حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی جاری ممبرشپ مہم کے سلسلے میں ملک کے مختلف مقامات پر چار اہم اور ولولہ انگیز پروگرامز منعقد ہوئے، جن میں خواتین کی بھرپور شرکت نے اس تحریک کو نئی توانائی عطا کی۔ پی پی 168 ڈیرہ ظہور احمد وٹو میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا، جسے سیاست و معاشرت میں دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اجتماعی ذمہ داریوں سے غفلت اور ذاتی مفادات نے قوم کو کمزور کیا ہے، جبکہ اسلام ہمیں باہمی خیرخواہی اور فلاحی معاشرے کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ممبرشپ مہم میں شامل ہو کر ایک باکردار اور منصفانہ پاکستان کے قیام میں کردار ادا کریں۔
منڈی بہاؤالدین میں اسلامک سنٹر واسو میں منعقدہ خواتین کے اجتماع میں ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بااعتماد اور باہمت بننے کے لیے قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرہ ہی خواتین کو حقیقی تحفظ فراہم کرتا ہے اور اسی بنیاد پر آئندہ نسلوں کی بہترین تربیت ممکن ہے۔ پروگرام میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور معاشرتی اصلاح کے عزم کا اظہار کیا۔
اسلام آباد کے شہزاد ٹاؤن زون 2 میں “ہمارا عزم ہر دل تک قرآن” کے عنوان سے عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل عفت سجاد نے سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی میں قرآن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہترین انسان وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے، اور اسی پیغام کو عام کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ شرکاء کو قرآن سے تعلق مضبوط کرنے اور اس روشنی کو دوسروں تک پہنچانے کی تلقین کی گئی، جبکہ اختتام پر ممبرسازی کا عمل بھی کیا گیا۔
راجن پور میں جنوبی پنجاب کے تحت منعقدہ جلسہ عام میں مرکزی نگران قرآن پروجیکٹ انیلہ محمود نے خطاب کرتے ہوئے عوام کو ظالمانہ نظام سے نکلنے اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمین وسائل سے مالا مال ہے مگر نااہل حکمرانوں نے عوام کو محرومیوں میں دھکیل دیا ہے۔ صدر صوبہ جنوبی پنجاب شازیہ سیال نے کہا کہ ناانصافی اور لوٹ کھسوٹ ہی معاشرتی فساد کی جڑ ہے، جبکہ قرآن کے نظام کے نفاذ سے ہر فرد کو اس کا حق مل سکتا ہے۔ پروگرام میں خواتین اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور بھرپور ممبرسازی عمل میں لائی گئی۔
ان تمام پروگراموں میں ایک مشترکہ پیغام سامنے آیا کہ قرآن کی تعلیمات، اجتماعی شعور اور نیک قیادت کے ذریعے ہی پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک فلاحی اور اسلامی ریاست بنایا جا سکتا ہے۔
