March 9th, 2026 (1447رمضان21)

حکومت گھریلو اور ملازمت پیشہ خواتین کو ریلیف فراہم کرے‘ حمیرا طارق

عالمی یوم خواتین کے موقع پر حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین کے حقوق، ان کے سماجی تحفظ اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ سیمینار میں سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ، ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید ، صدر وسطی پنجاب ما زید توحید ، صدر حاق لا ہور عظمی عمران ، پٹی سیکرٹری ڈاکٹر زبید و جنہیں اور نگران ماسٹرٹریز پروگرام انیل محمود سمیت خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور معاشرے میں خواتین کو در پیش مسائل اور ان کے حل کے لیے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا گیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنزل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹرحمیرا طارق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مہنگائی اور ٹیکسوں کے پڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کر کے خواتین خصوصاً گھر یلو اور ملازمت پیشہ طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے ، خواتین کے تحفظ اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے تشدد اور ہراسگی کے واقعات کی روک تھام کے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور خواتین کی فلاح و خود کفالت کے منصوبوں کو شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔ ساتھ ہی میڈیا میں عورت کی غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارا نہ پیشکش کی حوصلہ شکنی کے لیے بھی سنجید و اقدامات کیے جائیں تاکہ معاشرے میں مثبت اقدار کو فروغ مل سکے۔ مقررین نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر فلسطین اور کشمیر کی مظلوم خواتین کی جد وجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ان کے بنیادی انسانی حقوق آزادی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ڈاکٹر میرا طارق کا کہنا تھا کہ اسلام نے عورت کو روحانی ، معاشی ، سماجی اور سیاسی سطح پر واضح اور جامع حقوق عطا کیے ہیں، مگر بد قسمتی سے عملی طور پر خواتین کو اکثر ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ با وقار اور متوازن معاشرے کی تعمیر میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اسلامی تاریخ کے ارانہ اور غیر اسلامی روایات ہیں جن کے خاتمے کے لیے ریاست اور معاشرے کو مشترکہ طور پر مؤثر اقدامات کرنا ہوں رت خدیجہ اور حضرت عائشہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی سیرت آج کی خواتین کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے اور اسلامی تعلیمات خواتین کو عزت و وقار کے ساتھ مکمل تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانی خواتین اس وقت معاشی دباؤ ، عدم تحفظ اور سماجی نا انصافی جیسے متعد د مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم، خوداعتمادی اور معاشی خود کفالت کو فروغ دینا ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے کی تشکیل کے نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کو خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی ترقی کے لیے سنجید اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنے منشور میں خواتین کے حقوق کا ایک جامع چارٹر پیش کیا ہے جو خواتین کو مکمل تحفظ اور اسلام کے عطا کر دو حقوق فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید نے کہا کہ عورت دراصل خاندان اور معاشرے کی معمار ہے اور اس کی مثبت تربیت سے ہی ایک صالح اور متوازن معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے نئی نسل کی اخلاقی اور فکری تربیت میں اپنا مؤثر کردارادا کریں۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ حلقہ خواتین کی ذمہ داران اور مدرسین نے فوری تفسیر کے منظم پر وگرام ” ہر دل تک قرآن ” کو کامیابی سے منعقد کر کے ملک بھر کی خواتین میں شعور اور دینی آگاہی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صدر وسطی پنجاب نا زیہ تو حید نے کہا کہ اسلام نے عورت کو جوعزت، وقار اور مقام دیا ہے وہ دنیا کے کسی دوسرے نظام میں نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو تعلیم ، شعور اور مضبوط کردار کے ساتھ معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔ صدر حلقہ لا ہور عظمی عمران نے کہا کہ عالمی یوم خواتین ہمیں اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ خواتین کے تحفظ، تعلیم اور ترقی کے لیے عملی اقدامات نا گزیر ہیں تا کہ خواتین ایک محفوظ اور با وقار ماحول میں اپنی صلاحیتوں کو بھر پور انداز میں استعمال کر سکیں۔ سیمینار کے دوران ” یوتھ پارلیمنٹ ” کے عنوان سے ایک متاثر کن ٹیبلو بھی پیش کیا گیا جس میں مسلم نو جوانوں خصوصاً نو جوان خواتین کو در پیش مسائل اور ان کے حقوق کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا جسے شرکا نے بے حد سراہا۔