سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان، عظیم اسلامی قائد قاضی حسین احمدؒ کی تیرھویں برسی کے موقع پر ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ قاضی حسین احمدؒ امتِ مسلمہ کے ایک عظیم، باکردار اور دوراندیش رہنما تھے، جنہوں نے پوری زندگی اتحادِ امت، خودی اور خودداری کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ قاضی حسین احمدؒ نے نہ صرف قوم کو نظریاتی شعور دیا بلکہ اپنی عملی زندگی سے اس کا جیتا جاگتا نمونہ پیش کیا۔ انہوں نے جماعت اسلامی کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سیاسی جدوجہد کو مؤثر بنانے اور عوامی سطح پر جماعت کے کردار کو مضبوط کرنے کے لیے غیر معمولی محنت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ قاضی حسین احمدؒ دو مرتبہ امیر جماعت اسلامی منتخب ہوئے اور ارکان و کارکنان ہی نہیں بلکہ عوام کی ایک بڑی تعداد میں بھی بے حد مقبول تھے۔ ان کی سیاسی بصیرت اور مدبرانہ قیادت نے جماعت اسلامی کو پارلیمان میں مؤثر آواز عطا کی جبکہ ان کی کامیاب خارجہ حکمتِ عملی کے باعث وہ عالمی سطح پر بھی ایک باوقار اور ہر دلعزیز رہنما کے طور پر پہچانے گئے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق کا کہنا تھا کہ قاضی حسین احمدؒ کی قیادت میں اتحادِ امت کا شعور مضبوط ہوا اور شام سے افغانستان تک، کشمیر سے فلسطین تک، امتِ مسلمہ کی مظلوم تحریکوں میں بیداری کی لہر پیدا ہوئی۔ مسلمانوں نے ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کیا اور مشترکہ جدوجہد کا احساس پروان چڑھا۔
انہوں نے کہا کہ قاضی حسین احمدؒ طلبہ و طالبات سے خصوصی محبت رکھتے تھے اور ان کی فکری و عملی رہنمائی کو اپنی جدوجہد کا اہم حصہ سمجھتے تھے۔ آج بھی ان کی دی ہوئی فکر نوجوان نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے مزید کہا کہ قاضی حسین احمدؒ اگرچہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، مگر ان کی حق گوئی، جرأتِ ایمانی اور باطل کے خلاف للکار آج بھی کفر کے ایوانوں میں لرزہ طاری کیے ہوئے ہے، اور ان کا مشن اہلِ حق کے لیے مشعلِ راہ بنا ہوا ہے نیز ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ، عطیہ نثار ، عفت سجاد ، عائشہ سید ،ڈاکٹر زبیدہ جبیں اور ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے بھی قاضی حسین احمد کو ان کی گراں قدر دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔
