ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
جولائی 2026 میں انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میںترکیہ کی خاتون اول امینے ایردوان نے دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت کی شریکِ حیات کا استقبال کیا، گول میز کانفرنس کی میزبانی کی، اور"Children, Technology and Securityکے موضوع پر افتتاحی خطاب کیا۔اس اجلاس میں ان کا حجاب کے ساتھ عالمی سفارتی اسٹیج پر موجود ہونا کئی مبصرین کے نزدیک ایک غیر معمولی علامتی تبدیلی تھی، کیونکہ2004 میں استنبول میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے زمانے میں حجاب کی وجہ سے ان کی سرکاری سفارتی سرگرمیوں پر عملی پابندیاں اور محدودیتیں موجود تھیں۔2026 میں وہ اسی نیٹو اتحاد کے اجلاس میں میزبان ملک کی خاتون اول کے طور پر عالمی رہنماؤں کی شریکِ حیات کی میزبانی کر رہی تھیں۔ اس منظر نے کئی اہم پیغامات دیے،ترکی کے اندریہ ان خواتین کے لیے ایک با وقار علامت بن گیاجنہوں نے 1980 سے 2013 تک حجاب کی وجہ سے تعلیم اور ملازمت میں مشکلات برداشت کیں۔عالمی سفارت کاری میںپہلی مرتبہ نیٹو جیسے مغربی دفاعی اتحاد کی ایک بڑی میزبانی میں ایک باحجاب خاتون اول نے مرکزی سفارتی کردار ادا کیا، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ مذہبی شناخت اور بین الاقوامی سفارت کاری ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ڈیجیٹل دور کا پیغام یہ تھا کہ امینہ ایردوان نے اپنی تقریر میں حجاب پر گفتگو نہیں کی بلکہ بچوں کے تحفظ، مصنوعی ذہانت، الگورتھمز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داری پر زور دیا۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ نئی نسل کی حفاظت محض عسکری سلامتی سے نہیں بلکہ ڈیجیٹل سلامتی سے بھی وابستہ ہے۔اگرچہ ترکیہ میں حجاب کی تحریک ہزاروں طالبات، اساتذہ، سماجی کارکنوں اور مذہبی تنظیموں کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ تھی۔ البتہ امینے ایردوان اس جدوجہد کی سب سے نمایاں علامتوں میں ضرور شامل ہو گئیں، خصوصاً اس وقت جب وہ پابندیوں کے دور سے نکل کر عالمی سفارتی تقریبات میں ترکی کی نمائندہ بنیں۔ پاکستان میں حجاب کی تا ریخ کا جب بھی ذکر ہو گا ۔ حلقہ خواتین جماعت اسلامی، جنگ گروپ کے میر شکیل الرحمان ، ہاشو فاؤنڈیشن کے صدر محترم صدرالدین ہاشوانی اور مرتضیٰ ہاشوانی اور سابقہ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کے تذکرہ کے بغیریہ داستان نا مکمل ہوگی۔ ان سب نے مل کر 4ستمبر 2004سے لے کر آج تک حجاب تحریک کی بے مثل سر پرستی کی۔اوزدن اوزکایا (Özden Özkaya) ،جنہیں ترکی میں حجاب کے حق کے لیے جدوجہد کرنے والی نمایاں خواتین میں شمار کیا جاتا ہے۔ جون 2026 میں صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول میں ایک تقریب کے دوران انہیں اور دیگر خواتین کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ترکی میں حجاب پر عائد پابندیوں کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی۔ ان کی جدوجہد کا پس منظر یہ ہےکہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں ترکی کی جامعات، سرکاری اداروں اور بعض پیشوں میں حجاب پر سخت پابندیاں تھیں۔ ہزاروں طالبات کو یا تو تعلیم چھوڑنی پڑی یا حجاب اتارنے پر مجبور کیا گیا۔ اوز دن اوزکایا سمیت متعدد باحجاب خواتین نے پرامن، قانونی اور سماجی جدوجہد کی، جس سے ترکی میں مذہبی آزادی کے حق میں ایک مضبوط عوامی تحریک وجود میں آئی۔ اوز دن کے اعزاز میں تقریب سے صدر ایردوان نےخطاب کیا اور فرمایا کہ حجاب پر پابندی ترکی کی جمہوریت کے سفر کا ایک سیاہ باب تھا۔ ان خواتین کی قربانیوں کی بدولت آج ترکی میں خواتین کو تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی میں حجاب کے ساتھ حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے اس جدوجہد کو ترکی کی مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی تاریخ کا اہم سنگ میل قرار دیا۔
1994کی قاہرہ کانفرنس اور 1995میں بیجنگ کانفرنس میں دنیا بھر سے خواتین جمع ہوئیں اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کئے گئے اور دستاویزات مرتب کی گئیں، حکومتوں اور غیر حکومتی تنظیموں نے اس میں بھرپور شرکت کی مگر اسلامی تحریکوں کی طرف سے کوئی توانا آواز سامنے نہ آسکی۔ اس عرصے میں ترکی کے سابق وزیر اعظم ہوجہ نجم الدین اربکان، سوڈان سے ڈاکٹر حسن ترابی اور پاکستان سے قاضی حسین احمد نے اپنی خواتین کی سرپرستی کی اور اس صورت حال پر گہری نظر رکھتے ہوئے اُم افریقہ ڈاکٹر سعاد الفاتح اور ان کی رفیق کار ڈاکٹر خدیجہ کرار نے اگست 1996میں دنیا بھر کے 89 ممالک سے تین سو ممتازخواتین کو مدعو کیا اور انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کی بنیاد رکھی ۔ ان دنوں مختلف ممالک میں خواتین میںاسلامی بیداری کی لہریں تقویت پکڑ رہی تھیں۔ یورپ اور مغربی دنیا میں حجاب کو ہدف بنایا جا رہا تھا ۔ ترکی میں اسلام پسندوں کی تحریک زور پکڑ رہی تھی ۔ انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین نے دنیا بھر کی استحصال کی شکار خواتین کی آواز بننے کا فیصلہ کیا اور حجاب کی تحریک بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ مسلم خواتین کو حجاب کی وجہ سے تعصب سے بھر پور رویوں کا شکار بننا پڑا ۔
دنیا کے مختلف ممالک میں حجاب میں ملبوس خواتین کے لئے امتیازی قوانین بنائے گئے ۔ وہ کہیں سرکاری ملازمت نہ کر سکتی تھیں ، نہ ہی تعلیمی اداروں میں جا سکتی تھیں۔ 1999 میں ترکی میں انتخابات میں IMWUکی ترکی سے ممبر مروہ قواقچی پارلیمنٹ کی ممبر منتخب ہوئیں۔ جب وہ اسکارف میں ملبوس پارلیمنٹ میں حلف لینے پہنچیں توان پر آوازیں کسی گئیں اور انہیں حلف لینے سے روک لیا گیا ۔ ایک منتخب رکن پارلیمنٹ کو اپنے قانونی حق سے صرف اس ایک گز کے ٹکڑے کی وجہ سے محروم کر دیا گیا ۔ اتنی چھوٹی سی چیز کو کب کسی نے اتنا طاقت ور دیکھا ہو گا؟ مروہ قواقچی کو نہ صرف پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم کر دیا گیا ۔ بلکہ ترکی کی اس وقت کی حکومت نے ان کو اپنے ملک کی شہریت سے بھی محروم کر دیا ۔ اس واقعے نے حجاب کی تحریک کو اور بھی مضبوط کردیا ۔ مروہ جس اسکارف میں پارلیمنٹ کا حلف لینے گئیں تھیں۔ وہ حجاب کی تحریک کی علامت بن گیا اور اس کو حاصل کرنے کے لئے اس کی بڑی قیمت لگائی گئی ۔ مگر مروہ نے اپنے اس اعزاز کو اپنے ساتھ رکھا ، قدرت نے ان کے صبر و ثبات کا بڑا اچھا انعام اس صورت میں دیا کہ جب رجب طیب ایردوان نے 2018میں ترکی کی صدارت کا حلف لیا ۔تو مروہ قواقچی کو ملائشیا جیسے اہم ملک میں اپنا سفیر مقرر کر دیا اور آج ان کی بیٹی فاطمہ ابو شتاب اپنی ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی سےا علیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انقرہ میں صدارتی محل میں ترجمانی کے فرائض سر انجام دیتی ہیں۔ترکی کی حجاب تحریک کی تاریخ، جامعات، عدالتی مقدمات اور سماجی تحریکوں میں جن خواتین کا کردار سب سے زیادہ نمایاں رہا، ان میں درج ذیل نام بار بار سامنے آتے ہیں۔ Şule Yüksel Şenlerانہیں جدید ترکی میں حجاب کی عوامی تحریک کی اولین اور مؤثر ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔1960 اور 1970 کی دہائی میں پورے ترکی میں خواتین کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ اپنی تحریروں اور ناول Huzur Sokağı کے ذریعے ہزاروں نوجوان خواتین کو متاثر کیا۔ انہیں حجاب پہننے والی پہلی معروف خاتون صحافی اور حجاب کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے والی اولین خواتین میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی تقاریر نے بعد کی حجاب تحریک کی فکری بنیاد رکھی۔ Hatice Babacanترکی کی پہلی معروف یونیورسٹی طالبہ جنہوں نے 1968 میں حجاب اتارنے سے انکار کیا۔انقرہ یونیورسٹی میں ان کے خلاف کارروائی ہوئی۔ ان کا مقدمہ بعد کی طالبات کے لیے علامت بن گیا۔ بہت سے مؤرخین جدید یونیورسٹی مزاحمت کا آغاز انہی سے شمار کرتے ہیں۔ Merve Kavakcıحجاب تحریک کی عالمی علامت۔1999 میں جب وہ حجاب پہن کر پارلیمنٹ میں حلف لینے پہنچیں تو پورا ایوان "باہر جاؤ" کے نعروں سے گونج اٹھا اور انہیں حلف لینے نہیں دیا گیا۔بعد میں ان کی شہریت بھی منسوخ کر دی گئی، لیکن یہی واقعہ ترکی میں مذہبی آزادی کی بحث کا اہم موڑ بن گیا۔ Emine Erdoğanوہ تحریک کی بانی نہیں تھیں، لیکن اس کی سب سے نمایاں علامتی شخصیات میں شامل ہوئیں۔پابندیوں کے دور میں مسلسل حجاب کے ساتھ عوامی زندگی میں رہیں۔ بعد ازاں ترکی کی خاتون اول کی حیثیت سے عالمی سطح پر باحجاب مسلم خاتون کی مثبت نمائندگی کی۔ ان کی موجودگی نے ترک خواتین میں اعتماد پیدا کیا۔2007 میںجب Hayrünnisa Gülکے شوہر Abdullah Gül صدر منتخب ہوئے تو ان کے حجاب کو لے کر شدید سیاسی تنازع پیدا ہوا۔ان کا صدارتی محل میں داخل ہونا خود ایک تاریخی تبدیلی کی علامت سمجھا گیا۔ Sare Aydın Yılmazخواتین کے حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے سرگرم علمی شخصیت نے حجاب پر پابندیوں کے خلاف علمی اور سماجی سطح پر آواز بلند کی۔ Özlem Zenginترک پارلیمنٹ میں باحجاب خواتین کی نئی نسل کی نمایاں نمائندہ نے قانونی اصلاحات اور خواتین کی سیاسی شرکت کے فروغ میں کردار ادا کیا۔ Ravza Kavakcı Kanمروا قواقچی کی بہن پارلیمنٹ تک پہنچنے والی باحجاب خواتین کی علامت بنیں۔ 1997 تا2013کی ہزاروں گمنام طالبات کی ایک پوری نسل نے تعلیم کو خیر باد کہا ، وطن کو حجاب کی وجہ سے چھوڑا،سیکڑوں یورپ اور امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوئیں۔ کئی خواتین نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا۔ مورخین کے نزدیک یہی خواتین اس تحریک کی اصل بنیاد ہیں۔ 2013 میں پہلی مرتبہ کئی دہائیوں بعد باحجاب خواتین نے ترک پارلیمنٹ میں خدمات انجام دینا شروع کیں، جو اس جدوجہد کی عملی کامیابی کی علامت بنیں۔
حجاب کے اندر عورت ایسےمحفوظ ہے جیسے سیپ میں بند موتی،جیسے چشمہ پہاڑ کے اندر سے نمودارہوتا ہے تو اس کا پانی صاف شفاف آئینے کی طرح ہوتا ہے مگر جوں جوں نیچے میدانوں کی طرف بہتا ہے تو اپنے ساتھ آلائشیں اور غلاظت بھی بہاتاچلاآتا ہے اور لوگ آخری پانی دیکھ کر یہی سمجھتے ہیں کہ شاید یہ گندا پانی ابتدا ہی سے ایسا ہے ۔ یہی حال مسلمان خواتین کے حجاب کا بھی ہے ۔ 14 سو سال پہلے حضور نبی کریم ﷺ نے عرب کی جاہل ، عریاں عورت کو ایک تہذیب ، شائستگی اور وقار عطا کیا۔ وہ لوگ برہنہ حالت میں خانہ کعبہ کا طواف کیا کرتے تھے اور چادر تو ان کی تہذیب میں شامل ہی نہیں تھی ۔ آج کل پھر جدید جاہلیت کا شکار طبقہ عورت کے لباس سے دوپٹہ غائب کروا کے فتح کے شادیانے بجا رہا ہے۔ ان کے نزدیک شاید بس یہی ماڈرن ازم ہے کہ لباس باریک سے باریک تر اور مختصر سے مختصر تر کر دیا جائے ۔ حضور نبی اکرم ﷺ سے قبل کے زمانے کو’’ زمانہ جاہلیت‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس زمانے میں بھی عرب عورت خود کو زیادہ سے زیادہ نمائش کے لئے پیش کرتی تھی۔ گلے بہت زیادہ کھلے ہوتے ، خود کو ڈھکنے کا تصور ناپید تھا۔ پھر حضور نبی کریم ﷺ نے عورت کو عزت و توقیر بخشی ، اسے حجاب کے اصول سیکھائے ۔ فطرت کا تقاضا ہے کہ جو چئے جس قدر قیمتی ہوتا ہے اسے اسی قدر نظروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔ جس کا جس قدر تحفظ مقصود ہو ، اسے اتنا ہی بیرونی آلائشوں اور کثافتوں سے پاک رکھا جا تا ہے۔ دنیا میں پائے جانے والی تمام تہذیبیں اور ثقافتی روایات اس بات پر متفق ہیں کہ جو شے اپنی قد رو قیمت کے اعتبار سے جس قدر اہم ہو گی ، اسے اسی قدر خفیہ، پوشیدہ اور چھپا کر رکھا جائے گا تاکہ ہر قسم کے بیرونی ،خارجی دباؤ، افراد سے محفوظ رہ سکےاور اس کی قدر و قیمت میں کوئی فرق نہ آئے۔ قیمتی اشیا کو پردے میں رکھنا عقل اور فطرت کا مشترکہ تقاضا ہے ۔ اس لئے اگر کوئی یہ فطری اصول توڑتا ہے تو خرابی پیدا ہونا لازم ہے ۔ حجاب محض کپڑے کے ایک گز، ڈیڑھ گز ٹکڑے کا نام نہیں ہے اور نہ ہی کبھی کسی نے تاریخ میں اتنی چھوٹی سے چیز کو اتنا طاقت ور دیکھا ہو گا کہ وہ صبح شام تمام ذرائع ابلاغ پر زیر بحث رہتی ہو ۔ قانون ساز اسمبلیاں اس سے متعلق قوانین تیار کرتی اور منظور کرواتی ہیں ۔ عدالتوں میں اس سے متعلقہ مقدمات چلتے ہوں ۔ بقول شاہنواز فاروقی یہ حجاب ڈارون کا بندر تو نہیں مگر اس نے جیسے ترقی کی ہے ، دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ پہلے اسے مسلمان خواتین کی ذہنی پسماندگی کی علامت قرار دیا جاتا رہا کہ بیچاری برقعے والی عورت کو نہ عصر کا شعور ہے ، نہ جدید دنیا کے تقاضوں کاپتا، اس کے پاس تعلیم ہے ، نہ ہی سماجی مرتبہ ، وہ منہ نہ چھپائے تو کیا کرے اور گھروں میں بند ہو کر نہ بیٹھے تو بیچاری اور کرے کیا ؟؟ اگلے مرحلے پر حجاب کو ظلم و جبر کی علامت کے طور پر معروف کیا گیا کہ مسلمان مردظالم ، تنگ نظر اور پسماندہ ہیں۔ انہیں عورت کو قید کر کے لطف آتا ہے۔ پردے کو مرد کی بالادستی اور جبر کا استعارہ سمجھا گیا ۔ پھر حجاب کو ایک سیاسی بیانیے یا Political narrative کے طور پر لیا گیا اور کہا گیا کہ حجاب کا معاملہ دراصل سیاسی اسلام کے پیروکاروں کا ابھارا ہوا ہے ، وہ خود انتہاپسندی کی علامت ہیں اور انہیں حجاب جیسے پابندی اچھی لگتی ہے ۔ پھر اسی سیاسی بیانیے کو تہذیبی بیانیے سے تبدیل کردیا گیا اور کہا گیا کہ دنیا کے تیزی سے بدلتے حالات نے حجاب کو تہذیبی اور ثقافتی Cultural and Civilizational Statementشکل میں ڈھال دیا ہے لیکن آج حجاب کا یہ ایک ، ڈیڑھ گز کا ٹکڑا ہی آزادی کی ایک توانا علامت ، مسلمان عورت کے اعتماد سے بھر پور تفاخر اور مسلم شناخت کا احساس بن چکا ہے ۔ پسماندگی سے عزت اور افتخار اور آزادی کی علامت تک کا یہ سفر اور ارتقا بڑا حیرت انگیز ہے ۔ یہ اکیسویں صدی ہے۔ ہم نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی آخری آسمانی ہدایت کی طرف لوٹ رہے ہیں ، جنہوں نے عورت کو انسانیت سے شرف سے آشنا کیا ہے۔ سر اٹھا کر جینا اور بولنا سیکھایا ہے۔ جنہوں نے عورت کو ان تمام فکروں کو ، ذمہ داریوں سے نجات عطا کی، جو زمانے نے نہ حق اس لاد دی تھیں ۔ ان زنجیروں سے آزاد کروایا ، جس میں معاشرے نے بے سبب ہی اسے جکڑ لیا تھا ۔حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتی زندگی میں تو عورت کا کردار اتنا متحرک Dominent or Dynamic ہے کہ ایک عرب شاعر نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’محمدﷺ جب سے آئے ، ہر طرف عورت ہی عورت ہونے لگا ہے ‘‘ ۔ انہوں نے عورت کو جو کہ زندہ درگور ہو رہی تھی ، خوشبو اور نماز کے ساتھ یاد کیا۔ترکیہ کی با حجاب خواتین ، فلسطینی عورت کی حجاب کے ساتھ مزاحمت کی شاندار تحریک ، ایران کی چادر بتول سے آراستہ با حجاب عورت نے آج کی مسلم عورت کو نشان منزل سے آگاہ کیا ہے۔آئیے حجاب کو صرف ایک روایت نہیں بلکہ شعوری انتخاب ، تہذیب کے ارتقا اور انسانی اقدار کے فروغ کی علامت بنائیں کیونکہ جب تک حیا زندہ ہے معاشرہ زندہ ہے اور حجاب اسی حیا کا سب سے خوبصورت اظہار ہے ۔
