October 22nd, 2021 (1443ربيع الأول16)

جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کے تحت ’’تہذیب ہے حجاب ‘‘سیمینار

جماعت اسلامی کراچی (حلقہ خواتین )کے تحت ’’عالمی یوم حجاب ‘‘وحجاب آگہی مہم کے سلسلے میں ’’تہذیب ہے حجاب‘‘کے عنوان سے مقامی ہوٹل میں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ،کانفرنس سے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان دردانہ صدیقی ،سمیحہ راحیل قاضی‘امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اورپاکستان مسلم لیگ فنکشنل لیگ کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی اور ناظمہ کراچی اسماء سفیر ودیگر نے خطاب کیا،اس موقع پر ڈپٹی جنرل سیکرٹری حلقہ خواتین تسنیم معظم ،رکن صوبائی اسمبلی تحریک انصاف ادیبہ یوسف ،ارم بٹ ودیگر بھی موجود تھیں،کانفرنس میں نوجوان بچیوں، خواتین اساتذہ،وکلا صحافیات،ادیب ،ڈاکٹرز، پروفیشنلز اور شوبزسے وابستہ خواتین سمیت مؤثر طبقات اورمختلف شعبہ زندگی کی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ، کانفرنس میں ’’بات یہ ہے ‘‘ آمنہ عثمان کے ساتھ کے عنوان سے ٹاک شو منعقد کیا گیا جس میں نگراں جامعۃ المحصنات پاکستان ثوبیہ عبدا لسلام ، نگراں ورکنگ ویمن آرگنائزیشن پاکستان طلعت فخر ، لکھاری و رکن حریم ادب پاکستان افشاں نوید ، ناظمہ جماعت اسلامی صوبہ سندھ رخشندہ منیب ، ناظمہ صوبہ سندھ اسلامی جمعیت طالبات عروبہ شافعیہ نے شرکت اور تہذیب ہے حجاب کے موضوع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ جے آئی ویمن یوتھ ونگ کراچی کے تحت حجاب رائٹنگ اسٹوری میں اول ، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات میں شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں، کانفرنس میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی عالیہ منصور اور عائشہ فہیم نے پروگرام زاویہ کے نام سے سیگمنٹ منعقد کیا جس میں ہال میں موجود خواتین سے حجاب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام کے اختتام پر پرنٹ والیکٹرونک میڈیا سے وابستہ خواتین میں ایوارڈ بھی تقسیم کیے گئے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دردانہ صدیقی نے کہاکہ آج کی یہ محفل صرف ایک روایت نہیں بلکہ خاندان ، معاشرے اور مملکت کی اصلاح کے لیے جاری ایک جہد مسلسل کا حصہ ہے ، اسلامی تہذیب کی بنیاد اسلام کے آفاقی اصولوں پر مبنی ہے ،اسلام اپنی جامعیت اور انسانی معاشرے کی ضرورت سے ہم آہنگ ہونے کے باعث تمام مذاہب میں نمایاں مقام رکھتا ہے، اسلامی تہذیب کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے اعلیٰ اخلاقی قدروں کوضابطہ حیات اور زندگی کی سرگرمیوں میں اولین مقام عطا کیا یہی وجہ ہے کہ اسلام کے نظام معاشرت میں حیا اور حجاب محض سر پر کھے جانے والے ڈیڑھ گز کے کپڑے کانام نہیں بلکہ مکمل نظام عصمت و عفت ہے ،حیا و حجاب ایک مجموعہ احکام کا نام ہے ،جس میں مردو زن کے لیے نگاہیں نیچے رکھنے کے ساتھ گھر کے اندر اور باہر معاشرتی زندگی کے احکامات بھی شامل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حیا و حجاب اس احساس کا نام ہے جو معاشرے کو پاکیزگی اور خاندانی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے ایک نظریے اور تہذیب کامظہر ہے ،دین اسلام فرد کی آزادی کو بھی مقدم رکھتا ہے اور اجتماعیت اور معاشرے کے حقوق کا بھی ضامن ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ آج ’’تہذیب ہے حجاب ‘‘کے عنوان سے منعقد یہ کانفرنس پوری دنیا میں مزاحمتی تحریک میں شامل خواتین بالخصوص مسجد اقصیٰ کی حفاظت پر مامور خاتون مریم کے نام منسوب کرتے ہیں اور ان کے نام بھی جومقبوضہ کشمیر کی ان خواتین کے نام جو 10لاکھ بھارتی فوج کے مقابلے میں برسرپیکار ہیں اور ان حالات میں بھی اپنے بچوں کی بھرپور تربیت کررہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حیا و حجاب شرم سے ماخوذ ہے ، ایک دوسرے کا احترام ،لحاظ ، مروت ہمارے معاشرے کی اہم اقدار ہیں ،بدقسمتی سے پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اپنے ہی بعض لوگ مغرب کا تصور ہمارے دلوں میں بٹھانے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ امریکہ میں گزشتہ ایک سال کے دوران 1181عورتوں کو ان کے شوہروں نے قتل کیا ،4.8ملین خواتین ہراسمنٹ کا شکار ہوئیں جبکہ 2032خواتین ایسی ہیں جن کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے ،امریکہ کا یہ چہرہ دنیا کو نہیں دکھایا جارہا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں لاکھوں خواتین ٹھیکداری نظام کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں جس پر کوئی سیکولر اور لبرل آواز اٹھانے کو تیار نہیں ،گورنمنٹ کی سطح پر خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام موجود نہیں ہے ،خواتین چنگ چی پر سفر کرنے پر مجبور ہیں ،عورتوں کے حقوق کے نام پر عورتوں کا استحصال کرنے والی این جی اوز اگر واقعی عورتوں کے حقوق کے لیے فکرمند ہے تو آئیں ان کے لیے جماعت سلامی کے دروازے کھلے ہیں ،اگر اس کے باوجود این جی اوز اپنا قبلہ درست نہیں کرتیں تو صاف ظاہر ہے یہ مغربی ایجنڈے کے آلہ کار لوگ ہیں ،جنہیں کسی صورت مغربی ایجنڈے کی تکمیل نہیں کرنے دی جائے گی۔انہوںنے کہاکہ آج افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پوری دنیا میں باتیں ہورہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ طالبان خواتین پر سختی کررہے ہیں ، امریکہ میں اسکول اور یونیورسٹیز میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کی گئیں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ افغانستان میں خواتین کو شریعت کے مطابق پردہ کرنے پر تعلیم حاصل کرنے کی مکمل اجازت دی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں ، ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ حکومت اپنی مرضی کے مطابق ہی خبریں چلوائے ،خود میڈیا کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ جوکچھ چینل میں دکھایا جارہا ہے کیا یہ ہمارے معاشرے اور تہذیب سے مطابقت رکھتا ہے یا کسی اور کا ایجنڈا ہے ،میڈیا مالکان خود بھی غور کریں کہ کہیں کسی اور کے ایجنڈے پر ہماری سوسائٹی کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش تو نہیں کی جارہی ۔انہوں نے کہاکہ اسلامی تہذیب کی بنیاد اللہ کی غلامی اور اللہ کے نظام کا نفاذ ہے جبکہ مغربی تہذیب کی بنیاد انسانوں کی غلامی پر منحصر ہے ،سرمایہ دارانہ نظام میں چند لوگوں کی ترقی کے سوا کچھ نہیں ،بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اسلام کا لبادہ اوڑھے لوگ مغربی تہذیب اور اس کے کلچر کو عام کررہے ہیں ۔نصرت سحر عباسی نے کہاکہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی جانب سے خوبصورت محفل کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ اس پروگرام کے توسط سے معاشرے میں حیا اور حجاب کا پیغام عام ہوگا ،میرے حجاب کرنے میں سب سے زیادہ میرے شوہر اور میرے 22سالہ بیٹے کاکردار ہے جو مجھے بار بار ترغیب دلاتے تھے کہ آپ حجاب کیا کریں ،3اگست کو رات میرے بیٹے نے کہاکہ مجھے ڈر ہے کہ حجاب نہ کرنے کی وجہ سے آپ کو قبر کا عذاب نہ ملے اور اگلے ہی روز 4اگست کی صبح کا آغاز میں نے تہجد کی نماز سے کیا اور باقاعدہ حجاب کرنا شروع کردیا ، آج میں اپنی ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں سے بھی درخواست کرتی ہوں کہ حجاب کو اپنے شعار بنائیں اسی میں عورت کی عزت اور تحفظ ہے ۔