آصف لقمان قاضی
امیر العظیم بھائ کے انتقال پر بنگلہ دیش سے امیر جماعت کا فون آیا۔ اس کے فورا بعد ان کا تعزیتی خط بھی مل گیا۔ ایسا کوئ خط یا پیغام ملے تو میں اسی وقت امیر جماعت اور قیم جماعت کو بھیج دیتا ھوں۔ یہ خط بھی پہلے میں نے وٹس ایپ میں امیر جماعت کو بھیجا اور پھر یکایک احساس ھوا کہ دوسرے نمبر پر تو اب میں کبھی بھی کوئ اطلاع نہیں بھیج سکوں گا۔ مجھے یاس کے جملے لکھنے کی عادت نہیں ھے۔ ھماری تحریک نے ھمیں کبھی بھی مایوس ھونا نہیں سکھایا۔ لیکن میں یہ اقرار کرتا ھوں کہ اس لمحے میں یہ دل ڈوب سا گیا تھا۔امیر العظیم بھائی سے تعلق محض تنظیمی نہیں تھا۔ وہ میرے لیے اور جماعت کے ہزاروں ذمہ داران کے لیے ایک بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے تھے۔ پاکستان بھر سے اور بیرون ملک سے جماعت اسلامی کے مختلف سطح کے متعلقین جماعت کے مرکز کی طرف سفر کا قصد کرتے تو امیر العظیم صاحب سے ملاقات اس دورے کا ایک لازمی جزو ہوتا تھا۔وہ ہم سب کے لیے ایک غم گسار اور راز دان کی حیثیت رکھتے تھے، جس کے سامنے آپ دل کے پھپھولے کھول دیتے، وہ توجہ سے سنتے، آپ کے زخموں پر مرہم رکھتے اور مشکلات کا حل نکالتے تھے۔ اس لمحے میں وہ ایک تنظیمی ذمہ دار نہیں بلکہ ایک بھائی کی صورت ہوتےتھے جو آپ کے ذاتی دکھ درد میں شریک ہوتا ھے۔
ان کی مثال ایسے تھی جیسے کوئی مسافر تپتی دھوپ میں کوئی صحرا عبور کر کے آئے اور اسے گھنا سایہ دار درخت اور ٹھنڈا پانی میسر آ جائے۔ وہ ذاتی تعلقات بناتے تھے اور اس تعلق کو پھر خون جگر سے سینچتے تھے۔ یہ بڑے نصیب والوں کا خاصہ ھوتا ھے۔ بعض لوگ ھجوم میں رھنے کے باوجود زندگی میں تنہا ھوتے ھیں۔ انسان کی زندگی اپنے رب کے بعد، اس کے ارد گرد دیگر انسانوں کے ساتھ تعلقات سے عبارت ہے۔ جن لوگوں کے ارد گرد آپ کے شب و روز کے اوقات بسر ھوتے ہیں، جن کے ساتھ آپ کی زندگی کے معمولات اور معاملات وابستہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی شخص دنیا سے چلا جائے تو آپ کی زندگی میں ایک خلا چھوڑ جاتا ہے۔ بسا اوقات وہ شخص غیر معمولی اثرات کا حامل ہوتا ہے اور اس کا چھوڑا ہوا خلا پر ہونا بہت مشکل ہوتا ہے۔امیر العظیم مرحوم ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے ھماری ذاتی زندگی میں اور جماعتی زندگی میں ایسی ہی مرکزیت کےحامل شخص تھے۔
کچھ لوگ تحریکوں کی اجتماعی زندگی اس تحریک کی فکر، جدوجہد اور تاریخ کی ایک علامت بن جاتے ہیں۔ ان کی ذات تحریک کی شناخت کا کردار ادا کرتی ہے، اس تحریک کی جدوجہد کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ عربی میں ایسے افراد کے لیے "رمزاً من رموز الحركة" کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، یعنی کسی تحریک کی علامتوں میں سے ایک علامت۔ جن کے
کردار اور تاریخی جدوجہد پر تحریک فخر کر سکتی ہے۔ امیر العظیم صاحب جماعت اسلامی کی تحریک کے رموز میں سے ایسے ایک رمز تھے، جن کی جدوجہد اور کردار آنے والی نسلوں کے جذبوں کے لیے ہمیشہ مہمیز کا کام دے گی۔
وہ ایک ایسے وقت میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ بنے جو آزمائشوں کا ایک ہنگام خیز دور تھا۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء عروج پر تھا اور اسلامی جمعیت طلبہ کی مخالف طالبہ تنظیموں کو فوج حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی۔ ایک ایسے دور میں انہوں نے جرأت اور ثابت قدمی کی ایک تاریخ رقم کی۔ اس دور میں جمعیت کو امیر العظیم جیسے ہی کسی قائد کی ضرورت تھی اور وہ اس وقت کے چیلنجز سے کما حقہ نبرد آزما ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ مارشل لا حکومت کی جانب سے اس وقت طلبہ یونینز پر پابندی عائد کی گئی جب ملک کے کالجز اور جامعات کی اکثریت میں اسلامی جمعیت طلبہ کامیاب ہو گئی تھی۔ حکومت کے اس فیصلے کےخلاف جمعیت نے ایک تاریخی تحریک چلائی تھی اور فوجی حکومت کے خلاف مزاحمت کی تھی۔ اس کے نتیجے میں انہیں قید و بند اور صعوبتوں کے مراحل سے گزرنا پڑا اور ان کی ثابت قدمی جمعیت کی تاریخ کا ایک روشن باب بن گئی۔
امیر العظیم کی یادوں کے عنوانات ان گنت ہیں۔ ان کی وفات ایک شخص کی نہیں بلکہ ایک عہد کی وفات ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے زائد کے عرصے میں وہ جماعت کے منظر نامے پر میں ایک امتیازی حیثیت سے موجود رہے ہیں۔ اس دوران کوئی جلسہ، کوئی اجتماع، کوئی مظاہرہ، کوئی اجلاس، کوئی ملاقات، ان کے وجود سے خالی نہیں رھی۔
یقیناً ان سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک ایسامنصورہ جس میں امیر العظیم کا وجود نہ ہو، ایک کرب ناک تجربہ ہوگا۔ ہم جیسے لوگ جو ایک ایسے وقت میں جمعیت میں داخل ہوئے جب وہ جمعیت کے قائد کے طور پر موجود تھے، اور پھر ان کے پیچھے پیچھے جماعت میں پہنچے اور ایک بار پھر انہیں وہاں قائدانہ حیثیت میںموجود پایا۔ کبھی لاھور کے امیر کی حیثیت سے، کبھی مرکزی ناظم نشرواشاعت کی حیثیت سے، اور کبھی جنرل سیکریٹری کے طور پر۔ ایسے لوگ بڑی تعداد میں جماعت اسلامی کی تنظیم اور تحریک کا حصہ ہیں۔ ھم سب ان کے دورِ طالب علمی سے لے کر ان کی وفات تک بہت سے حالات و واقعات میں ان کے دائیں بائیں موجود رہے ہیں۔ ہمارےعہد کے احباب کے لیے یہ ایک ذاتی سانحہ ہے۔
ہم سب سے ہمارا ایک بہت ہی قیمتی دوست اور رہنما بچھڑ گیا ہے۔ ہم ان کے کردار کی عظمت، ان کی محبت، ان کی درویشی اور انکساری، ان کے عزم، جرأت، اور تحریک کے ساتھ پختہ وابستگی کے گواہ ھیں۔ اس لئے آج ھمارے دل کا درد بھی کچھ سوا ھے۔
غزالاں تم تو واقف ھو، کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مرگیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری
ھم اللہ سے دعا کرتے ھیں اے رب العالمین تیرا یہ بندہ ھمارے قافلے کا محبوب ترین فرد ھے۔ اے اللہ اس کی بشری کوتاھیوں سے درگزر فرمانا۔ اے اللہ یہ ایسی حالت میں تیرے دربار میں حاضر ھورھا کہ اس کے جسم پر تیرے راستے میں کھائے گئے زخموں کے نشان ھیں۔ اے اللہ تجھ سے زیادہ غیور تو کوئ نہیں ھے، ان نشانوں کی لاج رکھنا۔ اے اللہ اپنے اس بندے کو انبیاء، صدیقین، اور شھداء کی معیت میں رکھنا، اور ھم سب کو آخرت میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت عطا فرمانا۔ آمین یا رب العالمین۔
