August 18th, 2026 (1448ربيع الأول4)

قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستان، مگر عوام کیوں بدحال؟

ڈاکٹر حمیرا طارق
پاکستان قدرت نے جسے بے پناہ قدرتی وسائل، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور باصلاحیت انسانی سرمایہ عطا کیا ہے، آج اسی ملک کا عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس وسائل کتنے ہیں، سوال یہ ہے کہ ان وسائل سے عوام کو کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے؟ ایک طرف قدرت نے ہمیں معدنیات، بندرگاہوں، زراعت اور نوجوان افرادی قوت کی دولت دی ہے اور دوسری طرف عام آدمی آٹا، بجلی، پٹرول، تعلیم اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہے۔
پاکستان اپنے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں، بلوچستان کا ریکوڈک، سندھ کا تھر کول، خیبر پختونخوا کے قیمتی پتھر اور کھیوڑہ کی نمک کی کانیں پاکستان کو عالمی تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کا اہم مرکز بنا سکتی ہیں۔
مگر المیہ یہ ہے کہ بے پناہ امکانات رکھنے والا پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی اور صنعتی پیداوار میں سست روی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ یہ حالات ناقابلِ اصلاح نہیں۔ اگر حکمران طبقہ اخلاص، دیانت اور درست ترجیحات کے ساتھ فیصلے کرے تو ملک کی سمت تبدیل کی جا سکتی ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی عوامی مشکلات میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہیں۔ دستیاب تازہ نرخوں کے مطابق جولائی کے آخر میں پٹرول 335.18 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 383.46 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا تھا۔  ایندھن کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات کرایوں، زراعت، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں تک پہنچتے ہیں۔
پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کے بعد ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ، زرعی مشینری اور ٹیوب ویل کے اخراجات میں اضافے سے کسان بھی متاثر ہوتا ہے۔ یوں ایندھن کی قیمت کا ایک فیصلہ پورے معاشی نظام میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا کر دیتا ہے۔
اس سارے بحران کا سب سے گہرا اثر گھر کی معیشت پر پڑتا ہے، اور گھر کی معیشت سنبھالنے والی خواتین اس کا بوجھ سب سے زیادہ محسوس کرتی ہیں۔ گھریلو بجٹ محدود ہو جائے تو ماں سب سے پہلے اپنی ضروریات کم کرتی ہے تاکہ بچوں کی تعلیم، خوراک اور دیگر ضروریات پوری کی جا سکیں۔ نتیجتاً خواتین کی صحت، بچوں کی تعلیم اور خاندان کے مجموعی معیارِ زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تعلیمی اخراجات میں مسلسل اضافہ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بچوں کی اعلیٰ تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ بالخصوص طالبات کی تعلیم کئی گھرانوں میں اخراجات کم کرنے کی پہلی زد بن جاتی ہے۔ یہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر ہماری بیٹیاں تعلیم سے محروم ہوں گی تو پاکستان اپنی نصف آبادی کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا۔
دوسری طرف ہمارا نوجوان روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہے۔ پاکستان کا ذہین، باصلاحیت اور محنتی نوجوان اگر اپنے وطن میں مواقع نہ ملنے کے باعث دوسرے ملکوں کی معیشتوں کو مضبوط کرے تو یہ ہمارے لیے ایک بڑا انسانی اور معاشی نقصان ہے۔ اس Brain Drain کے نتیجے میں خاندان بچھڑتے ہیں، والدین اپنے بچوں سے دور ہوتے ہیں اور ملک اپنی قیمتی انسانی صلاحیت سے محروم رہ جاتا ہے۔
مہنگائی صرف جیب پر اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ خاندان کے سکون کو بھی متاثر کرتی ہے۔ روزمرہ اخراجات پورے کرنے کی پریشانی، آمدنی اور اخراجات میں بڑھتا ہوا فرق اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی گھریلو تناؤ میں اضافہ کرتی ہے۔ اس لیے معاشی بحران کو محض اعداد و شمار کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں؛ اس کے انسانی اور معاشرتی اثرات بھی نہایت گہرے ہیں۔
آٹا، چینی، گھی، دال، دودھ، سبزیاں، پھل، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں جب عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہونے لگیں تو معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے۔ خواتین، بچے، بزرگ، مزدور، پنشنرز اور کم آمدنی والے خاندان اس بحران کا سب سے بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں۔ لاکھوں خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی ترجیحات مسلسل محدود کرنے پر مجبور ہیں۔
اسلام کا معاشی نظام: عدل، دیانت اور متوازن گردشِ دولت
اسلام نے معاشی زندگی کے لیے واضح اصول دیے ہیں۔ تجارت میں دیانت، ناپ تول میں انصاف، فضول خرچی سے اجتناب، دولت کی منصفانہ گردش اور کمزور طبقات کے حقوق اسلامی معاشی نظام کے بنیادی اصول ہیں۔
قرآنِ مجید ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے بارے میں خبردار کرتا ہے:
"تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔"
(المطففین: 1-3)
اسی طرح ارشاد ہے:
"کھاؤ اور پیو، لیکن فضول خرچی نہ کرو۔"
(الاعراف: 31)
اسلام دولت کو چند ہاتھوں میں محدود رکھنے کے بجائے اس کی منصفانہ گردش چاہتا ہے:
"تاکہ دولت تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتی رہے۔"
(الحشر: 7)
اور معاشرے کے محروم افراد کے حقوق بھی واضح کیے گئے:
"اور ان کے مالوں میں مانگنے والے اور محروم کا حق مقرر ہے۔"
(الذاریات: 19)
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اسلامی معاشی نظام کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلامی ریاست کا مقصد محض امن قائم کرنا نہیں بلکہ ایسا معاشی نظام قائم کرنا بھی ہے جس میں ظلم، استحصال اور دولت کا ارتکاز نہ ہو اور معاشرے کے افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
ان کے نزدیک سود، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ایسے عوامل ہیں جو معاشی ناانصافی کو بڑھاتے ہیں، جبکہ زکوٰۃ، صدقات اور وراثت کا نظام دولت کی منصفانہ تقسیم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دولت کمانا اسلام میں جائز ہے، مگر اس کے حصول اور استعمال دونوں کو اخلاقی اور شرعی حدود کا پابند بنایا گیا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اسلامی جمہوریہ پاکستان، جس کی آئینی بنیاد قراردادِ مقاصد سے جڑی ہوئی ہے، جہاں آبادی کی اکثریت مسلمان ہے، جہاں قدرتی وسائل کی فراوانی اور محنتی و ذہین عوام موجود ہیں، وہاں عوام مسلسل مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، مہنگے ایندھن، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار کیوں ہیں؟
ملک کے حساس حصوں میں دہشت گردی کے واقعات، بم دھماکے، اغوا اور بدامنی بھی قومی زندگی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ قوم کے محافظ بھی قربانیاں دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک محفوظ، خوشحال اور پُرامن پاکستان محض نعروں سے نہیں بلکہ درست حکمرانی، مضبوط معیشت اور انصاف پر مبنی نظام سے ہی وجود میں آ سکتا ہے۔
ہمیں ایسے افراد کو اقتدار میں لانے کی ضرورت ہے جو امین، دیانت دار اور جواب دہ ہوں؛ جو اقتدار کو ذاتی مفاد نہیں بلکہ عوامی خدمت کی ذمہ داری سمجھیں۔ پاکستان کے قدرتی وسائل پر سب سے پہلا حق اس کے عوام کا ہے۔ وسائل سے حاصل ہونے والی دولت ایسی پالیسیوں کے ذریعے عوامی بہبود پر خرچ ہونی چاہیے جن سے ہر طبقہ یکساں طور پر مستفید ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ معاشی استحکام کے بغیر تہذیبی استحکام بھی ممکن نہیں۔ آج پاکستان بیک وقت معاشی اور تہذیبی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ان بحرانوں سے نکلنے کے لیے ہمیں ایسی حکمرانی درکار ہے جو انصاف، امانت، دیانت اور عوامی فلاح کو اپنی ترجیح بنائے۔
اہلِ اقتدار کے لیے چند بنیادی تجاویز
اول: عوام پر ٹیکسوں اور لیویز کا بوجھ کم کرنے کے ساتھ حکومتی اور غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی کی جائے۔
دوم: عوام کو محض اعلانات نہیں بلکہ حقیقی اور فوری ریلیف دیا جائے۔
سوم: مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کرپشن، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور معاشی بدعنوانی کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔
چہارم: پاکستان کے قدرتی وسائل سے بھرپور اور شفاف انداز میں استفادہ کیا جائے اور ان کے ثمرات عوام تک پہنچائے جائیں۔
پنجم: کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کو معاشی پالیسیوں میں خصوصی ترجیح دی جائے۔
ششم: خواتین، بیواؤں، بزرگوں اور مستحق خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جائے۔
آخر میں بات صرف مہنگائی کے خلاف احتجاج کی نہیں، بلکہ ایک منصفانہ معاشی نظام کے قیام کی ہے۔ قوم کو اپنے مسائل سے باخبر ہونا ہوگا، ان کے اسباب کو سمجھنا ہوگا اور ظلم و ناانصافی کے خلاف آئینی، جمہوری اور پُرامن انداز میں متحد ہو کر آواز بلند کرنا ہوگی۔
پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، صلاحیت بھی، نوجوان بھی اور ایک عظیم نظریاتی بنیاد بھی۔ کمی صرف اس امر کی ہے کہ ان تمام قوتوں کو دیانت دار قیادت، درست سمت اور عوامی فلاح پر مبنی نظام کے تحت یکجا کیا جائے۔
ایک ایسا پاکستان جہاں قدرتی وسائل چند ہاتھوں کی دولت نہیں بلکہ پوری قوم کی امانت ہوں؛ جہاں معیشت کا مقصد صرف اعداد و شمار کی بہتری نہیں بلکہ انسان کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہو؛ اور جہاں ریاست کا معیارِ کامیابی یہ ہو کہ اس کا کمزور ترین شہری کس قدر محفوظ، باعزت اور مطمئن زندگی گزار رہا ہے۔
یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا، اور اسی پاکستان کی تعمیر کے لیے ہمیں محض شکایت نہیں بلکہ کردار، جدوجہد، اتحاد اور درست نظام کا انتخاب کرنا ہوگا-