June 16th, 2024 (1445ذو الحجة9)

’’قبل اس کے کہ رمضان کوچ کرجائے........‘‘

رضوانہ قائد

سارا سال بھوک چھپاتا رہا جو لوگوں سے

آج وہ فخر سے بولے گا میرا روزہ ہے

انسانیت کی خود داری کی بلندیوں کوچھوتا ہوا یہ خوبصورت شعر آغازِ رمضان سے سوشل میڈیا پر گردش کرتا نظر آیا....ناظرین مختلف انداز سے اس شعر پر لائک ،کمنٹ اور شیئرنگ کے ذریعے شاید اپنے ذوق ایمانی کی تسکین کا سامان کرتے رہے۔ بظاہر یہ ہے تو فس بُک کی معمول کی ایک سرگرمی .....مگر دراصل یہ مسلمان کا شرفِ انسانیت ہے۔ انسان دوستی مسلمان کی شان ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا :

’’اے آدم کے بیٹے !میں بیمار ہوا تو تُو نے میری عیادت نہ کی۔‘‘

انسان کہے گا ‘‘ اے میرے رب !میں تیری کس طرح عیادت کرتا جب کہ تُو رب العالمین ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرمائے گا’’کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تو تُو نے اس کی عیادت نہ کی۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ۔‘‘

’’اے آدم کے بیٹے !میں نے تجھ سے کھانا مانگا، تو نے مجھے نہیں دیا۔‘‘

انسان کہے گا ’’اے میرے رب!میں تجھے کیسے کھانا دیتا جب کہ تو رب العالمین ہے۔‘‘

اللہ تعالی فرمائے گا’’کیا تجھے علم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے اسے نہ دیا ۔ کیا تجھے معلوم نہیں اگر تو اسے کھانا دیتا تو اسے میرے پاس پاتا۔‘‘

’’اے آدم کے بیٹے!میں نے تجھ سے پانی مانگا تو نے مجھے نہیں پلایا۔‘‘

انسان کہے گا ’’اے رب !میں تجھے کیسے پانی پلاتا جب کہ تو رب العالمین ہے۔‘‘

اللہ فرمائے گا ’’میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا مگر تُو نے اسے نہ پلایا کیا تجھے معلوم نہیں اگر تو اسے پانی پلاتا تو اسے میرے پاس پاتا ۔‘‘(مسلم :ابوہریرہؓ)

یہ حدیث نہایت دل سوزی سے رب العالمین کی اپنے بندوں کے ساتھ محبت وشفقت کی عکاسی کررہی ہے کہ آقا بندوں کی ضروریات کو اپنی ضروریات بتارہا ہے۔ حالاں کہ وہ بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حد درجہ رحم اس سے بھی ظاہر ہے کہ اس کے اسماء الحسنیٰ میں تقریباََ35 نام رحم وکرم کے مفہوم کے حامل ہیں۔ مثلاََ الرحمن ،الرحیم ۔الرزاق،الوہاب ،الوکیل ۔الحفیظ ،الکریم .......وغیرہ ۔ پھر چوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کواپنی صفات پَر تُودیکھنا چاہتا ہے تومختلف گناہوں کے جو کفارے رکھے گئے ہیں ،ان میں بھی زیادہ تر ایسے ہیں جن سے خود بندوں کو ہی فائدے پہنچ رہے ہیں۔ کہیں مسکینوں کو کھانا کھلانے، کہیں مسکینوں کوکپڑے پہنانے اور کہیں غلام\قید سے آزاد کرانے کا حکم ہے۔ یہاں تک کہ دونوں اسلامی تہواروں عیدالفطر اور عید الااضحیٰ میں بھی نمازِ عید کی ادائیگی کے ساتھ ہی فطرانے اور قربانی کی صورت میں بندوں کو ہی فائدہ پہنچانے کا اہتمام ہے.......ماہِ رمضان ،جس میں ایک قرض کی ادائیگی دیگرمہینوں کے70فرض ادا کرنے کے برابر ہے، اس کو’’شہرِ مواسا‘‘فرمایا گیا۔  یعنی اپنے جیسے انسانوں، اللہ کے بندوں کے ساتھ ہمدردی وغمگساری کا مہینہ۔ نماز کے بعد سب سے بڑی عبادت اللہ کی راہ میں بندوں کی مشکل کشائی کے لیے مال خرچ کرنا ہے۔ نبی کریم تمام انسانوں سے  بڑھ کر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے تھے.........رمضان میں تو آپ فیاضی اور سخاوت میں بارش لانے والی ہوا کی مانند ہو جایا کرتے تھے۔(بخاری ،مسلم ،ابن،عباس)

اللہ کی رہ میں خرچ کرنا ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ روزے میں بھوک، پیاس اور دکھ درد میں گزرنے والے لمحات کا احساس پیدا کرتے ہیں .........یہی احساس ہمارے اندر اپنے جیسے بندوں کے لیے مدد و ہمدردی کے وہ جذبات پیدا کرتا ہے کہ جس کی آبیاری کے لیے پورے قرآن میں جابجا محبت آمیز اور حوصلہ افزا احکام موجود ہیں:

’’نیکی کے دروازے کی کنجی یہ کہ نیکی کو نہیں پہنچ سکتے ،جب تک اپنا دل پسند مال رشتے داروں ،مسکینوں ،ضرورت مندوں اور غلاموں پرخرچ نہ کیا جائے ۔‘‘

’’آخرت میں نجات کا ذریعہ ‘کہ جوکچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کیا جائے، قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں کوئی خرید و فروخت نہ ہوگی۔‘‘

’’اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو ایسی تجارت کہا گیا ہے کہ جس میں کوئی خسارہ نہیں ۔‘‘

اسی طرح پورے قرآن میں جگہ جگہ ،اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو، قصوروں سے درگزر، مغفرت، رنج و خوف سے نجات، مال میں برکت، آخرت میں بڑی کامیابی اور جنت میں اعلیٰ مقام کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ احتیاطیں بھی باور کرادیں کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بچنا اجتماعی ہلاکت کا موجب ہے، اس خرچ کو دوسرے کی دل آزاری اور دکھ سے پاک ہونا چاہیے، ریاکاری اور احساس جتا کر ضائع کرنے کے بجائے ضرورت مندوں کا حق سمجھ کرادا کیا جانا چاہیے۔

قرآن کے یہ سارے احکام انفاق کا عنوان لیے ہمارے اردگرد مجسم صورت میں موجود ہیں۔ سوشل میڈیا نے ان تصویروں کو ہماری آنکھوں کے سامنے گویا ہمہ وقت ہی متحرک کر رکھا ہے۔ نیکیوں کے موسمِ بہار میں ان تصویروں سے اپنی ابدی جنت کا حسین البم تیار کرنا۔ یقیناََ آپ کے اختیار میں ہے۔

*اللہ نے آپ کو رزق کی نعمت سے سرفرازکر رکھا ہے............کچرے کے ڈھیرسے چند لقموں کے متلاشی بھوکوں کوکھانا کھلانا، آپ کے لیے جنت کی دشوار گزار گھاٹی کوعبور کرنا آسان بنا سکتا ہے۔

*ماشاء اللہ آپ خوش لباس ہیں .......غریب آبادیوں، کچی بستیوں میں میلے کچیلے پھٹے پرانے کپڑوں والے بے کسوں کی باوقار ستر پوشی آپ کو جنت میں اطلس ودیبا کی نفیس وحسین پوشاک میں ملبوس کرسکتی ہے۔

*الحمداللہ ،آپ بہتر صحت کے مالک ہیں ناساز طبع پر اچھے علاج کے متحمل ہیں.......تکلیف دہ بیماریوں میں علاج کے لیے سسکتے، ایڑیاں رگڑتے مجبور مریضوں کی داد رسی آپ کو جنت میں نرم و دبیز مسندوں پر ہمیشہ کے عیش و آرام اور سلامتی کا مستحق بناسکتی ہے۔

*سبحان اللہ، آپ آسودہ حال ہیں، باسہولت رہائش گاہوں کے مکین ہیں اپنے اردگرد، بے گھروں اور تنگ دستوں کی معاونت آپ کو جنت کے ہیرے یاقوت اور موتیوں سے مزین محلات اور بالاخانوں کا ابدی مقیم بنا سکتی ہے۔

*اللہ کا احسان کہ آپ سونے چاندی اور جائداد سے نوازے گئے ہیں، روزمرہ کی چھوٹی ضروریاتِ زندگی کے لیے ترسرستے محرومیوں کے شکار اپنے بھائی بندوں کی اعانت کے لیے آپ کی زکٰوۃ آپ کے پر سکون وجود کو آخرت میں آگ کے چرکوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

رمضان کے با برکت لمحات کی رخصتی کا وقت قریب آن لگا ہے......پچھلے رمضان میں ہمارے ساتھ چلنے پھرنے والے کتنے ہی لوگ اپنی مہلتِ عمل کے خاتمے کے ساتھ ،آج ’’اہلاِ قبور‘‘ہیں.......... ہمارے اور آپ کے پاس ابھی مہلتِ عمل ہے.........مگر معلوم نہیں کب تک ؟جہنم سے نجات اور جنت کے حصول کی کوششوں کے لیے آئندہ رمضان نصیب ہوتا ہے کہ نہیں .........اللہ کے بندوں کی مدد کے ذریعے اسلام، امّتِ مسلمہ اور آپ کا مستقبل آپ کا منتظر ہے۔