February 1st, 2026 (1447شعبان13)

قائد ِ اعظم محمد علی جناح: خاموش فیصلوں سے تاریخ بنانے والا رہنما

محمد جمیل احمد خان

قائد ِ اعظم محمد علی جناح برصغیر کی سیاسی تاریخ کی وہ نابغہ ٔ روزگار شخصیت ہیں جن کی جدوجہد محض جلسوں، تقاریر یا نعروں تک محدود نہیں تھی بلکہ خاموش فیصلوں، گہری سوچ اور غیر متزلزل اصولوں پر قائم تھی۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بڑے انقلاب اکثر شور کے بغیر آتے ہیں، مگر ان کے اثرات صدیوں تک قائم رہتے ہیں۔ محمد علی جناح نے ایک ایسے دور میں قیادت سنبھالی جب مسلمان سیاسی، تعلیمی اور معاشی طور پر کمزور تھے، مگر آپ نے انہیں خود اعتمادی، شعور اور سمت عطا کی۔

25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے محمد علی جناح بچپن ہی سے سنجیدہ مزاج کے حامل تھے۔ ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ آپ بچپن میں روایتی کھیل کود میں کم اور مطالعے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ بمبئی میں تعلیم کے دوران بھی آپ کا رجحان ہمیشہ نظم و ضبط اور خود انحصاری کی طرف رہا۔ انگلستان میں قیام کے دوران آپ نے نہ صرف قانون کی تعلیم حاصل کی بلکہ برطانوی پارلیمانی نظام کا گہرا مشاہدہ بھی کیا، جو بعد میں آپ کی آئینی سیاست کی بنیاد بنا۔ وطن واپسی پر بطور وکیل آپ کی شہرت تیزی سے پھیلی۔ ایک کم مشہور واقعہ یہ ہے کہ ایک مقدمے میں جب جج نے آپ کی دلیل ادھوری سنے بغیر فیصلہ سنانے کا ارادہ ظاہر کیا تو آپ نے نہایت وقار سے کہا کہ ’’می لارڈ، اگر میری بات سنے بغیر فیصلہ ہونا ہے تو میں عدالت میں پیش ہی نہیں ہوتا‘‘۔ جج نے معذرت کے ساتھ مکمل سماعت کی، اور مقدمہ جناح کے حق میں گیا۔ یہ واقعہ آپ کے خوددار مزاج اور قانون پر کامل یقین کو ظاہر کرتا ہے۔

سیاسی زندگی کے آغاز میں آپ ہندو مسلم اتحاد کے سب سے بڑے داعی سمجھے جاتے تھے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ لکھنؤ پیکٹ کی کامیابی کے بعد آپ کو ’’ہندو مسلم اتحاد کا سفیر‘‘ کہا گیا، مگر بعد میں جب آپ نے کانگریس کی قیادت میں بڑھتی ہوئی تنگ نظری اور اکثریتی سوچ کو محسوس کیا تو آپ نے خاموشی سے خود کو الگ کرلیا۔ یہ علٰیحدگی کسی جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ برسوں کے مشاہدے اور تجربے کا حاصل تھی۔ قائد ِ اعظم کی نجی زندگی میں سادگی اور ضبط نمایاں تھا۔ ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ شدید بیماری کے باوجود آپ اکثر اپنے ڈاکٹروں کی ہدایت کے خلاف طویل فائلیں خود پڑھتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ’’قوم کی فائلیں میرے آرام سے زیادہ اہم ہیں‘‘۔ قیامِ پاکستان سے قبل کے آخری برسوں میں آپ ٹی بی جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے، مگر اس بیماری کو آپ نے نہ عوام پر ظاہر ہونے دیا اور نہ ہی سیاسی کمزوری بننے دیا۔

1937ء کے انتخابات کے بعد کانگریس کی وزارتوں کے رویے نے مسلمانوں کو جس طرح مایوس کیا، اس دور میں قائد ِ اعظم نے بہت محتاط انداز اپنایا۔ ایک کم مشہور مگر اہم واقعہ یہ ہے کہ کئی مسلم رہنما فوری علٰیحدگی اور سخت مؤقف چاہتے تھے، مگر جناح نے کہا کہ ’’ہمیں جذبات نہیں، تاریخ کو قائل کرنا ہے‘‘۔ یہی سوچ بعد میں قراردادِ لاہور کی صورت میں ایک مضبوط، آئینی اور ناقابل ِ تردید مطالبہ بن کر سامنے آئی۔ قیامِ پاکستان کے قریب آتے ہوئے مذاکرات کے دوران آپ نے کئی بار ذاتی انا کو قومی مفاد پر قربان کیا۔ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ ایک ملاقات میں، جب انہیں وقت کی شدید کمی کے باوجود فیصلے پر مجبور کیا جا رہا تھا، جناح نے مختصر وقفہ مانگا تاکہ قانونی پہلوؤں پر دوبارہ نظر ڈال سکیں۔ یہ غیر معمولی احتیاط ایک ایسے شخص کی علامت تھی جو تاریخ کو جلدبازی میں نہیں لکھنا چاہتا تھا۔

قیامِ پاکستان کے بعد بطور گورنر جنرل آپ کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ تھا۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ آپ نے گورنر جنرل ہاؤس کے کئی کمروں کو غیر استعمال شدہ رکھنے کا حکم دیا اور سرکاری اخراجات میں کمی پر زور دیا۔ آپ نے ایک بار فائل پر لکھا کہ ’’یہ خزانہ عوام کی امانت ہے، میری آسائش کے لیے نہیں‘‘۔ قائد ِ اعظم محمد علی جناح کی عظمت اس بات میں نہیں کہ انہوں نے ایک ملک بنایا، بلکہ اس بات میں ہے کہ انہوں نے ایک قوم کو سوچنا، فیصلہ کرنا اور اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا سکھایا۔ آپ کی قیادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خاموش استقامت، اصولی سیاست اور کردار کی مضبوطی ہی اصل طاقت ہوتی ہے۔ تاریخ میں بہت سے مقرر آئے، بہت سے نعرے لگے، مگر قائد ِ اعظم وہ رہنما تھے جنہوں نے کم بول کر زیادہ بدل دیا۔

                                                                                                                                                                   بشکریہ جسارت