ممتاز اسکالر اور دینی و سماجی رہنما، سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق کے زیرِ اہتمام آن لائن دورۂ قرآن 25 شعبان سے شروع ہو کر 25 رمضان المبارک تک جاری رہے گا۔ اس بابرکت تعلیمی سلسلے میں ملک و بیرونِ ملک سے ہزاروں خواتین آن لائن شریک ہو کر قرآنِ کریم کے پیغام سے استفادہ کر رہی ہیں۔
ڈاکٹر حمیرا طارق کی علمی بصیرت اور دعوتی فکر کے تحت پیش کیا جانے والا یہ دورۂ قرآن محض تلاوت تک محدود نہیں بلکہ قرآنِ کریم کے مرکزی مضامین، اس کے عملی پیغام اور اجتماعی زندگی کے تقاضوں کو اجاگر کرتا ہے۔ ان دروس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قرآنِ حکیم کو صرف پڑھنے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کی تعلیمات کو فرد اور معاشرے کی اصلاح کے لیے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔
اپنے دروس میں ڈاکٹر حمیرا طارق نے نہایت جامع اور مؤثر انداز میں قرآن کے بنیادی موضوعات کو نمایاں کیا۔ ان میں سب سے اہم توحید کی مضبوط بنیاد ہے، جس کے تحت انسان کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ کائنات کا خالق و مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور اسی کی اطاعت و بندگی انسان کی اصل کامیابی کا راستہ ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو ہر قسم کی غلامی اور باطل قوتوں کے خوف سے آزاد کرتا ہے۔
اسی طرح قرآن سے قلبی تعلق کے موضوع پر اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ قرآن محض ایک مقدس کتاب نہیں بلکہ ہدایت کا زندہ سرچشمہ ہے۔ جب انسان اس کی آیات کو سمجھ کر پڑھتا اور ان پر غور و فکر کرتا ہے تو اس کا دل ایمان کی روشنی سے منور ہو جاتا ہے اور اس کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔
دروس میں اخلاقِ حسنہ کی تعمیر کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ قرآنِ کریم انسان کو سچائی، امانت، صبر، عفو و درگزر اور عدل جیسے اعلیٰ اخلاق اپنانے کی تعلیم دیتا ہے، جو ایک صالح فرد اور مثالی معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد سے رہنمائی کے پہلو کو بھی واضح کیا۔ قرآن میں بیان کیے گئے انبیاء کے واقعات محض تاریخی روایات نہیں بلکہ صبر، استقامت اور دعوتِ حق کے عملی نمونے ہیں جو ہر دور کے انسان کو باطل کے مقابلے میں حق پر ڈٹے رہنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔
اسی طرح عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کو قرآن کا ایک اہم پیغام قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ قرآن انسانوں کے درمیان انصاف، مساوات اور حقوق کی پاسداری کا نظام قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے تاکہ معاشرہ ظلم اور ناانصافی سے پاک ہو سکے۔
دروس میں ظلم کے نظام کے خاتمے کے لیے منظم جدوجہد کے تصور کو بھی بیان کیا گیا، جس کے مطابق قرآن انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ باطل قوتوں اور ظلم کے ڈھانچوں کے مقابلے میں حق، انصاف اور خیر کے قیام کے لیے اجتماعی اور منظم کوشش ضروری ہے۔
ہر روز قرآن کے ایک سپارے کے اہم موضوعات کو مختصر مگر بامقصد انداز میں بیان کیا جا رہا ہے تاکہ شرکاء قرآن کے پیغام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور اسے اپنی عملی زندگی سے جوڑ سکیں۔ اس آن لائن دورۂ قرآن نے خواتین میں قرآن فہمی، فکری بیداری اور دینی شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
منتظمین کے مطابق یہ تعلیمی سلسلہ رمضان المبارک کی 25 تاریخ تک جاری رہے گا اور توقع ہے کہ اس کے ذریعے مزید خواتین قرآنِ حکیم کے پیغامِ ہدایت سے روشناس ہوں گی۔
