دھرنے کے تیئیسویں روز قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے خواتین کےدھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری پیٹرولیم لیوی ختم نہ کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل مہنگائی کا بوجھ ان کے کندھوں پر ڈال رہی ہے، جبکہ جماعت اسلامی کا دھرنا عوام کے حقوق کی جدوجہد ہے اور حکمرانوں کے دباؤ یا احکامات سے یہ جدوجہد ختم نہیں ہوگی۔
ثمینہ سعید نے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی کو دھرنا ختم کرنے کے احکامات دینے کے بجائے عوام کی مشکلات ختم کرنے کے اقدامات کرے۔ عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کرنے والی حکومتی پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے اور پیٹرولیم لیوی سمیت وہ تمام اضافی بوجھ ختم کیے جائیں جو براہِ راست عوام کی جیب پر پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے سب سے زیادہ خواتین کے گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے۔ آٹا، دالیں، سبزیاں، بجلی، گیس اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے گھر چلانا مشکل بنا دیا ہے۔ ایک ماں کو محدود آمدن میں بچوں کی خوراک، تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ نئے مسائل کا سامنا ہے۔ حکمرانوں کے لیے مہنگائی شاید اعداد و شمار ہیں، لیکن خواتین کے لیے یہ روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت ہے۔
قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ دھرنے کا مقصد کسی فرد یا جماعت کے مفاد کے بجائے عام پاکستانی کے حقِ زندگی، سستی بجلی، سستا پٹرول اور بنیادی ضروریات تک آسان رسائی کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہٹ دھرمی چھوڑے، عوام دشمن پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور فوری طور پر حقیقی ریلیف دے۔ جماعت اسلامی عوامی حقوق کے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور جب تک عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، احتجاج اور جدوجہد جاری رہے گی۔
