June 5th, 2026 (1447ذو الحجة19)

گھریلو ملازمہ پرمبینہ تشدد و زیادتی کا لاہور سانحہ، کمزور طبقات کے تحفظ میں ریاستی ناکامی کا المناک ثبوت ہے: ڈاکٹر حمیرا طارق

سیکریٹری جنرل حلقہ خواتین  کا شفاف تحقیقات اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے جامع نظام کا مطالبہ

سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے لاہور میں کم سن گھریلو ملازمہ کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ، صدمے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ صرف ایک بچی یا ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک چیلنج اور ریاستی نظامِ تحفظ کی ناکامی کا دردناک ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ لڑکی نے مبینہ جنسی تشدد کی شکایت کی تھی اور اپنی وفات سے قبل دیے گئے بیان میں بھی سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ پولیس کی جانب سے مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کرنا اس معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ضروری ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور قانون کے تقاضوں کے مطابق انجام دی جائیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور جو بھی عناصر اس جرم میں ملوث ہیں انہیں عبرتناک سزا دی جا سکے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ گھریلو ملازمین، بالخصوص خواتین اور کم عمر بچیاں، معاشرے کے ان طبقات میں شامل ہیں جو اکثر استحصال، تشدد، ہراسگی اور جنسی جرائم کا شکار بنتی ہیں جبکہ ان کے تحفظ کے لیے مؤثر نگرانی اور شکایت کے نظام کا فقدان ہے۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس امر کی متقاضی ہے کہ ریاست اور معاشرہ دونوں اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا گھریلو ملازمین کے جان، عزت اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے, بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے موجود قوانین پر مؤثر عمل درآمد ہو رہا ہے اور انصاف کا نظام کمزور اور طاقتور کے درمیان یکساں معیار اختیار کیے ہوئے ہے؟ ریاستی اداروں کو عملی اقدامات کے ذریعے ان سوالات کے جوابات دینا ہوں گے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ ایک مہذب اور انصاف پسند معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد کو بھی مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کرے۔ انسانی وقار، خواتین کے احترام، بچوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے دعوے صرف بیانات سے نہیں بلکہ مؤثر پالیسی سازی اور عملی اقدامات سے ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان اور بالخصوص حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور اسے ایک مثال بناتے ہوئے گھریلو ملازمین، خصوصاً خواتین اور کم سن بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
مطالبات
لاہور سانحہ کی عدالتی نگرانی میں شفاف، غیر جانبدار اور فوری تحقیقات مکمل کی جائیں۔
جرم میں ملوث تمام افراد کو بلاامتیاز قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
گھریلو ملازمین کے حقوق، اوقاتِ کار، تحفظ اور شکایات کے ازالے کے لیے جامع قانون سازی کی جائے۔
گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن، نگرانی اور تحفظ کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد اور استحصال کے مقدمات کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں فعال کی جائیں۔
متاثرہ خاندان کو مکمل قانونی معاونت، نفسیاتی سہولتیں اور مالی امداد فراہم کی جائے۔
تعلیمی اداروں، میڈیا اور سماجی تنظیموں کے ذریعے خواتین، بچوں اور گھریلو ملازمین کے حقوق سے متعلق قومی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے زور دیا کہ وقت آ گیا ہے کہ گھریلو ملازمین کے تحفظ سے متعلق جامع قانون سازی کو فوری طور پر عملی شکل دی جائے اور موجودہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ جب تک قانون کی گرفت ہر بااثر مجرم تک یکساں طور پر نہیں پہنچے گی اور کمزور طبقات کو مؤثر تحفظ حاصل نہیں ہوگا، ایسے المناک واقعات کا سدباب ممکن نہیں۔ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کو مل کر اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ پاکستان میں کسی بھی خاتون، بچی یا گھریلو ملازم کو ظلم، استحصال اور تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دریں اثنا ڈپٹی سیکرٹریز عطیہ نثار ، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ، عفت سجاد ، ڈاکٹر زبیدہ جبیں , عائشہ سید، ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے بھی گھریلو ملازمہ پر تشدد کے واقعے پر گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کیا ہے