October 28th, 2026 (1448جمادى الأولى16)

کشمیر کی آزادی محض نعروں سے نہیں، فیصلہ کن سفارتی جدوجہد سے ممکن ہوگی؛ حکومت پاکستان عالمی ضمیر جھنجھوڑے، ڈاکٹر حمیرا طارق

سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر رسمی بیانات اور روایتی مذمتی قراردادیں کافی نہیں، حکومت پاکستان کشمیری عوام کی آزادی اور حقِ خودارادیت کے لیے مؤثر سفارتی مہم اور ٹھوس عملی اقدامات کرے۔ 27 اکتوبر 1947ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کا داخلہ کشمیری عوام کی تاریخ کا المناک باب ہے، جس کے بعد سے وہ آزادی کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ کشمیری عوام نے اپنی آزادی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ بھارتی مظالم، پابندیوں، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود ان کے عزم کو شکست نہیں دی جا سکی۔ 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام نے کشمیری عوام کے سیاسی، جمہوری اور بنیادی حقوق پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کشمیر محض زمین کے ایک ٹکڑے کا تنازع نہیں بلکہ ایک پوری قوم کے مستقبل، آزادی اور حقِ انتخاب کا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود کشمیری عوام آج بھی اپنے حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو خاموش تماشائی بننے کے بجائے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے خاتمے اور کشمیری عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان نے زور دیا کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کو اپنی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیحات میں شامل کرے، اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر بھرپور سفارتی مہم چلائے اور بھارتی مظالم کے مستند شواہد عالمی اداروں تک پہنچائے۔ بیرونِ ملک پاکستانی سفارت خانوں کو متحرک کرکے عالمی رائے عامہ ہموار کی جائے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے ایک مربوط، مستقل اور نتیجہ خیز حکمت عملی اختیار کی جائے۔ کشمیری قیادت سے رابطوں کو مضبوط بنایا جائے اور ان کی آواز عالمی ایوانوں تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ کشمیری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی قربانیاں پوری امت مسلمہ کے لیے پیغامِ حریت ہیں۔ پاکستانی قوم کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور حلقہ خواتین جماعت اسلامی بھی ان کے حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی اور کشمیری عوام کو ان کا جائز حق ملنے کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ یکجہتی کے اظہار کو عملی جدوجہد میں بدلے اور کشمیری عوام کو یہ یقین دلائے کہ پاکستان ان کی آزادی کی جدوجہد میں ثابت قدمی سے ان کے ساتھ ہے۔