March 5th, 2026 (1447رمضان16)

اساتذہ اپنا مرتبہ و کردار پہچانیں‘نئی نسل کو باعمل مسلمان اور محب وطن شہری بنائیں ٗ حمیرا طارق

جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کے تحت مقامی بینکوئیٹ نارتھ ناظم آباد میں ٹیچرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا ۔کنونشن سے سیکریٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان حمیرا طارق ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ،ڈائریکٹر میڈیا سیل پاکستان ثمینہ سعید اورناظمہ کراچی جاوداں فہیم نے بھی خطاب کیا۔ کنونشن میں تعلیمی میدان سے وابستہ اسکالرز اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جہاں انہیں اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ڈاکٹر حمیرا طارق نے نے ’’عصر حاضر کے چیلنجر میں اساتذہ کے کردار پر ہمہ جہت سمتوں میں رہنمائی ‘‘کے موضوع پر ’’ٹیچرز کنونشن ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ اپنا مرتبہ و کردار کو پہچانیں، اپنی تعلیم کے ذریعے میں نئی نسل کو باعمل مسلمان اور محب وطن شہری بنائیں۔اگر ہم نے اپنے حصے کا کام کر لیا تو ان شاء اللہ وہی نسل تیار ہوگی ۔سرکاری اداروں کی حالت زار افسوسناک ہے، اساتذہ کی محنت اور اوقات کار کے باوجود ان کی تنخواہیں استحصالی ہیںاور پرائیویٹ اداروں میں بھی استحصال جاری ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام طبقات میں تقسیم ہے، ایلیٹ ادارے افسر بناتے ہیں، جبکہ غریب کے بچے اپنی قابلیت کے باوجود کلرک یا مزدور بننے پر مجبور ہیں۔ نظام تعلیم نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔جس کے نتیجے میں نئی نسل ترقی کا سفر طے کرتی ہے۔ہمارا نظام تعلیم ایسی چراگاہ ہے جسے ہر ایک بغیر سوچ اور نظریے کے چلا رہا ہے۔عقیدے کی بنیاد پر بننے والے ملک پاکستان کو طبقاتی نظام تعلیم نے کھوکھلا کر دیا ہے۔امیر امیر تر اور غریب کا بچہ کلرک ہی بنے گا۔آج قدروقیمت ذہانت کی نہیں بلکہ پیسے کی ہے ڈگریاں خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔سونے پہ سہاگا این جی اوز کی تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں ہیں۔بندشوں سے آذاد مغربی ایجنڈے کے یہ بیوپاری ہمارے بچوں کو وہ سب سکھاتے ہیں جو ہماری معاشرتی اقدار اور مذہبی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔سمیحہ راحیل قاضی نے کہاکہ معلمہ کا کردار صرف نصاب پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کے دلوں میں خودی، غیرت، حب الوطنی اور دین سے وابستگی پیدا کرنا ہے۔ تعلیم کے ذریعے نوجوان نسل کو مغربی فکر کا غلام نہ بننے دیں۔ اساتذہ ہی وہ قوت ہیں جو کسی بھی نصاب کو اپنی فکر اور انداز سے حکمت و بصیرت کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ کنونشن میں مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کرام نے کہا کہ والدین اور استاد مل کر بچے کی تربیت کرتے ہیں ہمیں اپنے بدلتے لائف اسٹائل کو کنٹرول کرنا ہوگا۔عثمان پبلک اسکول کی ڈپٹی ڈائریکٹر صبوح طلعت نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بچے کے کچے ذہن میں جو چیزیں ڈالی جا رہی ہیں ان پر نظر رکھنا آج کا چیلنج ہے۔عقیدے سے متصادم نظریات ہمارے بچوں کو نہ دین کا رہنے دیتے ہیں نہ دنیا کا۔اس موقع پر ناظمہ کراچی جاوداں فہیم نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔جس میں تحریر تھا کہ طبقاتی نظام تعلیم ختم کیا جائے۔نصاب تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔اساتذہ کی ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے۔خواتین اساتذہ کیلئے سہولیات اور تحفظ فراہم کیا جائے۔پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔طلبہ یونین بحال کی جائے۔سرکاری اور میڈیکل کالجز میں سیلف فائننس کی سیٹیں کم کی جائیں۔اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان عطیہ نثار، ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب،ممتاز ماہرین تعلیم سیدہ آنا حسن، عمرانہ معیز، یمنی شعیب اور نجم النساء خان بھی موجود تھیں۔