April 21st, 2024 (1445شوال12)

غزوہ بدر میں مسلمانوں کو وہ  قوت اور غلبہ حاصل ہوا جس پر اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار ہوئیں۔ڈاکٹر حمیرا طارق

 دلوں میں کامل ایمان ، جذبہ شوق شہادت اور اللہ پر توکل ہو تو باطل کی بڑی سے بڑی طاقت کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، عددی اکثریت اور مادی وسائل کی کمی کے باوجود اہل ایمان ہر محاذ پر کامیاب اور بامراد ہوسکتے ہیں ، یہ بات سیکریٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر  حمیرا طارق نے 17 رمضان المبارک یوم بدر کے موقع پر اپنے خصوصی بیان میں کہی،انھوں نے کہا کہ معرکہ بدر یوم الفرقان ہے جو حق وباطل کا فرق واضح کر دینے والا دن ہے،جب    مٹھی بھر مسلمانوں کو وہ ابدی قوت اور غلبہ حاصل ہوا جس پر اسلامی حکومت کی مضبوط بنیادیں قائم  ہوئیں ۔ ڈاکٹر  حمیرا طارق نے مجاہدین بدر کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ غزوہ بدر نے یہ واضح کر دیا کہ مسلمان کا بھروسہ دنیاوی سازوسامان و ہتھیار پر نہیں بلکہ اللہ پر ہوتا ہے،بے سروسامانی میں اپنے سے تین گنا زیادہ قوت کے سامنے کھڑے ہوکر اصحابِ بدر نے دنیا کو بتا دیا کہ جذبہ ایمانی کا مقابلہ کوئی قوت  نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ ملت اسلامیہ آج تاریخ کے تاریک دور سے گزر رہی ہے ۔وسائل اور عددی قوت کے باوجود منتشر اور مغلوب ہے، انہوں  نے کہا کہ آج بھی امت اپنا رشتہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ساتھ مضبوط کر لے تو اللہ کی نصرت آ سکتی ہے ۔دریں اثناء ڈاکٹر حمیرا طارق نے فلسطین میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں 7 اکتوبر سے جاری اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں اور بالخصوص رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی سے دنیا بھر کے مسلمان شدید کرب میں مبتلا ہیں ۔انہوں نے متنبہ کیا کہ عالمی طاقتوں اور اداروں کی اسرائیل کو دی جانے والی کھلی چھوٹ اس کی جانب سے مسلسل انسانی حقوق کو سبوتاژ کرنے کا سبب بن رہی ہے اور فلسطین پر جاری یہ ظلم و ستم کسی بھی وقت عالمگیر نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کے شانہ بشانہ ہر فورم پر صہیونی مظالم کے خلاف آواز بلند کریں