July 25th, 2026 (1448صفر11)

جماعت اسلامی کو اللہ پھر ایک امیرالعظیم عطا کرے…

سمیحہ راحیل قاضی

میں اس وقت ان کے کمرے میں، ان کی اہلیہ اور عزیز و اقارب کے ہجوم میں بیٹھی ہوں۔ رات کا یہی پہر ہے۔ آج سے ستائیس برس پہلے اسی وقت جمیل بھی ہمیں چھوڑ کر رخصت ہوئے تھے۔

کچھ دیر پہلے امیرِ جماعت، لیاقت بلوچ اور ضیاء الدین انصاری اپنے دیرینہ ساتھی کو آخری سلام پیش کرنے اندر آئے۔ بے اختیار وہ منظر بھی یاد آگیا جب شوریٰ کے اجلاس میں سیکرٹری جنرل کے تقرر کی بات ہوئی تھی۔ امیرِ جماعت نے بڑے واضح اور پُراعتماد لہجے میں کہا تھا: “ہم کسی اور کا تقرر نہیں کریں گے۔ امیرالعظیم بھائی ہمارا سرمایہ ہیں۔ اللہ انہیں صحت عطا کرے گا۔

یہ جملہ سنتے ہی ربع صدی کی یادیں نگاہوں کے سامنے گھوم گئیں۔ آغا جان کے ساتھ ان کا تعلق محض رفاقت کا نہیں، بیٹوں جیسی محبت کا تھا۔ ان کی اہلیہ مستبشرہ کا بھی میرے والدین سے ایسا تعلق تھا کہ انہیں دیکھ کر قرآن کی یہ تعبیر “فالصالحات قانتات” ذہن میں تازہ ہوجاتی تھی۔

ان کی بہن سرخ آنکھوں کے ساتھ دروازے تک آئیں، مگر اندر آنے سے پہلے خود کو سنبھال لیا اور کہا: “میں اپنے صابر، شاکر اور باوقار بھائی کے سامنے نہیں روؤں گی۔” دو ہزار سات سے بیماری ان کی ساتھی تھی، مگر صبر کبھی ان سے جدا نہ ہوا۔

جب وہ جمعیت میں شامل ہوئے تو میرے والدین کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ میں نے ان کی بہن سے کہا کہ آغا جان انہیں اپنے بیٹوں کی طرح عزیز رکھتے تھے اور ہر اہم مشورے میں شریک کرتے تھے۔ وہ مسکرا کر بولیں: “مجھے آج بھی یاد ہے، نکاح پڑھانے آئے تو امیرالعظیم بھائی کی ٹوپی آغا جان کو کچھ زیادہ پسند نہ آئی۔ گھر جاکر اپنی پسند کی خوبصورت ٹوپی نکالی اور خود انہیں پہنا دی۔

مجھے وہ دن بھی یاد آیا جب میں نے آغا جان سے پوچھا تھا کہ ویمن اینڈ فیملی کمیشن کا اتنا جامع اور خوبصورت چارٹر کس نے تحریر کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: “یہ امیرالعظیم کی تحریر ہے۔” بعد میں امیرالعظیم بھائی نے خود تصدیق کی کہ قاضی صاحب نے اپنے پاس بٹھا کر وہ چارٹر تحریر کروایا تھا۔

آغا جان کی یاد میں ہونے والی نشستوں کے وہ ہمیشہ روحِ رواں ہوتے۔ لقمان کے ساتھ مل کر لوگوں کو جمع کرتے اور ایسی یادیں سناتے کہ دل بھیگ جاتا۔ اپنے ایک یادگار مضمون میں انہوں نے لکھا کہ ستر اور اسی کی دہائی میں جب ہم ماوراء النہر، سمرقند، بخارا اور خیوہ کو گویا بھول چکے تھے، تو قاضی صاحب ہمیں بار بار یاد دلاتے تھے کہ “ان شاء اللہ یہ علاقے پھر آزاد ہوں گے۔” اور واقعی تاریخ نے وہ دن بھی دکھایا۔

جیل کے دنوں میں ان کی سکھ برادری کے ایک قیدی سے ایسی محبت بنی کہ رہائی کے بعد آغا جان سے سفارش کرکے اسے بھی رہائی دلوائی۔ آج وہ صاحب جنیوا سے ہر موقع پر کہتے ہیں کہ میری آزادی ان دونوں کی محبت کا قرض ہے۔

ان کی ننھی بیٹی ایمان اپنے والد کے سرہانے اسی وقار کے ساتھ بیٹھی تھی جو شاید صرف نیک باپوں کی اولاد کے حصے میں آتا ہے۔ میں نے اس سے کہا: “میرے بچے بھی بہت چھوٹے تھے جب ان کے والد دنیا سے رخصت ہوئے۔ اس وقت میرے تایا جان نے مجھ سے کہا تھا: شیطان تمہیں ڈرائے گا، مگر یاد رکھو دنیا کا سب سے تربیت یافتہ انسان، محمد ﷺ، یتیم پیدا ہوا تھا۔ اللہ یتیم بچوں میں ایسی خوبیاں رکھ دیتا ہے جو عام بچوں میں نہیں ہوتیں۔ اور ‘وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا’ کی برکت سے نیک باپ کی دعائیں اولاد کے ساتھ چلتی رہتی ہیں۔

رات کینیڈا سے اسماء باجی کا روتا ہوا فون آیا۔ کہنے لگیں: “گھر والے شاید مجھے نہ جانتے ہوں، مگر ان سے کہہ دینا کہ ایک بہن پہلے ان کی صحت کی دعا کرتی تھی، اب ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعاگو ہے۔

پھر کوثر باجی کی بھرائی ہوئی آواز نے ضبط کے بندھن توڑ دیے۔ وہ کہہ رہی تھیں: “میں سوچ رہی تھی تعزیت کس سے کروں، پھر تمہیں ہی فون کرلیا۔ ان کا قاضی صاحب سے تعلق تو بیٹوں جیسا تھا۔

میرا ان باکس دعاؤں اور تعزیتی پیغامات سے بھر چکا ہے۔ چند دن پہلے فوزان نے انہیں میرے آغا جان کے دوسرے عزیز بیٹے عبدالغفار کے ساتھ یاد کیا تھا، تب بھی دل بھر آیا تھا۔ آج یوں محسوس ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی کے وہ شفیق اور مہربان وجود، جنہوں نے نسلوں کی تربیت کی، ایک ایک کرکے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔

ملائیشیا سے ہماری خاتون وزیر کا فون آیا۔ انہوں نے پوچھا: “یہ آپ اور لقمان کے بڑے بھائی تھے؟

میں نے جواب دیا: “جی ہاں، ہمارے بہت شفیق بڑے بھائی تھے۔

آج دل کی گہرائی سے صرف ایک دعا نکلتی ہے:

اے اللہ! جماعت اسلامی کو پھر ایک امیرالعظیم عطا فرما۔

اور ہمیں آغا جان کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں:

عزیزو! آپ کا بھی جدا ہونے کو جی نہیں چاہتا اور میرا بھی نہیں چاہتا، مگر ان شاء اللہ اللہ کی رحمتوں کے سائے میں جنت میں پھر ملاقات ہوگی۔

یا رب! اپنے ان نیک بندوں کے ساتھ ہمارا بھی حشر فرما، ان کی مغفرت فرما، درجات بلند فرما، اور ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں جنت الفردوس میں دوبارہ ملا دے۔

ستیزہ گاہوں میں جاں لڑاؤ

وہ خود تم سے آ ملے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمارے یر دل عزیز بھائ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا کرے، اور اہلِ خانہ، رفقا اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔