January 22nd, 2026 (1447شعبان3)

یونیورسٹی آف لاہور میں طالبہ کی خودکشی، ایک ہی ہفتے میں دوسرا واقعہ تشویشناک اور لمحۂ فکریہ ہے،ڈاکٹر حمیرا طارق

حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے یونیورسٹی آف لاہور میں طالبہ کی خودکشی کے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی ہفتے میں اسی یونیورسٹی میں خودکشی کا یہ دوسرا واقعہ ہمارے تعلیمی اداروں، معاشرتی رویّوں اور طلبہ کی ذہنی کیفیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے، جو کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طلبہ شدید ذہنی دباؤ، تعلیمی بوجھ، سماجی تنہائی، خاندانی توقعات اور بعض اوقات ادارہ جاتی بےتوجہی کا شکار ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طالبات کے مسائل کو سنجیدگی سے نہ لینا، کونسلنگ اور رہنمائی کے مؤثر نظام کا فقدان اور اساتذہ و انتظامیہ کی عدم تربیت ایسے سانحات کا سبب بن رہی ہے۔ یہ صورتحال ہمارے تعلیمی نظام اور مجموعی معاشرتی بےحسی پر ایک واضح سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر تعلیمی اداروں میں طلبہ کی پریشانیوں کے ازالے اور تحفظ کے لیے جامع اور مؤثر اقدامات کرے۔ تمام جامعات اور کالجز میں تربیت یافتہ ماہرِ نفسیات پر مشتمل اسٹوڈنٹ کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں، اساتذہ اور انتظامیہ کو طلبہ کے نفسیاتی مسائل کی بروقت شناخت اور رہنمائی کی باقاعدہ تربیت دی جائے، اور ہراسگی، تعلیمی دباؤ اور استحصال کے خلاف سخت قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے مزید کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تعلیمی اداروں میں ایک واضح اسٹوڈنٹ سیفٹی پالیسی، ہیلپ لائنز، والدین سے رابطے کا مضبوط نظام اور بحران کی صورت میں فوری مداخلت کے طریقہ کار کو قانونی حیثیت دی جائے، تاکہ کسی بھی طالبہ یا طالب علم کو تنہا اور بے سہارا محسوس نہ کرنا پڑے۔
حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر شعبہ تعلیم عفت سجاد نے بھی اس افسوسناک واقعے پر دلی دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کا ذہنی اور تعلیمی تحفظ ریاست اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس میں کسی قسم کی غفلت ناقابلِ قبول ہے۔
ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے کہا کہ مسلسل پیش آنے والے یہ واقعات فوری توجہ اور عملی اقدامات کے متقاضی ہیں، محض بیانات نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ اس سانحے کی شفاف تحقیقات کروا کر ذمہ داران کا تعین کرے اور آئندہ ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اور پائیدار اقدامات یقینی بنائے۔