ہی ڈرنے کے قابل چیز۔ اصل خوف تو رب کی ناراضگی کا خوف ہے۔ اتنا پیارا رب جو نہ صرف پالنہار ہے بلکہ رزاق ہے، رحمن ورحیم ہے، جس کی رحمت نے ساری کائنات کو ڈھانپا ہوا ہے۔ اس کی عنایتوں اور نوازشوں کے بدلے میں ہم اس کی نافرمانی کریں، اس کی ناراضگی کی بھی پرواہ نہ کریں تو کیا یہ عبدیت کی شان ہے؟ اس کی بیشتر صفات اس کی شان رحمت پر دلیل ہیں۔ وہ غفور الرحیم ہے۔ بار بار وہ بتا چکا ہے کہ جہنم کا راستہ کون سا ہے اور جنت کی طرف جانے والی صراط مستقیم کون سی ہے۔ پھر بھی ہم جان بوجھ کر اس کے غضب کے راستوں کا انتخاب کریں تو اس کی ناراضگی بجا ہے۔ وہ نافرمانوں کا عذاب دے کر رہے گا جنہوں نے پورے شعور اور ڈھٹائی سے فسق اور سرکشی کے راستوں کا انتخاب کیا۔ اصل خوف اور ڈر اس کی ناراضگی کا ہونا چاہیے۔ 
تویہ ہے وہ دعائے قنوت جو ہر رارت ہم وتر کی تیسری رکعت میں پڑھتے ہیں۔ چودہ واؤ میں کتنے عہد ہم کرتے ہیں اور کتنے وفا کرتے ہیں۔ کیا ہماری زبان اور دل کے بیچ کوئی رابطہ ہوتا ہے، کیا ہمارے لاشعور میں کبھی دعائے قنوت ہمیں شرمندہ کرتی ہے کہ روز روز عہد کرتے ہو کہ تیری ناشکری نہیں کریں گے، تیرے نافرمانوں سے قلبی تعلق نہ رکھیں گے بلکہ ان کو فرمانبرداری کے راستوں پر لانے کی اپنی سی سعی کریں گے، اگر وہ ہمارے متعلقین میں سے ہیں، انسانوں ہی نہیں ان رسوم ورواج سے بھی لاتعلقی رکھیں گے جو تیری نافرمانی کے راستوں کی طرف لے جانے والے ہوں گے۔ روز رات کو ہاتھ باندھ کر ، قبلہ رخ ہوکر عہد کرتے ہیں کہ تیری راہ میں دوڑ دھوپ کریں گے، تیرے دین کی خدمت کریں گے۔ روز کہتے ہیں اور حالت شعور میں کہتے ہیں کہ صرف تیری رحمت کا آسرا رکھیں گے، تجھے ناراض کرنے والے اور عذاب الٰہی کو دعوت دینے والے کاموں سے گریز کریں گے۔ روزہ کہتے ہیں اور روز بھول جاتے ہیں۔ ہماری عبادتیں اسی لیے بے اثر ہوگئی ہیں کہ ہم بے سوچے سمجھے کہتے ہیں اور جو کہتے ہیں اس کا نہ شعوررکھتے ہیں نہ لاج۔ اے رب کائنات ہمارے لفظوں کو سچائی عطا کر اور انہیں عمل کے قالب میں ڈھال دے۔ 

                                                                                                                                                                             افشاں نوید


جواب چھوڑیں

.آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا