اسلام آباد میں امام بارگاہ کے قریب ہونے والے المناک دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے پر سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے گہرے دکھ اور شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ ایسے وحشیانہ واقعات میں ملوث عناصر کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ ملک دشمن اور امن دشمن قوتیں ہیں جو پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان صبر و حوصلے سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام زخمیوں کو بہترین اور فوری علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن امداد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ملک دشمن عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ قوم اس دکھ کی گھڑی میں متحد ہے اور دہشت گردی کے خلاف اجتماعی جدوجہد ہی اس فتنے کا واحد حل ہے۔۔۔۔علاوہ ازیں اس افسوس ناک واقعے پر ڈپٹی سیکریٹریز ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، عطیہ نثار ،ڈاکٹر زبیدہ جبیں، عفت سجاد، عائشہ سید ،ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید ،ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا سیل سعدیہ حمنہ اور سیکریٹری اطلاعات فریحہ اشرف نے بھی افسوس اور دکھ کا اظہار کیا ہے اور جان بحق ہونے والوں کی بلندی درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے
