May 23rd, 2022 (1443شوال21)

یتیم کی کفالت، اللہ کی شکر گزاری اور روز قیامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لیے بہترین عبادت کی حیثیت رکھتی ہے.دردانہ صدیقی

 بحیثیت مسلمان ہمارا کامل یقین ہے کہ یتیم کی کفالت، اللہ کی شکر گزاری اور روز قیامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لیے بہترین عبادت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کسی معاشرے کا امتحان ہے کہ وہ ان بچوں سے کیا سلوک کرتا ہے ان کو قومی و ملی خیال کرتا ہے یا محکوم و محتاج سمجھتا ہے۔ان خیالات کا اظہار سیکریٹری جنرل حلقہ خواتین  جماعت اسلامی پاکستان دردانہ صدیقی نے 15 رمضان المبارک یوم یتامیٰ کے موقع پر جاری اپنے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جس کی تعلیمات کے مطابق یتیم کی کفالت اور پرورش کرنا، انہیں تحفظ دینا، ان کی نگرانی کرنا اور ان کے ساتھ بہتر سلوک کرنا ایسا صدقہ جاریہ جاریہ ہے جس کے اجر و ثواب کا اللہ نے خود وعدہ کر رکھا ہے۔یہ ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ آگے بڑھ کر اپنی زبان ،عمل اور رویوں سے معاشرے کو یتیم دوست بنائیں، ان کی زندگی میں امید کو روشن کریں، ہم ان کا حق ادا کریں گے تو یہ عمل ہمارے لیے بھی اجر عظیم کا باعث ہوگا۔ ۔انہوں نے مزید کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کفالت یتامیٰ کے حوالے سے ملک و بیرون ملک خصوصی کوششیں کررہی ہے۔  یتیم کی پرورش کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ  پورے معاشرے اور حکومت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ دردانہ صدیقی نے کہا کہ  رمضان المبارک میں ہر عمل کا اجر بڑھ جاتا ہے اس ماہ مبارک میں یتامیٰ کی کفالت کا ذمہ اٹھانے کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔والدین کی شفقت سے محروم بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس معاشرے کے اہل خیر کی توجہ کی منتظر ہے