September 9th, 2026 (1448ربيع الأول26)

اردو کو قومی زندگی کی زبان بنائے بغیر پاکستان حقیقی ترقی کی منزل حاصل نہیں کرسکتا: ثمینہ سعید

قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید ، شعبہ تعلیم کی نگران عفت سجاد ، تعلیمی کمیٹی کی نگران ڈاکٹر نصرت طارق نے 8 ستمبر یومِ نفاذ اردو کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ آج کا دن ہمیں اُس تاریخی عدالتی فیصلے کی یاد دلاتا ہے جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس جواد ایس خواجہ نے قومی زبان اردو کے عملی نفاذ کا حکم جاری کیا تھا، مگر گیارہ برس گزرنے کے باوجود اس فیصلے پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا قومی زبان اور آئین دونوں سے بے اعتنائی کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اردو محض رابطے کی زبان نہیں بلکہ پاکستان کی قومی شناخت، تہذیبی وحدت اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے اپنی قومی زبانوں کو علم، تحقیق، تعلیم، معیشت اور دفتری امور کی بنیاد بنا کر ترقی کی منازل طے کی ہیں، پاکستان بھی قومی زبان کو اس کا آئینی اور عملی مقام دیے بغیر حقیقی خودمختاری اور ترقی حاصل نہیں کرسکتا۔
ثمینہ سعید نے مطالبہ کیا کہ اردو کو فوری طور پر نصاب اور تدریس کی بنیادی زبان بنایا جائے، اعلیٰ تعلیم، سرکاری دفاتر، عدالتوں اور ریاستی اداروں میں اردو کے عملی استعمال کو یقینی بنایا جائے اور جدید علوم و تحقیق کا معیاری علمی ذخیرہ قومی زبان میں منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی زبان میں تعلیم قوم کے بچوں کو علم سے جوڑتی اور احساسِ کمتری سے نجات دلاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج قوم کو محض یومِ اردو منانے کے بجائے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف پُرامن اور بھرپور احتجاج کا عزم کرنا چاہیے۔ 
قائم مقام سیکرٹری جنرل نے کہا کہ قومی زبان کا نفاذ کسی زبان کے خلاف نہیں بلکہ قومی وحدت، مساوی مواقع اور پاکستان کی حقیقی خودمختاری کے حق میں جدوجہد ہے۔ حکومت فوری طور پر نفاذِ اردو کے عدالتی فیصلے پر مکمل عمل درآمد کا عملی لائحہ عمل دے، یہی قومی وقار اور آئینی تقاضوں کا راستہ ہے