کراچی ایک بار پھر حکمرانوں کی غفلت، نااہلی اور کرپشن کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ سانحہ گل پلازہ نے شہر کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ معصوم جانوں کا ضیاع، جل کر راکھ ہو جانے والے خواب اور وہ افراد جن کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، سندھ حکومت کی مجرمانہ بے حسی پر سوالیہ نشان ہیں۔
ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے ملین مارچ بعنوان کراچی کو جینے دو کے حوالے سے اپنے بیان میں کیا ـ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ آئے دن ڈمپر مافیا کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، کھلے مین ہولز اور گٹروں میں گر کر معصوم بچوں کی ہلاکتیں، خستہ حال سڑکیں، کچرے کے انبار، پانی و بجلی کی قلت، ٹرانسپورٹ کا بحران اور بدترین شہری نظام اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کراچی کو جینے کے قابل شہر بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے مگر اسے دانستہ طور پر وڈیروں، جاگیرداروں اور نااہل حکمرانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اب مزید خاموشی جرم ہے۔
کراچی اپنے حقوق کے لیے بیدار ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں یکم فروری 2026 بروز اتوار کو ہونے والا “جینے دو کراچی کو” عظیم الشان ملین مارچ محض احتجاج نہیں بلکہ کراچی کے حقِ حیات، حقِ تحفظ اور حقِ وقار کی منظم عوامی جدوجہد ہے۔
انہوں نے جماعت اسلامی کے تمام کارکنان، خواتین، نوجوانوں اور کراچی کے باشعور عوام سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اس تاریخی ملین مارچ میں بڑی تعداد میں شرکت کریں، اپنے گھروں سے نکلیں اور نااہل حکمرانوں کے خلاف بھرپور عوامی دباؤ ڈالیں تاکہ کراچی کو مسائل سے نجات دلائی جا سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور باوقار شہر کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ہر فورم پر کراچی کے عوام کی آواز بنے گی اور ان شاء اللہ اس شہر کو وڈیروں اور کرپٹ حکمرانوں کے چنگل سے آزاد کروا کر رہے گی۔
