August 23rd, 2026 (1448ربيع الأول10)

نہ جھکیں گے، نہ رکیں گے؛ عوامی حقوق ملنے تک جدوجہد جاری رہے گی, ثمینہ سعید

خواتین نے ساتویں روز ریکارڈ قائم کر دیا، مال روڈ پر عوامی حقوق کی تاریخ ساز للکار

جماعت اسلامی کے جاری عوامی دھرنے کے ساتویں روز خواتین نے شاندار، منظم اور تاریخ ساز شرکت سے ریکارڈ قائم کر دیا۔ مال روڈ پر منعقدہ عظیم الشان خواتین جلسہ عام میں شمالی پنجاب اور وسطی پنجاب کے چند اضلاع سے ہزاروں خواتین جوق در جوق شریک ہوئیں۔ حدِ نگاہ تک خواتین، بچے اور طالبات موجود تھیں جو مہنگائی، ناجائز پٹرولیم لیوی، بجلی و گیس کے بھاری بلوں اور عوام دشمن معاشی پالیسیوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کر رہی تھیں۔
قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین بھی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی عوامی حقوق کی تحریک میں بھرپور شریک ہیں۔ پاکستان میں دو نظام اور دو قانون چل رہے ہیں؛ اشرافیہ کے لیے الگ قانون ہے، انہیں ٹیکسوں اور مہنگائی سے استثنا حاصل ہے اور ان کی بجلی و پٹرول بھی قومی وسائل سے مفت فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ غریب کو اپنی محنت کا جائز اجر بھی نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ آج مائیں اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے سے بھی عاجز ہیں، کسان، مزدور اور طلبہ تک مختلف ٹیکسوں اور مالی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ظالم حکمران غریب عوام سے بھتہ وصول کر رہے ہیں، جبکہ اشرافیہ کو ہر قسم کی مراعات حاصل ہیں۔ ثمینہ سعید نے کہا کہ خواتین اپنے گھروں اور خاندانوں کی تباہ ہوتی معاشی صورتحال دیکھ کر اب خاموش نہیں رہ سکتیں اور عوامی حقوق کی اس جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کرتی رہیں گی۔
ڈپٹی سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ خواتین کا یہ عظیم اجتماع اس بات کا اعلان ہے کہ مہنگائی، بھاری بلوں اور ظالمانہ ٹیکسوں نے ہر گھر کو متاثر کیا ہے۔ جب ایک ماں بچوں کی خوراک، تعلیم اور علاج کی فکر میں مبتلا ہو تو حکمرانوں کو عوام کی حالت کا احساس کرنا چاہیے۔ صدر وسطی پنجاب نازیہ توحید نے کہا کہ یہ احتجاج کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ 25 کروڑ پاکستانیوں کے بنیادی حقوق کے لیے ہے۔ حکومت عوام کو فوری ریلیف دے، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں کم کرے اور ریاستی وسائل کا رخ اشرافیہ کے بجائے عام شہریوں کی ضروریات کی طرف موڑے۔
ناظمہ صوبہ شمالی پنجاب ثمینہ احسان نے کہا کہ آج کا پاکستانی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے اور 79واں یوم آزادی بھی عوام نے مہنگائی اور حکمرانوں کے جبر کے سائے میں منایا۔ حافظ نعیم الرحمن 25 کروڑ عوام کا مقدمہ لے کر نکلے ہیں اور خواتین اس جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔ ہم پُرامن، منظم اور باوقار ہیں اور اپنے جائز حقوق لینا جانتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول سستا، پٹرولیم لیوی ختم، بجلی کے نرخ کم اور آٹا و روٹی سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ عوام کی دسترس میں لائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں اور بیوروکریسی کی مراعات کا بوجھ عوام پر ڈالنا بند کیا جائے، ہمارا دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔
صدر حلقہ خواتین لاہور عظمیٰ عمران نے کہا کہ ہماری خواتین اپنے گھروں کو چھوڑ کر کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے میدان میں نکلی ہیں۔ سات روز سے جاری دھرنے میں خواتین کی مسلسل شرکت ان کی حب الوطنی اور قومی شعور کا ثبوت ہے۔ مہنگائی، ناجائز لیوی، بجلی و گیس کے بھاری بلوں نے گھر کا بجٹ تباہ کر دیا ہے اور صحت، تعلیم اور خوراک تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکمرانوں سے خیرات نہیں، اپنے آئینی اور بنیادی حقوق مانگنے آئے ہیں۔ ہم عزت و وقار کے ساتھ اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھیں گے اور مطالبات کی منظوری تک رکنے والے نہیں۔

چئیرنگ کراس پر گورنر ہاؤس کے سامنے  پنجاب بھر سے جمع ہونے والی ہزاروں ماؤں، بہنوں، طالبات اور محنت کش خواتین نے متفقہ طور پر کہا کہ عوام کی کمر توڑ دینے والی مہنگائی، پیٹرول پر ناجائز لیوی، بجلی کے بلوں پر ظالمانہ ٹیکسوں اور استحصالی معاہدوں نے ہر گھر کے معاشی حالات کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ خواتین نے کہا کہ گزشتہ سات روز سے عوام، بالخصوص جماعت اسلامی کی خواتین، اپنے جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں کیونکہ عام آدمی کی مشکلات اور مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ جب عوام پر مسلسل ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر ان کی زندگی اجیرن بنا دی جائے تو خوخواتین کے اس عظیم الشان دھرنے کی شرکاء نے قرارداد کے ذریعے  مطالبہ کیا کہ:
پیٹرول پر عائد ناجائز پٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے۔
بجلی کے بلوں سے تمام ظالمانہ اور ناجائز ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول کرکے عوام کو فوری اور حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے