October 8th, 2026 (1448ربيع الثاني27)

غزہ کے مظلوموں کی پکار پر دنیا خاموش نہیں رہ سکتی: ثمینہ سعید۔

     غزہ کے مظلوموں کی آواز بننا ہر زندہ ضمیر کی ذمہ داری ہے، فلسطین کو بھولنے نہیں دیں گے: ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
اسلام آباد/ لاہور(پریس ریلیز ) قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے اسلام آباد میں منعقدہ غزہ مارچ میں شرکت کی اور میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ آج انسانی تاریخ کے بدترین المیے کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی ماؤں، بہنوں اور معصوم بچوں کی آہ و بکا عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے، مگر افسوس کہ عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
ثمینہ سعید نے کہا کہ غزہ کے مظلوم عوام کو تنہا چھوڑنا انسانیت سے غداری کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت، نسل کشی اور فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔
انہوں نے عالمی برادری اور مسلم حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں کے تحفظ اور غزہ تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواتین اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہیں اور ان کے حقِ آزادی اور حقِ زندگی کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گی۔
ثمینہ سعید نے کہا کہ غزہ مارچ مظلوم فلسطینیوں سے یکجہتی اور دنیا کو یہ پیغام دینے کی آواز ہے کہ فلسطین کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ فلسطین کے حق میں اپنی آواز بلند کریں اور غزہ کے مظلوموں کے لیے ہر ممکن اخلاقی، انسانی اور سفارتی حمایت کا مطالبہ جاری رکھیں۔  ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ غزہ کے مظلوم فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و تشدد نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، لیکن عالمی طاقتوں کی خاموشی اس ظلم کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ غزہ کے مسلمانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا، فلسطین کی آزادی اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت ہمارا دینی، انسانی اور اخلاقی فریضہ ہے۔
وہ لاہور میں طوفان الاقصیٰ کے حوالے سے منعقدہ غزہ مارچ میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ آج بھی ملبے، شہادتوں، زخمیوں، بھوک، بے گھری اور بنیادی انسانی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے حالیہ انسانی صورتحال کے جائزوں کے مطابق غزہ میں ادویات، طبی سامان، ایندھن، صاف پانی اور دیگر ضروری اشیا کی کمی نے زندگی بچانے والی خدمات کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ غزہ مارچ محض ایک احتجاج نہیں بلکہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی، عالمی ضمیر کو بیدار کرنے اور دنیا کو یہ پیغام دینے کی جدوجہد ہے کہ پاکستان کے عوام فلسطین کو فراموش نہیں کریں گے۔ جب ماؤں کے سامنے ان کے بچے شہید ہوں، خاندان ملبے تلے دب جائیں اور زخمیوں کو علاج کی بنیادی سہولتیں میسر نہ ہوں تو خاموش رہنا انسانیت سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔
ناظمہ حلقہ لاہور عظمی عمران نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کا انفراسٹرکچر تباہ، گھروں اور ہسپتالوں کو شدید نقصان پہنچا اور فلسطینی عوام مسلسل خوف، بے گھری اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں بھی غزہ میں جنگ سے تباہ شدہ عمارتوں کے منہدم ہونے سے بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتوں اور صحت عامہ کے سنگین مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کی بیٹیوں، ماؤں اور بہنوں کا غزہ کے لیے سڑکوں پر نکلنا اس بات کا اعلان ہے کہ فلسطین ہماری غیرت، ایمان اور انسانیت کا مسئلہ ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اور انسانیت دوست قوتیں فلسطینیوں کے حق میں اپنی آواز مزید بلند کریں اور عالمی اداروں پر دباؤ ڈالیں کہ فلسطینی شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور مستقل و منصفانہ امن کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اس موقع پر ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی لاہور عظمیٰ عمران، نائبین شازیہ عبدالقادر، راحیلہ انجم اور حلقہ خواتین جماعت اسلامی لاہور کی دیگر ذمہ داران و کارکنان نے بھی بڑی تعداد میں غزہ مارچ میں شرکت کی اور فلسطینی عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔
ناظمہ حلقہ لاہور عظمی عمران نے لاہور کی خواتین اور عوام کو غزہ مارچ میں بھرپور شرکت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی آزادی تک ہماری آواز بلند رہے گی، القدس ہماری امید اور فلسطین ہماری ذمہ داری ہے۔