August 13th, 2026 (1448صفر29)

پاکستان کی حقیقی منزل نظریۂ پاکستان کی تکمیل ہے، ڈاکٹر حمیرا طارق

▪️قیام پاکستان صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، ایک پیغام تھا جو آج بھی زندہ ہے، ڈاکٹر حمیرا طارق
▪️سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق کا یوم آزادی کے موقع پر خصوصی پیغام
لاہور (پ ر) حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے یوم آزادی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام  میں کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی منزل نظریۂ پاکستان کی تکمیل ہے۔ قیام پاکستان صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، ایک پیغام تھا جو آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوم آزادی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وطن عزیز اللہ کا خاص انعام ہے جو لاکھوں جگر گوشوں کی قربانی کے نتیجے میں حاصل ہوا۔ خواتینِ اسلام نے بھی قیام پاکستان کی جدوجہد میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا، اپنے سہاگ، گھر بار اور عزیزوں کی قربانیاں دیں اور ہجرت کی صعوبتیں برداشت کرکے آزادی کی قیمت چکائی۔ ان کی قربانیاں پاکستان کی تاریخ کا روشن اور ناقابلِ فراموش باب ہیں۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے 79 ویں جشن آزادی کے موقع پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان امت مسلمہ کی امیدوں کا مرکز ہے۔ قائد اعظم نے قیام پاکستان کے بعد بارہا یاد دہانی کروائی تھی کہ پاکستان کو وجود میں لانا اصل مقصود نہیں تھا، اسے نظریے کے مطابق ڈھالنا اصل منزل ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ قیام پاکستان کی جدوجہد تھی اور آج تکمیلِ پاکستان کی جدوجہد ہے جس کے لیے پھر سے قیام پاکستان جیسے ولولے اور قربانیاں درکار ہیں۔ پاکستان کی مضبوطی اور اتحاد کی بنیاد اس کا نظریہ ہے، پاکستان کی بقا، سلامتی اور خوشحالی کا ضامن اسلام ہے۔ ہمیں وہ عہد و پیمان پورے کرنے کے لیے نئے عزم کے ساتھ اٹھنا ہوگا جو قیام پاکستان کے وقت ہم نے اپنے رب سے کیے تھے۔ پاکستان کا اسلامی آئین ہی اسے متحد و محفوظ رکھ سکتا ہے اور اس کے استحکام کے لیے ایک نظریاتی قیادت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی پاکستانی عورت بھی مشکلات کے باوجود قومی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ شدید مہنگائی، خوراک کی کمی، صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی اور گھر سے باہر بڑھتے ہوئے عدم تحفظ نے عورت کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، مگر وہ ان حالات کے باوجود گھر کی ذمہ داریوں سے لے کر صنعت و تجارت، کاروبار، تعلیم، طب اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملکی ترقی کی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو خواتین اپنے گھروں کا نظام محدود وسائل میں سنبھال رہی ہیں، وہ بھی ملکی معیشت میں ایک خاموش مگر اہم کردار ادا کر رہی ہیں، اس لیے خواتین کے لیے محفوظ، باعزت اور سازگار ماحول کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں پس رہا ہے اور اس کی قوتِ خرید دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ شدید مہنگائی کے باعث خصوصاً خواتین کو گھر کے کچن کا نظام چلانے، بچوں کی مناسب خوراک، تعلیم اور علاج کی ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کا حقیقی مفہوم اسی وقت مکمل ہوگا جب عوام کو معاشی سہولت اور ریلیف میسر ہوگا، محض نعروں سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ عوام دوست پالیسیاں بنائی جائیں اور غریب طبقے بالخصوص خواتین اور بچوں کو مہنگائی کے بوجھ سے نجات دلائی جائے۔
انہوں نے ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردی، جرائم اور بدامنی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ غیر محفوظ معاشرہ خواتین کی آزادی، تعلیم، ملازمت اور کاروباری سرگرمیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے، اس لیے خواتین سمیت ہر شہری کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے، کیونکہ امن کے بغیر نہ معیشت مستحکم ہو سکتی ہے اور نہ ہی نظریاتی منزل کا حصول ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ہمیں اپنے فلسطینی و کشمیری بہن بھائیوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے جو اپنی جانوں اور مالوں کی قربانیوں سے اپنے حقِ آزادی کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ کشمیر پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے، ہم مشکل کی اس گھڑی میں فلسطینی اور کشمیری بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ قیام پاکستان کے پیغام کو سمجھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کیونکہ جو اپنی بنیاد نہیں جانتا وہ اپنی منزل بھی نہیں پا سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ تمام سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر وطن کی ترقی کے لیے متحد ہو جائیں تاکہ علامہ اقبال کے خواب اور قائد اعظم کی انتھک جدوجہد کے حاصل پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی و خوشحال پاکستان بنایا جا سکے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہماری قومی زندگی کے تمام شعبہ جات کی تشکیل قرآن و سنت کے مطابق ہو، خواتین کو محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کیا جائے اور تمام صوبوں کے عوام کو بلا تفریق قومی ترقی کے سفر کا شریکِ منزل بنایا جائے