ویمن ونگ جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام یومِ حجاب کے موقع پر ’’محفوظ نسل، باوقار پاکستان‘‘ کے عنوان سے حجاب کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے خواتین، اساتذہ، ڈاکٹرز، سماجی رہنماؤں، طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس میں حجاب کو مسلمان عورت کی شناخت، عزت، تحفظ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تکمیل قرار دیتے ہوئے نسلِ نو کی دینی و اخلاقی تربیت پر زور دیا گیا۔
قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2000ء سے آج 2026ء تک ہمارا پیغام وہی ہے کہ مسلمان عورت کی اصل پہچان اس کی حیا، کردار اور اپنی نسل کی تربیت میں ہے۔ ہم ہر سال یومِ حجاب پر اپنے عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ حجاب کے ذریعے اپنی اسلامی شناخت اور تہذیبی اقدار کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا بچہ ہی کل کا پاکستان ہے، اگر ہم نے اپنی نسل کو کتاب، کردار، حیا اور مقصدِ زندگی دے دیا تو پاکستان کا مستقبل محفوظ ہوگا۔
ثمینہ سعید نے کہا کہ حجاب محض ایک لباس کا نام نہیں بلکہ حیا، وقار، تحفظ اور ایک مکمل طرزِ زندگی کا اظہار ہے۔ قرآن ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے اہلِ خانہ کو جہنم کی آگ سے بچانے کا حکم دیتا ہے، اس لیے والدین، تعلیمی اداروں، معاشرے اور ریاست سب کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو محفوظ، باوقار اور صحت مند ماحول فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ
جب ایک بچہ اسکول نہیں جاتا تو صرف ایک کلاس خالی نہیں ہوتی، پورے ملک کا مستقبل خالی ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر، استاد، انجینئر، سائنسدان - سب اسی بچے میں سے بنتے ہیں۔
پاکستان میں 2025 کی رپورٹ کے مطابق یہ خوفناک حقیقت سامنے آئی ہے کہ 3630 بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیس رپورٹ ہوئے۔
یعنی روزانہ 9 سے 10 کیس۔ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ سب رپورٹ نہیں ہوتے۔ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے
بچوں کی تربیت اس انداز سے ہو کہ ہم ایسا ماحول بنائیں جہاں بچہ خوف کے بغیر بات کر سکے، شکایت کر سکے اور مدد مانگ سکے۔
*Article 25-A: ریاست پابند ہے کہ 5 سے 16 سال کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دے
Article 35: ریاست خاندان، ماں اور بچے کی حفاظت کی ذمہ دار ہے
ریاست کو چاہیے: ہر بچے کو معیاری تعلیم، محفوظ اسکول، اسکول سے باہر بچوں کو واپس لانے کا نظام، اور زیادتی کی شکایت کے لیے آسان محفوظ راستے۔
بچے محفوظ نہیں تو پاکستان محفوظ نہیں۔ یہ صرف ماں کی نہیں، ریاست کی بھی ذمہ داری ہے۔ بچے کو "ڈر" نہیں "اعتماد" دینا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں؛ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ لاکھوں پاکستان کا مستقبل ہیں۔ ریاست آئین کے آرٹیکل 25-A اور 35 کے تحت بچوں کے حقِ تعلیم، تحفظ اور نگہداشت کی ذمہ داری پوری کرے۔
ناظمہ وسطی پنجاب نازیہ توحید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ حجاب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسلمان عورت اپنی شناخت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی۔ حجاب عورت کو پیچھے نہیں کرتا بلکہ اسے اپنی صلاحیت، کردار اور خدمت کے میدان میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کا شعور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف حجاب کا حکم نہیں دینا بلکہ حجاب کی حکمت، حیا کی خوبصورتی اور اپنی اسلامی شناخت پر فخر بھی سکھانا ہے۔ اگر گھر کی تربیت مضبوط ہوگی تو نسلِ نو فکری و تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرسکے گی۔
ڈائریکٹر فلاحِ خاندان سنٹر عافیہ سرور نے کہا کہ مسلمان عورت کی عزت اور حیا ہی اس کی اصل قوت ہے۔ قوموں کی تعمیر گھر سے اور گھر کی تعمیر ماں کی گود سے ہوتی ہے۔ بچوں کو صرف پابندیاں عائد کرکے محفوظ نہیں بنایا جاسکتا بلکہ انہیں اعتماد، شعور اور ایسا ماحول دینا ہوگا جہاں وہ اپنے مسائل بلا خوف والدین سے بیان کرسکیں۔
پاکستان کی پہلی باحجاب سرجن ڈاکٹر اُمۃ اللہ زریں نے کہا کہ حجاب ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ باوقار انداز میں آگے بڑھنے کا ذریعہ ہے۔ مسلمان خواتین اپنی دینی حدود اور حیا کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم، طب، تحقیق اور قومی خدمت کے ہر میدان میں نمایاں کردار ادا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے خواتین کے لیے محفوظ، باعزت اور سازگار ماحول فراہم کرنے پر زور دیا۔
دیگر مقررین خالدہ جمیل، حلیمہ سعدیہ، عظمیٰ ندیم، سیدہ مہوش، آسیہ مدنی اور یوتھ کی نمائندہ زینب عزیز نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماں قوم کی معمار ہے اور گھر سے شروع ہونے والی تربیت ہی معاشرے میں حقیقی تبدیلی لاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی صحت، کردار، مہارت اور مقصدِ زندگی پر توجہ دینا ضروری ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت کے باعث بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے، جس کا ریاست کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔
پروگرام آرگنائزر و ڈپٹی سیکرٹری حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے اختتامی خطاب میں کہا کہ یومِ حجاب صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ اپنی اسلامی شناخت، حیا اور تہذیبی اقدار کے تحفظ کے عہد کی تجدید کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حجاب اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل، مسلمان عورت کے وقار اور اس کی شناخت کا حصہ ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو حجاب کے ساتھ علم، اعتماد، کردار اور مقصد بھی دیں تاکہ وہ دنیا میں اپنی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے ملک و ملت کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو جدید دنیا میں آگے بڑھنے کا ہنر بھی جانتی ہو اور اپنی تہذیب، ایمان اور حیا سے جڑی بھی ہو۔ آج کا ہمارا عہد ہی کل کے پاکستان کی بنیاد بنے گا۔ ان شاء اللہ حیا، علم، کردار اور ایمان سے آراستہ نسل ہی ایک مضبوط، محفوظ اور باوقار پاکستان تعمیر کرے گی۔
اعلامیۂ یومِ حجاب
کانفرنس کے متفقہ
اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مسلمان خواتین حجاب اور اپنی اسلامی شناخت کے ساتھ تعلیم، صحت، معیشت، سیاست، سماجی خدمت اور قومی تعمیر کے تمام میدانوں میں بھرپور اور باوقار کردار ادا کرتی رہیں گی۔
شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حجاب ہماری شناخت ہے، حیا ہماری طاقت ہے اور باکردار نسل ہی باوقار پاکستان کی ضمانت ہے۔#۔
