April 21st, 2024 (1445شوال12)

پانچ فروری : اہلِ کشمیر سے یک جہتی کا دن

عبدالہادی احمد

 

پاکستان میں ہر سال۵فروری کو پاکستان کی مختلف سیاسی پارٹیاں اور خودحکومت بھی کشمیری عوام کی تحریک آزادی سے اظہار یک جہتی کے لیے جلسے جلوس، ریلیاں اور دوسرے پروگرام تشکیل دیتی ہیں۔ اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں۔ٹی وی پر دستاویزی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ یہ دن پہلی مرتبہ۵فروری ۱۹۹۰ ء کو منایا گیاتھا۔ اس سے صرف چند ماہ پہلے مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لیے جدوجہد شروع ہوئی تھی۔یہ وہ دن تھے کہ جب مجاہدین آزادی جوق درجوق کنٹرول لائن سے آزاد خطے میں داخل ہو رہے تھے۔ یہ وہ نوجوان تھے جو ہندستانی فوج کے آئے دن کے مظالم سے تنگ آچکے تھے۔ انھیں پاکستان کے حکمرانوں سے بھی مایوسی ہی ملی۔

بے نظیر بھٹو نے۱۹۸۸ء میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھائیں اور جموں وکشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ علانیہ بے وفائی کی ۔ کشمیریوں کے قاتل راجیو گاندھی کا اسلام آباد میں زبردست استقبال کیا گیااور اس کے راستے سے کشمیر نام کے بورڈ تک ہٹوا دیے گئے،تاکہ اس کے ماتھے پر بل نہ آ جائے۔ بھارت کے ظلم و ستم کے باعث سرحد پار کر کے پاکستان آنے والے بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند کر دی گئی۔مسلمانانِ کشمیر کے لیے یہ سخت مایوسی کے دن ہوتے اگر کشمیر کی حریت پسند قوم بالخصوص نوجوانوں کو امید اور حوصلے کا پیغام دینے کے لیے جماعتِ اسلامی موجود نہ ہوتی۔یہ ۲۲ برس پہلے کی بات ہے ۔کشمیری حریت پسندجنگ بندی لائن عبور کر کے جیسے ہی آزاد کشمیر پہنچے، جماعت اسلامی انھیں سینے سے لگانے کو موجود تھی۔

اس موقعے پر اس وقت کے امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمدنے کشمیر کی حریت پسند قوم کو حوصلے اور یقین کا پیغام دینے کے لیے اعلان کیا کہ ۵ فروری۱۹۹۰ء کا دن کشمیری قوم سے یک جہتی کے دن کے طور پر منایا جائے گا۔ حکومت کی مخالفت کے باوجود عوام نے یہ دن بڑے جوش و خروش سے منایا۔اس سے کشمیر کے کونے کونے میں جہاد کا غلغلہ ہو گیا۔یہ جہاد ہی کی برکت تھی کہ مسئلہ کشمیر جو ایک بھولی بسری داستان بن چکا تھاایک بارپھر بین الاقوامی ایشو بن گیا۔

کنٹرول لائن کے اُس پار بھی جماعت اسلامی ہی تھی کہ جس کے تعلیمی اداروں سے پڑھ کر وہ نوجوان نکلے جنھوں نے ڈیڑھ دو صدی کی مجبور و محکوم مسلمان قوم کو آزادی کی راہ دکھائی۔کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اس بجھی ہوئی خاکستر میں چھپی چنگاریاںیوں شعلہ فشانی شروع کر دیں گی۔ افغان جہاد سے دنیا بھر میں مسلمانوں کا مورال بلند ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیری قوم میں بھی آزادی کی تڑپ اورعزم و حوصلہ پیدا ہو ا ۔افغان جہاد نسبتاً آسان تھا ،پاکستان اور ایران نے افغانستان کی آدھی آبادی کو پنا ہ دے رکھی تھی اور ساری دنیاکی سیاسی،سفارتی ، مالی اور جدید ترین اسلحے کی امداد ان کو حاصل تھی۔کشمیریوں کے لیے تو جہاد جوے شیر لانے کے مترادف تھا۔بدی کے محور تین ممالک بھارت، امریکا اور اسرائیل مل کر ان کے خلاف سازشوں کے جال بن رہے تھے۔ دنیا بھر میں ان کاواحد وکیل ___پاکستان بھی ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ وہ ۱۴،۱۵ ہزار فٹ کے بلندو بالا برفانی پہاڑی سلسلے اوربھارت کی سفاک سپاہ کے مورچوں کے بیچوں بیچ سفر کرتے تھے۔ آفرین ہے ان کے حوصلوں کو،پھر بھی وہ سر بکف ہو کرنکلتے اور بھارتی استعمارکا مقابلہ کرتے رہے۔

۵ فروری... پاکستانی قوم سے ایک درد مندانہ اپیل تھی کہ وہ مظلوم اور مقہور قوم جس کا ساتھ دینے کے لیے کوئی تیار نہیں،پاکستان کے عوام اس کی حمایت اور پشتی بانی کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔جماعت اسلامی پاکستان کی یہ پکارایسی پر تاثیر ثابت ہوئی کہ ہر شہر اور ہر قریے سے لبیک کی صدائیں آنے لگیں ۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ یہ پکار آن کی آن میں پوری پاکستانی قوم کے اس طرح یک آواز ہو جانے کا سبب بن جائے گی ۔پاکستانی عوام کے دلوں میں کشمیریوں کے لیے محبت اور ہمدردی ہمیشہ سے موج زن رہی ہے۔تاہم حکومت اور سیاسی قائدین اپنے مفادات سے وابستہ رہتے ہیں۔ لیکن۵فروری کی آنچ تیز ہوتی رہی، عوامی جوش وخروش بڑھتا رہا،سیاسی لیڈر بھی اس کو محسوس کیے بغیرنہ رہے۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اور بعد میں ہر آنے والی حکومت اس دن کو منانے لگی اور آج بھی یہ عمل جاری و ساری ہے۔ ۵فروری آج ایک قومی دن بن چکا ہے،اس میں مرکزی کردارآج بھی جماعت اسلامی ہی اداکرتی ہے۔اب۵فروری کوسرکاری سطح پر چھٹی ہو تی ہے۔پاکستانی عوام اپنی حکومتوں کی بے حسی کے باوجوداہل کشمیر کو اپنی محبت ،اخلاص اوروفا کا یقین دلاتے ہیں۔اس موقعے پر پاکستان اور آزادکشمیر میں سیاسی اور دینی جماعتوں کی طرف سے پاکستان کو کشمیر کے ساتھ ملانے والے راستوں پر یک جہتی کی علامت کے طور پر انسانی زنجیر بنائی جاتی ہے۔

پاکستانیوں کی اہل کشمیر سے یک جہتی کا اظہارمحض روایتی نوعیت کی ہمدردی نہیں،بلکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔اہلِ پاکستان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مسئلہ کشمیر دو مملکتوں کے درمیان کوئی سرحدی تنازع نہیں بلکہ کشمیریوں کی ’حق خودارادیت‘ کی جدوجہد پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ ۵ فروری نے کشمیریوں کے حوصلوں میں بھی اضافہ کیا۔بھارت کے لیے ہر بستی اوربستی کا ہر گھر مورچہ بن گیا۔ مجاہدین سے مقابلے کے لیے بھارت نے اپنی ۷ لاکھ سے زائد فوج کو کشمیر میں تعینات کر دیا۔اس جدوجہد کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری اور ان کے پاکستانی انصارشہید ہوئے، اس سے زائد زخمی ہوئے اور ہزاروں کو ٹارچر سیلوں میں ناقابل بیان اذیتیں دی گئیں اور سیکڑوں خواتین کی بے حرمتی کی گئی ۔ جبروتشدد کرنے والوں نے اذیتوں اور موت سے ڈرانے کی بہت کوشش کی،مگرکشمیریوں کو ان کی اِیمانی توانائی نے موت سے نبرد آزما ہونے کی جرات عطا کی ۔ اللہ کی راہ میں آنے والی موت میں خوف نہیں لذت ہوتی ہے، اور جذبۂ ایمانی کا کیف اس لذّت کو مزید نکھارتا ہے۔ اہل کشمیر اب اس لذّت کے خوگر ہو چکے ہیں۔ وہ آج حق خودارادیت کی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے استحکام کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔

کشمیرکی حریت پسند قوم نے گذشتہ ۲۲ برس سے نہ صرف تحریک آزادی کے جذبے کو ماند نہیں پڑنے دیا بلکہ اسے بحسن وخوبی اپنی چوتھی نسل کو بھی منتقل کردیا ہے۔کشمیری نوجوانوں کی سرفروشی کی اس تحریک نے ایک بار پھر سری نگر سے دلّی اور واشنگٹن کے ایوانوں کو لرزا دیا ہے۔ ۱۷جولائی کوبی بی سی اْردو کی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ شائع کی گئی جس میں احتجاجی تحریک میں شامل چند نوجوانوں سے بھارتی فوج پر پتھر برسانے پر رائے لی گئی ۔مائسمہ بازارکے رہنے والے ایک ۱۵سالہ نوجوان ماجد نے بتایاکہ حالیہ تحریک کے دوران اس کے قریبی دوست ۱۷برس کے ابرارکو اس کی آنکھوں کے سامنے گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ ابرار نے ماجد کی گود میں دم توڑا ، اس کے بعد ماجد نے پڑھائی ترک کر دی اور اس تحریک میں شریک ہو گیا۔

بھارت جسے دنیا کی ’سب سے بڑی جمہوریت‘ اور ’سیکولر‘ ملک ہونے کا دعویٰ ہے کشمیر کے مسئلے پر جمہوریت اور سیکولرازم کے تمام تر اصولوں کو پس پشت ڈال رہا ہے۔ کشمیرکو آزادی دینے سے انکار اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی بھارت کے لیے کلنک کا ٹیکا ہے۔ وہ کشمیریوں کو ان کا پیدایشی حق دینے کے لیے کسی طرح تیار نہیں۔ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جنگ کو ’دہشت گردی‘ کہتا، جب کہ خود بھارت انسانیت کو پامال کر رہا ہے۔

نائن الیون کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں کشمیر کی پالیسی کو بھارت کی خاطر تبدیل کر کے تحریک آزادی کشمیر کو شدیدنقصان پہنچایا گیا ۔مشرف نے اقوام متحدہ کی قرارداد وں سے انحراف کی پیش کش کر ڈالی اور تقسیم کشمیر کے فارمولے بھی پیش کیے۔کنٹرول لائن پر کشمیریوں کی نقل وحرکت روک دی گئی اوربھارت کوغیر قانونی باڑ لگا نے کی اجازت دے دی ۔اس طرح مجاہدین آزادی کو ہاتھ پاؤں باندھ کر دشمن کے آگے ڈال دیاگیا۔

۲۰۰۸ء میں شرائن بورڈ کے معاملے میں تحریک آزادی نے نئی کروٹ لی ،نوجوانوں کے ہاتھوں میں گن کے بجاے پتھر آگئے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی امرناتھ یاترا کے منتظم ادارے شری امرناتھ شرائن بورڈ کی طرف سے زمینوں پر غیر قانونی قبضے کی کوشش تنازعے کاباعث بن گئی۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر آگئے۔اس کے نتیجے میں باہمی اختلافات کا شکار آزادی پسند قائدین متحد ہوگئے۔بھارت کے غاصبانہ قبضے سے نجات کے لیے تحریک میں اچانک شدت آگئی ۔بھارتی فوج کی گولیوں سے ان گنت نوجوان شہید ہوئے جن میں پیپلز لیگ کے سربراہ شیخ عبدالعزیز بھی شامل تھے۔اس کے باوجود سڑکوں پر نعرے بلند ہوتے رہے: ’’بھارتیو! کشمیر چھوڑ دو‘‘۔ گذشتہ برس جون میں ایک بار پھر تحریک میں شدت آئی۔کئی ماہ تک پوری وادی میں کرفیو نافذ رہا ،۱۱۵ نوجوان فوج کی گولیوں کا نشانہ بن گئے، کاروبار زندگی معطل ہوا ،مگر تحریک وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی رہی۔سب کا ایک ہی نعرہ ہے: ’’بھارتیو! کشمیر چھوڑ دو‘‘ اور’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ‘‘۔ بھارتی یوم آزادی کی تقریب کے دوران وزیراعلیٰ عمر عبداللہ پر جوتا پھینکنے کا واقعہ اہل کشمیر کی نفرت کا اظہار ہے۔اس سے کٹھ پتلی حکمرانوں اور بھارتی ریاست کی دلالی اور غلامی کرنے والوں کے خلاف کشمیر کی نوجوان نسل کی نفرت اور غیظ وغضب کا اظہار ہو تا ہے۔

آزاد کشمیر کو بیس کیمپ کہا گیا تھا ،لیکن بدقسمتی سے اسے مظفرآباد کی کرسی کا ’ریس کیمپ‘ بنادیاگیاہے۔کشمیر میں آزادی کی تحریک عروج پر ہے،لیکن آزاد کشمیر کے سیاست دان آج بھی موجودہ استحصالی نظام کے کل پرزے بنے ہوئے ہیں۔ مفاد پرست طبقے کے ہاتھوں اس خطے میں ادارے تباہ حال اورمفلوج ہوچکے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اس مرتبہ ایسی قیادت کو ووٹ دیں جو آزاد کشمیر کو واقعی بیس کیمپ بنائے اور آزادی کے لیے جدوجہد میں اپنا حصہ ادا کرے۔

موجودہ انتفاضہ میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ ریاست جموں و کشمیر کاایک ہی لیڈر ہے اور وہ ہے...سید علی شاہ گیلانی۔بھارتی میڈیا انھیں نظر انداز کرنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ بدقسمتی سے گیلانی صاحب کے ساتھ پاکستانی میڈیا بھی انصاف نہیں کرتااورکشمیر کے قائد کو ان کا جائز حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ ۲۰۱۰ء میں کشمیر میں جو بے مثال تحریک چلی، اس میں علی گیلانی کا مرکزی کردار تھااور آج بھی ہے۔یہ کم ظلم نہیں کہ اس تحریک کو اس کے نظریے اور اس کے قائد سے کاٹ کر دکھایا جارہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر سے آنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان کا میڈیا اس عظیم عوامی طوفان سے بے خبر کیوں ہے؟ پاکستان میں بھی لوگوں کے سامنے حقائق مسخ کر کے پیش کیے جاتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں جو لوگ دیانت دار ہیں وہ کیوں کشمیرکو فراموش کیے بیٹھے ہیں؟

نائن الیون کا بھوت اپنی موت آپ مر چکا ہے ۔اب ہمارے حکمران کیوں بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں!!آزاد کشمیر کے مفاد پرست سیاست دانوں کی طرح قومی سیاست دان بھی کشمیرسے لاتعلق نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب تو کشمیری بچوں کے سامنے بھارت لرزتا کانپتا نظر آتا ہے۔ ابابیلیں اپنی چونچوں میں کنکر لے کرہاتھی والوں پر پل پڑی ہیں۔عنقریب ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیں گی۔ دوسری جانب افغانستان میں بھی مجاہدین نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کا بھر کس نکا ل کر رکھ دیاہے۔ عالمی استعمارکو ہر محاذ پر شکست ہو رہی ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی دنیا بھر میں مسلمانوں کو فتح و نصرت کی خوش خبری ملے گی ۔