February 23rd, 2024 (1445شعبان13)

پاکستان کا قومی ترانہ

پاکستان کا قومی ترانہ

بچوں، آپ کو تو معلوم ہی ہوگا کہ ہر ملک کا ایک قومی ترانہ ہوتا ہے جو اس ملک کے لئے اعزاز ہوتا ہے، قومی ترانوں میں زیادہ تر ملک کی تعریف و توصیف کی جاتی ہے اسکی خوبصورتی اور خصوصیات کو بیان کیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ جب ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو پاکستان وجود میں آیا تو اس وقت پاکستان کا کوئی قومی ترانہ نہیں تھا۔ اس وقت جب پاکستان کا پرچم لہرایا گیا تو وہ پاکستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ لہرایا گیا۔ اس کے بعد یہ طے کیا گیا کہ پاکستان کا بھی ایک قومی ترانہ ہونا چاہئے۔

  • اس کے بعد قومی ترانے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے عبد الرحمٰن غنی کے سربراہی میں قومی ترانہ لکھنے کا مقابلہ جنوبی افریقہ کے ایک صوبہ ٹرانسوال میں رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ جس میں جیتنے والے شاعر اور موسیقار دونوں کو پانچ ہزار روپے انعام کے طور پر دینے کی پیشکش کی گئی۔ اس مقابلے میں تقریباََ سات سو تیئس شاعروں نے حصہ لیا۔

  • جس کے بعد حکومتِ پاکستان نے ایک کمیٹی بنائی تا کہ وہ بہترین ترانے کو منتخب کر سکیں۔

  • اس کمیٹی نے ۷۲۳ ترانوں میں سے حفیظ جالندھری کے ترانے کو منتخب کر لیا۔

  • جس کے بعد حفیظ جالندھری ہمارے قومی شاعر بن گئے۔

  • قومی ترانے کی موسیقی احمد جی چھاگلہ نے کمپوز کی۔ 

  • جس کے بعد ہمارا قومی ترانہ سرکاری طور پر ۱۳ اگست ۱۹۵۴ کو ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔

  • پاکستان کا قومی ترانہ گیارہ مشہور موسیقار نے گایا جن میں احمد راشدی، شمیم راؤ، کوکب جہان، راشدہ بیگم، نجم آرا، نسیمہ شاہین، زوار حسین، اختر عباس، غلام دستگیر، انور ظہیراور اختر وارثی شامل تھے۔