July 3rd, 2026 (1448محرم17)

مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی سے نکلنے کے لیے فکری تربیت، قرآن کی تعلیمات اور ذمہ دار شہری رویے ناگزیر ہیں ، ڈاکٹر حمیرا طارق

حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے اسٹڈی سرکل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک جن معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل سے گزر رہا ہے، ان سے نکلنے کے لیے صرف حکومتوں کی تبدیلی کافی نہیں بلکہ ایک باشعور، ذمہ دار اور کردار ساز معاشرے کی تشکیل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عام شہری صحیح شعور، دیانت داری، قانون کی پاسداری اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے، اس وقت تک قومی مسائل مستقل طور پر حل نہیں ہو سکتے۔

ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور عوامی مشکلات نے ہر گھر کو متاثر کیا ہے، اس لیے ایسے حالات میں نوجوانوں، خواتین اور خاندانوں کی فکری تربیت پہلے سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹڈی سرکلز صرف کتابیں پڑھنے کی محفلیں نہیں بلکہ ایسے پلیٹ فارم ہیں جہاں افراد ملکی حالات کا شعوری تجزیہ کرنا، مثبت سوچ اپنانا اور معاشرے میں اپنا تعمیری کردار ادا کرنا سیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کا مقصد عوام کی خدمت، انصاف کی فراہمی اور ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے، لیکن جب ذاتی مفادات قومی مفادات پر غالب آ جائیں تو معاشرے میں بے یقینی اور مایوسی جنم لیتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کو جذبات کی بجائے شعور، تحقیق اور درست معلومات کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنی چاہیے تاکہ ملک میں مثبت سیاسی رویوں کو فروغ مل سکے۔

بعد ازاں "ہر دل قرآن تک" قرآن پراجیکٹ کی ڈائریکٹر انیلہ محمود نے "دورۂ قرآن مجید کے مقاصد" پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم صرف عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے جو معاشی انصاف، سماجی مساوات، دیانت دار قیادت، عوامی حقوق اور باہمی احترام جیسے بنیادی اصول سکھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے میں قرآن کی تعلیمات پر حقیقی معنوں میں عمل کیا جائے تو نفرت، کرپشن، ناانصافی اور تقسیم کی سیاست میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

انیلہ محمود نے کہا کہ آج عوام مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی مسائل اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر فرد اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز کرے اور اجتماعی طور پر ایسے معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کرے جہاں دیانت، انصاف اور خدمت کو اہمیت حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ دورۂ قرآن کا مقصد صرف قرآن کو سمجھنا نہیں بلکہ اس کی تعلیمات کو روزمرہ زندگی، خاندان، معاشرے اور قومی معاملات میں عملی طور پر نافذ کرنا بھی ہے۔

ورکشاپ کے اختتام پر ناظمہ حلقہ لاہور نے تمام شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وہ ورکشاپ میں دی گئی رہنمائی، مطالعے کے جدید طریقوں، اسٹڈی سرکلز کے عملی اصولوں اور دورۂ قرآن کی تیاری کو اپنی تنظیمی و دعوتی سرگرمیوں کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بہترین نتائج کے لیے باقاعدہ تیاری، عملی مشق، اجتماعی مطالعہ اور مسلسل رہنمائی سے استفادہ ناگزیر ہے۔

ورکشاپ میں حلقہ لاہور بھر سے ارکان اور امیدواران نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اسٹڈی سرکلز کو مزید مؤثر، فعال اور نتیجہ خیز بنانے کے حوالے سے عملی رہنمائی حاصل کی۔