June 28th, 2022 (1443ذو القعدة28)

مسئلہ کشمیرکا حل جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا ضامن

سینیٹر سراج الحق

امیر جماعت اسلامی پاکستان
حکومت کی اعلان کردہ26 تا2022 قومی سلامتی پالیسی میں ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان کشمیر سے متعلق اپنی پوزیشن پر قائم ہے اور وہ کشمیر کے تنازع کے منصفانہ حل کا مطالبہ کرتا رہے گا۔ ایک ایسا حل جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔‘‘اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریس نے بھی اپنے تازہ ترین بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے گا یہ خوش آئند ہے مگر اصل ضرورت ان بیانات پر عمل کرنے کی ہے ۔ مسئلہ کشمیر گزشتہ 75سال سے جنوبی ایشیا ء کے امن کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے ۔پورا خطہ بارود کے ایک ڈھیر پر ہے ،ذراسی چنگاری اس کو ایک لمحہ میں جلا کرراکھ کرسکتی ہے لیکن آگ کو دیوتا سمجھ کر اس کی پوجا کرنے والا مودی خطے کو جنگ کی آگ کے شعلوں کے حوالے کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اہل کشمیر75 سال سے پاکستان کی تکمیل، سا لمیت اور بقا کی جنگ لڑ رہے ہیںمگرہمارے حکمران ہر دوچار سال بعد ایک پالیسی بیان دے کر اسے بھلا بیٹھتے ہیں ۔ موجودہ حکومت میں بھی خطاب اورٹویٹ کیے اور خط لکھے جارہے ہیں مگر عملاً کچھ نہیں کیا جارہا ۔
بانی پاکستان قائد اعظم ؒ نے کشمیرکو پاکستان کی شہہ رگ قراردیاتھا مگر 75سال سے ملک پر مسلط حکمرانوں نے کشمیر کی آزادی کے بلند و بانگ دعوئوں اور وعدوں کے باوجود ہمیشہ قوم کو مایوس کیا۔ مودی حکومت نے 29ماہ قبل کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کردیاتھا اور اسی دن سے کشمیر میں مکمل لاک ڈائون ہے ۔ہر گھر پر ایک فوجی بندوق تانے کھڑا ہے ،بازارویران اور مارکیٹیں بندہیں۔ہر طرف خوف کے سائے ہیں اور سراسیمگی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ،تعلیمی اداروں اور ہسپتالوںپر فوج کا قبضہ ہے ۔ ساری کشمیر قیادت جیلوں میں قید ہے یا گھروں پر نظر بند ہے ۔قائد حریت سید علی گیلانی علیہ الرحمہ کا جنازہ فوج کی نگرانی اور رات کے اندھیر ے میں پڑھا کر انہیں زبردستی حیدر پورہ کے قبرستان میں دفن کردیا گیا۔ معیشت تباہ ہوگئی ہے ۔کھیتوں اور کھلیانوں میں فصلیں اور باغات اجاڑ دیئے گئے ہیں۔ ہر روز لوگوں کو گھروں سے اٹھالیا جاتا ہے اور زمین دوزفوجی ٹارچرسیلوں اور عقوبت خانوں میں انہیں بدترین تشدد اور اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،اب تک لاکھوں کشمیریوں کو آزادی کے مطالبے کی پاداش میں شہید کردیا گیا ہے ۔مائوں بہنوں بیٹیوں کی عزت پامال اور تارتار ہیں ۔ان 29ماہ میں 18ہزارسے زائد کشمیری نوجوانوں کو کشمیر میں قائم فوجی ٹارچر سیلوں سے بھارت کی جیلوں میں منتقل کیا جاچکا ہے اور کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کیلئے لاکھوں ہندوئوں کو جن میں اکثریت شیوسینا،آرایس ایس اوربی جے پی کے مسلم دشمنی میں اندھے بدمعاشوں اور غنڈوں کی ہے ۔کشمیری زبان کی بجائے ہندی کو دفتری زبان بنانے کا ٹوٹیفیکشن جاری کردیا گیاہے ۔بھارت کشمیر سے آنے والے دریائوں پر بندباندھ کر ان کا رخ موڑ رہا ہے جس سے پاکستان کے دریاخشک اورزمینیں بنجر ہوجائیں گی اور ملک ایک صحرا کا منظر پیش کرے گا لیکن اس سب کے باوجود پاکستان خاموش ہے ، حکمرانوں کی غفلت اورلاپرواہی کی وجہ سے کشمیر میں جاری مظالم پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں نے مجرمانہ خاموشی ا ختیار کررکھی ہے ۔ 5اگست 2019کو کشمیر کو بھارت کا حصہ قراردینے کے بعد سے مودی نے نہ صرف کشمیر میں بلکہ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کررکھا ہے ۔ جماعت اسلامی مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ہم تحریک آزادی ٔ کشمیر کی پشتیبانی جاری رکھیں گے ۔!
کشمیر کی آزادی کے لیے آخری گولی اور آخری سانس تک لڑنے کا ا علان کرنے والوں نے ساڑھے تین سال میں ایک قدم بھی نہیں اٹھایا ۔حکومت کی ہر حرکت مشکو ک ہو گئی ۔ حکومت کا فرض تھاکہ پانچ اگست کے بھارتی اقدام کے بعد قومی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر مسئلہ کشمیر پر مشترکہ لائحہ عمل بناتی اور اس پر عملدرآمد کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتی ۔ کشمیری اور پاکستانی عوام حکومت کی طرف سے جہاد کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں،چاہئے تو یہ تھا کہ اقوام متحدہ سے واپسی پر وزیراعظم آزادی کشمیر کا واضح روڈ میپ دیتے ، مگر ٹیپو سلطان کے راستہ پر چلنے کا نعرہ لگانے والے وزیراعظم 27 ستمبر کی تقریر کے بعدسے چپ سادھ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور اقوام متحدہ کی تقریر کے الفاظ انہیں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔ حکومت قومی قیادت کے ساتھ مل بیٹھ کر فیصلہ کرے کہ مودی کے اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو ناکام بنانے اور کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے نجات دلانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
کشمیر اس وقت چاروں طرف سے محاصرے اور دنیا کی بڑی جیل کا منظر پیش کر رہاہے ۔ کشمیر کو جیل خانہ بنانے میں پاکستان کے حکمرانوں کا بھی ہاتھ ہے ۔ بھارت کو ایل او سی پر باڑ لگانے کی اجازت پرویز مشرف نے دی ۔ امریکہ میں ایک سیاہ فام پولیس کے ہاتھوں قتل ہوتاہے تو پورا امریکہ اٹھ کھڑا ہوتاہے مگر کشمیر میں ہرروز قتل عام کے باوجود کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ اسلام آباد سنگ مرمر کا قبرستان بن چکاہے یہاں بڑے بڑے لوگ رہتے ہیں مگر ان کی سوچ محدود اور غیر سنجیدہ ہے ۔ آٹھ ماہ تک کشمیر کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں تھا ۔ پہلے فخر امام کو کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور جب انہوںنے کام شروع کیا تو ان کو بدل دیاگیا ۔ آج تک پاکستانی حکمرانوں کی ایک ہی پالیسی رہی ہے ،یہ بڑے بڑے نعرے لگاتے ہیں اور پھر ہر بات اور وعدے کو بھول جاتے ہیں ۔ عمران خان نے اقوام متحدہ میں تقریر کرنے کے بعد واپس آ کر جنرل گریسی کی پالیسی پر چلتے ہوئے اعلان کیا کہ جو کشمیر کی طرف جائے گا وہ پاکستان کا غدار ہوگا ۔ حکومت جو اچھل کود کر رہی ہے یہ کشمیر کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ قوم کو دھوکہ دینے کے لیے ہے ۔ اس حکومت کے آنے کے بعد معیشت تباہ اور معاشی نظام درہم برہم ہوگیاہے جس سے آزادیٔ کشمیر کی تحریک کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے ۔ افغان قوم نے جرأت کا مظاہرہ کیا چالیس ممالک کی افواج نیٹو اور امریکی فوج کو شکست دی اور بلآخر امریکہ کوگھٹنے ٹیکنے اور شکست تسلیم کرنا پڑی جبکہ ہماری حکومت مصلحتوں اور بزدلی کے اندھیروں میں گم ہے ۔ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے بھارت سلامتی کونسل کا رکن بنا۔ کشمیر کی آزادی کے لیے غیرت اور جرأت مند قیادت کی ضرورت ہے مگر ان حکمرانوں کی صفوں میں کوئی محمود غزنوی ، سلطان ٹیپو اور محمد بن قاسم نظر نہیں آرہا۔سابق وزیراعظم آزاد کشمیر وزیراعظم پاکستان کے سامنے رو پڑے تھے کہ ہم کب تک اپنے معصوم بچوںاور جوانوں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے ۔ صدر آزاد کشمیر حکمرانوں کے رویے سے مایوس ہیں ۔ اسلام آباد کے بنگلوں میں بیٹھ کر حکمرانی کرنے والوں کے دل میں کشمیریوں کا درد ہوتا تو چار سالہ معصوم بچے اور اس کے نانا کی تصویر ان کی غیرت اور ایمان کو جگانے کیلئے کافی تھی ۔کشمیری پاکستان کی محبت اور آزادی کے لیے اپنی جانیں اور عصمتیں قربان کر رہے ہیں ۔ مائوں کے سامنے ان کے معصوم جگر گوشوں اور نوجوان بیٹوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جاتا ہے اور بھائیوں کے سامنے ان کی مائوں اور بہنوں کی عصمت دری کی جاتی ہے ۔ معصوم بچے دودھ نہ ملنے کی وجہ سے روتے اور بلکتے ہیں ۔ مودی نے بابری مسجد کو رام مندر اور کشمیر کو بھارت کاحصہ بنانے کے دو وعدے پورے کردیے اور اب وہ آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کی باتیں کر رہاہے جبکہ ہمارے حکمرانوں نے قوم سے کیا گیا کوئی ایک وعدہ پورا نہیں کیا۔
چار نسلوں سے کشمیریوں کا استحصال ہورہاہے ۔ ہمارے حکمران قدم بقدم پیچھے ہٹ رہے ہیں اور کوئی اقدام کرنے کے بجائے تقریریں کر رہے اور محض دکھلاوے کیلئے پالیسیاں بنا رہے ہیں ۔ ہم جنگ نہیں چاہتے مگر کشمیر میں اور ایل او سی پر بھارت نے جنگ برپا کررکھی ہے اور یہ جنگ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے ۔ حکمران دنیا کو بتانے کی بجائے بزدلوں کی طرح اسے چھپا رہے ہیں ۔ جس قوم نے جہاد سے پہلو تہی کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و خوار کردیا ۔ حکومت جہادکا اعلان کرے پوری قوم اس کی آواز پر لبیک کہے گی ۔ حکمران کوتو سچ بولنے کی توفیق نہیں ۔ سچ یہ ہے کہ بائیس کروڑ پاکستانی عوام اور ڈیڑھ کروڑ کشمیری اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اب وقت آگیاہے کہ یہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہو گی ۔
قوم نے فیصلہ کیا ہے کہ حکمرانوں کی بے حسی اور کشمیر سے لاتعلقی کے باوجود کشمیر کی آزادی کی تحریک جاری رہے گی ۔ ہمارا اب بھی مطالبہ ہے کہ کشمیر کے یک نکاتی ایجنڈے پر اوآئی سی کا اجلاس اسلام آباد میں بلایا جائے ۔ خاموشی کو توڑا اور دنیا کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا جائے ۔ جب تک آپ دشمن کو دوست سمجھتے رہیں گے ، نقصان اٹھائیں گے ۔ قرار دادیں کوئی راستہ نہیں ۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سینکڑوں قرار دادیں پاس کر چکی ہے جس پر بھارت ٹس سے مس نہیں ہوا۔ اب قراردادوں سے بات بہت آگے بڑھ چکی ہے ،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرار دادیں فرار کی راہیں ثابت ہوئی ہیں ۔ حکومت نے بہت وقت ضائع کردیا اب اسے مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے پاس اب زیادہ وقت نہیں رہا ۔