قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے بانی جماعت اسلامی پاکستان، عظیم مفکرِ اسلام اور تاریخ ساز عالمِ دین سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے یومِ وفات پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سید مودودیؒ ایک عہد ساز شخصیت تھے جنہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کے جامع نظامِ زندگی کو عصرِ حاضر کے سامنے مدلل، مؤثر اور عملی انداز میں پیش کیا۔ ان کی پوری زندگی اقامتِ دین، اعلائے کلمۃ اللہ اور اسلامی فکر کی تجدید کے لیے وقف رہی۔
انہوں نے کہا کہ سید مودودیؒ رحمتہ اللہ کی علمی و دینی خدمات امتِ مسلمہ کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ تفہیم القرآن، الجہاد فی الاسلام، دینیات، مسئلہ قومیت اور دیگر تصانیف نے اسلامی فکر، دعوت اور علمی تحقیق کے میدان میں گہرے اثرات مرتب کیے۔ انہوں نے قرآن مجید کو محض تلاوت و مطالعے کی کتاب نہیں بلکہ دعوت، تحریک اور عملی زندگی کی رہنمائی کا سرچشمہ قرار دیا۔
ثمینہ سعید نے کہا کہ 26 اگست 1941ء کو جماعت اسلامی کے قیام کے ذریعے سید مودودیؒ نے اسلامی نظامِ زندگی کے قیام کے لیے ایک منظم اور اصولی تحریک کی بنیاد رکھی۔ جماعت اسلامی کی فکری تربیت، دعوتی جدوجہد اور اجتماعی اصلاح کا سفر ان کی بصیرت، اخلاص اور مسلسل محنت کا روشن ثمر ہے۔ ان کی فکر نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر سمجھنے اور معاشرے کی اصلاح کے لیے عملی جدوجہد کرنے کا شعور بیدار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج سید مودودیؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا تقاضا صرف ان کی تصانیف کا تذکرہ نہیں بلکہ ان کے مشن کو سمجھنا، قرآن سے تعلق مضبوط کرنا، اپنے کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا اور معاشرے میں عدل، دیانت، حیا اور خدمتِ خلق کو فروغ دینا ہے۔ خواتینِ جماعت اسلامی، کارکنان اور نئی نسل کو چاہیے کہ وہ علمی مطالعے، فکری تربیت، دعوتِ دین اور اجتماعی اصلاح کے میدان میں اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں۔
قائم مقام سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ سید مودودیؒ کی فکر ایک زندہ امانت ہے، جسے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے حکمت، استقامت اور منظم جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ اسلامی معاشرے کی تعمیر، خواتین اور بچیوں کی دینی و عصری تعلیم، نسلِ نو کی کردار سازی اور مظلوم انسانیت کی خدمت کے ذریعے ہم ان کے مشن سے اپنی وفاداری کا عملی ثبوت دے سکتے ہیں۔
ثمینہ سعید نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے اخلاص، استقامت اور دعوتی جذبے سے سبق حاصل کرتے ہوئے اقامتِ دین کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
