August 7th, 2026 (1448صفر24)

کشمیر کی آزادی ناگزیر، ظلم و جبر کبھی عوامی امنگوں کو شکست نہیں دے سکتا: ڈاکٹر حمیرا طارق

حکومتِ پاکستان مسئلہ کشمیر کو ہر بین الاقوامی فورم پر مؤثر انداز میں اجاگر کرے،
سیکرٹری جنرل حلقۂ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ 5 اگست 2019 جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع آئینی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرتے ہوئے کشمیری عوام کے بنیادی، سیاسی اور انسانی حقوق پر ایک اور کاری ضرب لگائی۔ گزشتہ سات برسوں سے کشمیری عوام مسلسل ظلم، محاصرے، انسانی حقوق کی پامالی، سیاسی جبر اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا سامنا کر رہے ہیں، مگر ان کے جذبۂ حریت کو دبایا نہیں جا سکا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد کسی سرحد یا خطے کا نہیں بلکہ انسانی وقار، انصاف اور حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ دنیا کی مہذب اقوام، اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مؤثر نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دلانے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ پاکستانی قوم، خصوصاً خواتین، اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں۔ کشمیری ماؤں، بہنوں اور بچوں نے جس صبر، استقامت اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے وہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے عزم و حوصلے کی مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ پاکستان مسئلہ کشمیر کو ہر بین الاقوامی فورم پر مؤثر انداز میں اجاگر کرے، سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرے اور دنیا کو یہ باور کرائے کہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ رائے کے مطابق ہی ممکن ہے۔
آخر میں ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ ظلم کی ہر رات کا ایک سویرا ہوتا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ کشمیری عوام کی عظیم قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزادی، امن اور انصاف کی نئی صبح کا استقبال کرے گا