سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کراچی میں جاری پُرامن دھرنے پر حکومتی طاقت کے استعمال، لاٹھی چارج اور شیلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا یہ اقدام جمہوری اقدار کے منافی اور آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ممبر سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت متعدد کارکنان کی گرفتاری اور نہتے مظاہرین پر تشدد قابلِ افسوس اور قابلِ مذمت ہے۔ کراچی کے عوام پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی شہری سہولیات کے حصول کے لیے سراپا احتجاج ہیں، مگر حکومت مسائل کے حل کے بجائے آواز دبانے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے اپنے بیان میں کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج مکمل طور پر پُرامن اور آئینی دائرے میں ہے۔ کارکنان کے خلاف طاقت کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی مطالبات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جبر اور تشدد سے نہ تو حق کی آواز دبائی جا سکتی ہے اور نہ ہی کارکنان کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امیرِ جماعت اسلامی کی کال پر آج کراچی سمیت ملک بھر میں ہونے والا پُرامن احتجاج عوامی شعور اور بیداری کا مظہر ہے۔ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی کارکنان بھی اس جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہیں گی۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے مطالبہ کیا کہ:
گرفتار کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
پُرامن مظاہرین پر تشدد کے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
کراچی کے شہری مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد انتشار یا فساد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے جائز اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے ہے، اور یہ جدوجہد پُرامن اور جمہوری طریقے سے جاری رہے گی۔
عوامی طاقت ہر جبر پر بھاری ہے، اور ان شاء اللہ کراچی کے عوام کو ان کے حقوق دلوا کر رہیں گے۔ نیز ڈپٹی سیکرٹریز عطیہ نثار ، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ، عفت سجاد ، ڈاکٹر زبیدہ جبیں ،عائشہ سید ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید ،ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا سیل سعدیہ حمنہ اور سیکرٹری اطلاعات فریحہ اشرف نے بھی جماعت اسلامی کے پر امن کارکنان کی گرفتاری ، تشدد اور سندھ حکومت غیر جمہوری طرز عمل پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے
