ثمینہ سعید
رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت تھی۔ آپ ﷺ ایسے معاشرے میں تشریف لائے جہاں عورت کو اس کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا۔ بیٹی کی پیدائش باعثِ ندامت سمجھی جاتی، عورت کو وراثت سے محروم رکھا جاتا اور اسے معاشرے میں ایک باوقار فرد کی حیثیت حاصل نہ تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے عورت کو محض حقوق ہی نہیں دیے بلکہ اسے عزت، وقار، ذمہ داری اور مقصدِ زندگی عطا کیا۔ آپ ﷺ کی تربیت سے ایسی خواتین تیار ہوئیں جنہوں نے ایمان، علم، دعوت، تربیت، ہجرت، قربانی، خدمتِ خلق اور معاشرتی اصلاح کے میدان میں تاریخ رقم کی۔
قرآنِ مجید نے مرد و عورت دونوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فرمایا:
"بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں... اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔"
) سورۃ الاحزاب: 35(
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں ایمان، تقویٰ اور عملِ صالح کی بنیاد پر اجر کا تعلق جنس سے نہیں بلکہ کردار سے ہے۔
رسول اللہ ﷺ خواتین کے ساتھ انتہائی محبت، شفقت اور احترام کا معاملہ فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔"
آپ ﷺ کی اپنی زندگی اس ارشاد کی عملی تفسیر تھی۔ آپ ﷺ ازواجِ مطہراتؓ کے ساتھ حسنِ معاشرت فرماتے، ان کی بات سنتے، ان کے جذبات کا خیال رکھتے اور اہم مواقع پر ان سے مشورہ بھی فرماتے۔
یہ اس معاشرے کے لیے ایک عظیم انقلاب تھا جہاں عورت کو کم تر سمجھا جاتا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے بیٹی کے مقام کو غیر معمولی بلندی عطا فرمائی۔ آپ ﷺ اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ سے بے پناہ محبت فرماتے۔ جب وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ ﷺ ان کے احترام میں کھڑے ہوتے اور انہیں اپنے پاس بٹھاتے۔
رسول اللہ ﷺ نے بیٹی کو بوجھ نہیں بلکہ رحمت قرار دیا۔ آپ ﷺ نے بیٹیوں کی اچھی تربیت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا۔
اس طرح آپ ﷺ نے معاشرے کی سوچ بدل دی اور بیٹی کو عزت، محبت اور تحفظ عطا کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے خواتین کی تعلیم و تربیت کو خصوصی اہمیت دی۔ صحابیاتؓ دینی مسائل سیکھنے کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتیں، سوالات کرتیں اور اپنے مسائل کا حل دریافت کرتیں۔
حضرت عائشہؓ اس حوالے سے سب سے روشن مثال ہیں۔ آپؓ علم و فقہ میں بلند مقام پر فائز ہوئیں۔ بڑے بڑے صحابہؓ آپؓ سے دینی مسائل دریافت کرتے تھے۔ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خانگی زندگی، عبادات، معاملات اور اخلاق کے بے شمار پہلو امت تک پہنچائے۔
یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام نے عورت کو علم حاصل کرنے، سمجھنے اور علم آگے منتقل کرنے کا حق اور ذمہ داری دی۔
رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے ابتدائی دور میں حضرت خدیجہؓ کا کردار تاریخِ اسلام کا روشن باب ہے۔ جب پہلی وحی کے بعد رسول اللہ ﷺ گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کو تسلی دی اور آپ ﷺ کی تصدیق کی۔
انہوں نے اپنی دولت، وقت، محبت اور صلاحیتوں کو دین کی نصرت کے لیے وقف کر دیا۔ شعبِ ابی طالب کی مشکلات ہوں یا مکہ کے مظالم، حضرت خدیجہؓ ہر مرحلے پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہیں۔
ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ عورت اپنے ایمان، مال، صلاحیت اور کردار کے ذریعے دین کی عظیم خدمت انجام دے سکتی ہے۔
عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی۔ قرآنِ مجید نے بیعتِ نساء کا ذکر کیا ہے۔ اس بیعت میں ایمان، اطاعت، پاکیزگی اور نیکی کی پابندی کا عہد شامل تھا۔
یہ اس امر کی علامت ہے کہ خواتین محض خاموش تماشائی نہیں تھیں بلکہ وہ اپنے ایمان اور کردار کی خود ذمہ دار تھیں اور اسلامی معاشرے کی تعمیر میں شریک تھیں۔
عہدِ نبوی کی خواتین نے دین کی خاطر ہجرت کی اور بے شمار قربانیاں دیں۔ انہوں نے اپنے گھر، وطن، مال اور بعض اوقات اپنے عزیزوں کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کو ترجیح دی۔
حضرت اسماءؓ، حضرت ام سلمہؓ اور دیگر مہاجر خواتین کی زندگیاں ایمان، صبر اور قربانی کی روشن مثالیں ہیں۔
ہجرت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ صحابیاتؓ اپنے ایمان کے معاملے میں باشعور، مضبوط ارادے والی اور مقصد کے لیے قربانی دینے والی خواتین تھیں۔
عہدِ نبوی ﷺ میں مسلمان خواتین نے ضرورت کے وقت میدانِ جنگ میں بھی مختلف خدمات انجام دیں۔ وہ زخمیوں کی تیمارداری کرتیں، پانی پہنچاتیں، مجاہدین کی مدد کرتیں اور ان کے حوصلے بلند کرتیں۔
غزوۂ اُحد کے موقع پر حضرت عائشہؓ اور حضرت امِ سلیمؓ پانی پہنچانے اور زخمیوں کی خدمت کرنے والی خواتین میں شامل تھیں۔
اس دور کی سب سے نمایاں مثال حضرت اُمِّ عمارہ نسیبہ بنت کعبؓ ہیں۔ غزوۂ اُحد میں جب مسلمانوں کو سخت صورتِ حال کا سامنا ہوا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دفاع میں غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے تلوار اور تیر کے ذریعے دفاع کیا اور متعدد زخم برداشت کیے۔
یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ جب امت کو ضرورت پیش آئی تو خواتین نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق ذمہ داری ادا کی۔
اسی طرح خواتین زخمیوں کی خدمت، پانی کی فراہمی اور دیگر ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ حضرت رُفیدہؓ کا نام بھی خواتین کی طبی خدمات کے حوالے سے نمایاں طور پر آتا ہے۔
ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ نبوی کی عورت صرف گھر تک محدود کردار نہیں رکھتی تھی بلکہ ضرورت کے وقت امت کی اجتماعی خدمت میں بھی شریک ہوتی تھی۔
رسول اللہ ﷺ خواتین کی رائے کو بھی اہمیت دیتے تھے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت ام سلمہؓ کا مشورہ اس کی ایک روشن مثال ہے۔
جب صحابہؓ شدید ذہنی کیفیت میں تھے اور قربانی و حلق کے معاملے میں فوری طور پر عمل نہیں کر پا رہے تھے تو حضرت ام سلمہؓ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک حکیمانہ مشورہ دیا۔ آپ ﷺ نے اس پر عمل کیا اور صحابہؓ نے بھی آپ ﷺ کی پیروی کی۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عورت کی بصیرت اور حکمت کو اسلامی معاشرے میں اہمیت حاصل تھی۔
صحابیاتؓ نے دعوتِ دین کے کام میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے گھروں، خاندانوں اور معاشرے میں اسلام کی تعلیمات کو پھیلایا۔ ان کی زندگیاں اپنے کردار کے ذریعے دعوت کا ذریعہ تھیں۔
حضرت عائشہؓ کا علمی کردار، حضرت خدیجہؓ کی نصرت، حضرت اسماءؓ کی استقامت اور دیگر صحابیاتؓ کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ خواتین امت کی فکری و اخلاقی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اسلام نے خدمتِ خلق کو بڑی اہمیت دی اور عہدِ نبوی کی خواتین نے اس میدان میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ بیماروں کی عیادت، زخمیوں کی خدمت، ضرورت مندوں کی مدد، مجاہدین کے لیے ضروری اشیاء کی فراہمی اور خاندان کی تربیت جیسے کاموں میں خواتین شریک رہیں۔
یہ خدمت محض ایک گھریلو ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ تھی۔
حضرت عائشہؓ عہدِ نبوی کی خواتین میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے بے شمار پہلو امت تک پہنچائے۔ آپؓ سے بڑی تعداد میں احادیث مروی ہیں اور صحابہؓ و تابعینؒ آپؓ سے علمی استفادہ کرتے تھے۔
آپؓ کی علمی زندگی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ ایک مسلمان عورت علم حاصل بھی کر سکتی ہے، علمی مسائل میں رہنمائی بھی دے سکتی ہے اور آنے والی نسلوں کی فکری تربیت بھی کر سکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے خواتین کو معاشرے کی اصلاح میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کی تربیت دی۔ عورت گھر کی پہلی مربی ہے۔ وہ بچوں کی شخصیت سازی کرتی ہے، نسلوں کی تربیت کرتی ہے اور خاندان کے اخلاقی ماحول کو تشکیل دیتی ہے۔
اسی لیے صحابیاتؓ نے اپنے گھروں کو ایمان، علم اور تربیت کے مراکز بنایا۔ ان کے کردار نے ایسی نسل تیار کی جس نے دنیا میں اسلام کا پیغام پہنچایا۔
آج کی مسلمان عورت کے لیے عہدِ نبوی کی خواتین محض تاریخی شخصیات نہیں بلکہ عملی نمونہ ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ عورت بیک وقت باوقار، باحیا، علم دوست، باشعور، خاندان کی ذمہ دار اور معاشرے کی اصلاح میں مؤثر کردار ادا کرنے والی ہو سکتی ہے۔
آج عورت کے سامنے حالات مختلف ہیں۔ اس کے میدان بھی مختلف ہیں۔ آج تعلیم، میڈیا، دعوت، سماجی خدمت، تربیت، رفاہِ عامہ اور معاشرتی اصلاح کے میدان موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صحابیاتؓ کے ایمان، حیا، قربانی، استقامت، علم اور جذبۂ خدمت کو اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق زندہ کیا جائے۔
سیرتِ رسول ﷺ ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ عورت صرف ایک خاص دائرے میں محدود ہو جائے، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری، صلاحیت اور حالات کے مطابق اللہ کی رضا کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
اس کا پہلا میدان اس کا ایمان اور کردار ہے، پھر اس کا گھر اور خاندان، اس کے بعد اس کی صلاحیت کے مطابق معاشرے کی اصلاح اور خدمت۔
ہمیں ایسی مسلمان عورت کی ضرورت ہے جو علم رکھتی ہو مگر حیا سے محروم نہ ہو، جو معاشرے میں فعال ہو مگر اپنی اسلامی شناخت نہ کھوئے، جو اپنے حقوق سے واقف ہو مگر اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھے، جو اپنی اولاد کی تربیت کرے اور ساتھ ہی معاشرے کی اصلاح کے لیے بھی اپنا حصہ ادا کرے۔
اختتامیہ
رسول اللہ ﷺ نے عورت کو عزت، تحفظ، وقار اور مقصد عطا کیا۔ آپ ﷺ کے عہد میں خواتین نے ثابت کیا کہ وہ ایمان، علم، دعوت، ہجرت، قربانی، مشاورت، خدمت اور ضرورت کے وقت دفاع جیسے مختلف میدانوں میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
حضرت خدیجہؓ کی وفا و قربانی، حضرت عائشہؓ کا علم، حضرت فاطمہؓ کی پاکیزگی و استقامت، حضرت ام سلمہؓ کی بصیرت، حضرت اسماءؓ کی استقامت اور حضرت اُمِّ عمارہؓ کی شجاعت—یہ سب مل کر مسلمان عورت کے کردار کی ایک مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔
آج ہمیں عورت کے مقام کے لیے مغربی تہذیب کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس سیرتِ رسول ﷺ اور صحابیاتؓ کی روشن زندگیاں موجود ہیں۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم سیرت کو محض پڑھیں نہیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
عہدِ نبوی کی خواتین نے تاریخ بنائی تھی؛ آج کی مسلمان خواتین کو اسی ایمان، کردار، علم اور قربانی کے ساتھ اپنے عہد کی تاریخ بنانی ہے۔
