سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد اہلِ غزہ کی بے مثال استقامت نے پوری امتِ مسلمہ میں بیداری کی ایک نئی لہر پیدا کی اور امت کو اس کی کھوئی ہوئی شناخت، غیرت اور مقصدِ زندگی دوبارہ یاد دلایا۔ فلسطین کے مسئلے میں حق و باطل اور ظالم و مظلوم کے درمیان فرق بالکل واضح ہے۔ اہلِ غزہ نے اپنے عزم، قربانی اور استقامت سے دنیا کو حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا سبق دیا ہے۔
اسلام آباد میں ارکانِ جماعت اسلامی کی تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک اسلامی اور فلاحی معاشرے کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے مہنگائی، ظالمانہ ٹیکسوں اور عوامی مشکلات کے خلاف عوام کی آواز بن کر اسلامی انقلاب کے تصور کو عملی جدوجہد سے جوڑا ہے۔ اسلامی انقلاب محض نعرے کا نام نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش ہے جس میں عدل و انصاف ہو، عوام کو ان کے حقوق ملیں اور کسی غریب پر ظلم نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ عوام میں شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عام آدمی کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اس کے مسائل کیا ہیں، ان کی بنیادی وجوہات کیا ہیں اور ان کے حل کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ ہماری منزل واضح اور لائحہ عمل متعین ہے، اگرچہ راستہ مشکل ہے۔
انہوں نے تنظیمی ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے کے ساتھ عام لوگوں کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع دیں۔ کارکنوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے، باہمی تعاون، بہتر نظم و ضبط اور مشاورت کے ذریعے اجتماعی قوت پیدا کی جائے۔ اسلام عدل، مساوات، امانت، خدمت اور جواب دہی کا نظام چاہتا ہے۔ ۔ قوموں کی زندگی جمود سے نہیں بلکہ نئے عزم، درست فکر اور مسلسل جدوجہد سے بدلتی ہے؛ ہم عوام میں شعور بیدار اور ایک منصفانہ، باوقار اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کریں گے
