November 30th, 2021 (1443ربيع الثاني24)

عالمی یوم حجاب آج منایا جارہا ہے،دنیا حجاب کی افادیت کو محسوس کرے،دردانہ صدیقی

دنیا بھر میں آج یوم حجاب منایا جارہا ہے ، جماعت اسلامی حلقہ خواتین نے ملک بھر میںلیکچرز ، سیمینارز ، کانفرنسز اور تقریبات کا اعلان کردیا ہے ۔ ادارہ نور حق کراچی میں ’’عالمی یوم حجاب ‘‘کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان دردانہ صدیقی نے کہا ہے کہ عالمی یوم حجاب پر حلقہ خواتین جماعت اسلامی آج لاہور میں عظیم الشان حجاب کانفرنس کا انعقاد کر ے گی ،18ستمبر کو کراچی میں حجاب کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں مختلف طبقہ ہائے فکر اور شعبہ ہائے زندگی کی خواتین شرکت کریں گی ،15 ستمبر کو گجرات اور 25 ستمبر کو ضلع شرقی کراچی سمیت بڑے شہروں پشاور، کوئٹہ کے علاوہ ملک بھر میں جماعت اسلامی کی تنظیم اور شعبہ جات جامعات المحصنات، قرآن انسٹیٹیوٹ، ورکنگ ویمن، کمیونٹی اسکولز نیٹ ورک کے تحت لیکچرز، فورمز، سیمینارز، ڈسکشن فورمز کے علاوہ پرنٹ،الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے حیا اور حجاب کو بطور تہذیب اپنانے کے لیے پیغام پہنچانے کی بھر پور کوشش کی جائیگی اس سلسلے میں ہر طبقہ ِزندگی کی خواتین سے رابطہ کیا جائے گا۔ دردانہ صدیقی نے کہا کہ 4ستمبر عالمی یوم حجاب اس عہد کو دہرانے کا دن ہے کہ پاکیزگی مرد وعورت کے حیا اور حجاب کے نظام میں پوشیدہ ہے،حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان دنیا بھر میں متاثرہ مسلم خاندانوں اور مسلمان خواتین سے اظہار یکجہتی کرتی ہے ، حجابی تہذیب آج ہر معاشرے کی ضرورت ہے، حجاب خطرہ نہیں تحفظ ہے۔ دردانہ صدیقی نے کہا کہ دنیا میں خواتین کے حقوق پر شور بلند کرنے والی این جی اوز مسلم خواتین کے حجاب کے معاملے میں جانبداری ترک کریں ، قومیں معاشی بدحالی سے نہیں بلکہ اخلاقی پستی سے ہلاک ہوتی ہیں،دنیا حجاب کی مخالفت کے بجائے اس کی افادیت کو محسوس کرے اور مسلمان خواتین کو حجاب اختیار کرنے کا بنیادی انسانی حق دے ، اشتہارات اور ڈراموں میں عورت کا استحصال بند کیا جائے اور خواتین کی عزت اور احترام کی ترغیب و ترویج کی جائے ،ٹی وی ڈراموں میں مقدس رشتوں کے وقار اور تقدس کی پامالی کا سلسلہ فوری ختم کیا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ملک میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سب سے پہلے آواز اٹھائی ہے اور خواتین کی عزت و وقار کو برقرار رکھنے کے لیے معاشرے کی اصلاح کی ہے ،آج لمحہ فکر ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جس کے اندر اخلاق و کردار کی جھلک بھی نظر نہیں آتی، ہم جتنے چاہیں مباحثے کریں اصل حقیقت یہی ہے کہ ہم اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوتے جارہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ عالمی یوم حجاب پر’’تہذیب ہے حجاب ‘‘کے عنوان سے مہم چلائیں گے،عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو دنیا بھر میں حجاب کی مخالفت دراصل ایک کپڑے کے ٹکڑے کی نہیں بلکہ اسلامی تہذیب اور نظریے کی مخالفت ہے ۔ عالمی یوم حجاب دراصل حجاب کے حوالے سے امتیازی سلوک کے خلاف منظم جدوجہد کے طور پر منایا جاتا ہے ،تاکہ دنیا کو بتایا جائے کہ حیا اور حجاب ہمارا فخر اور شعار ہے اس کا دہشت گردی یا پسماندگی سے کوئی تعلق نہیں ۔ دنیا میں مسلم خواتین کے لباس اور حجاب پر پابندی کا رویہ اسلام اور مسلمان آبادیوں کے لیے تعصب کا عکاس ہے ،حالیہ دنوں میں Walter Wobmann نے سوٹزر لینڈ میں چہرہ ڈھکنے کو انتہا پسندی کی علامت قرار دیا جبکہ دوسری جانب سری لنکا میں قومی سلامتی کے نام پر ملک میں خواتین کے برقعے اور مدارس پر پابندی عاید کردی گئی ۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ عثمان ،ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیر ،ناظمہ کراچی اسما سفیر ،ڈائریکٹر میڈیا سیل عالیہ منصور سیکرٹری اطلاعات صائمہ افتخار اور دیگر بھی موجود تھیں۔