August 29th, 2026 (1448ربيع الأول15)

 پمز اسپتال میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت؛ ماؤں کی اجڑی گودوں کا حساب کون دے گا؟ ثمینہ سعید 

 وزیر صحت فوری استعفی دیں اور حکمران خود کو احتساب کے لیے پیش کریں-

قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے پمز اسپتال اسلام آباد کے گائنی وارڈ میں اے سی کمپریسر پھٹنے کے نتیجے میں آگ لگنے سے 15 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے اندوہناک واقعے پر گہرے دکھ، صدمے اور رنج کا اظہار کیا ہے۔
ثمینہ سعید نے کہا کہ ننھی کلیوں کی ایک ساتھ بجھ جانے والی زندگیاں پوری قوم کے دل کو زخمی کر گئی ہیں۔ جن ماؤں نے اپنی گودوں میں زندگی کی خوشیاں سجانے کے خواب دیکھے تھے، آج ان کی گودیں اجڑ گئی ہیں۔ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر پوری قوم  سوگوار ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر صحت فوری استعفی دیں اور حکمران خود کو احتساب کے لیے پیش کریں۔ثمینہ سعیدکہا کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری کا کڑا امتحان ہے۔ عوام کو محض تسلیاں، بیانات اور تحقیقات کے اعلانات نہیں بلکہ جواب چاہیے کہ ان معصوم بچوں کی حفاظت کا ذمہ دار کون تھا؟ سرکاری اسپتال میں ضروری حفاظتی انتظامات کہاں تھے؟ اگر غفلت یا کوتاہی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف عملی کارروائی کب ہوگی؟
قائم مقام سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اقتدار صرف پروٹوکول، مراعات اور کرسی کا نام نہیں بلکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کی عظیم ذمہ داری ہے۔ اگر ملک کے سب سے بڑے سرکاری اسپتالوں میں نومولود بچے بھی محفوظ نہیں تو حکمرانوں اور انتظامیہ کو اپنی کارکردگی اور نظام کی ناکامی کا جواب قوم کو دینا ہوگا۔
ثمینہ سعید نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحے کی شفاف، غیر جانب دار اور فوری تحقیقات کرائی جائیں، غفلت کے ذمہ دار تمام افراد اور اداروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے اور تحقیقات کو محض ایک رسمی کارروائی بنا کر نہ چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کے سرکاری و نجی اسپتالوں، خصوصاً گائنی اور بچوں کے وارڈز میں فائر سیفٹی، بجلی کے نظام، ایمرجنسی راستوں اور حفاظتی آلات کا فوری آڈٹ کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جاں بحق بچوں کے والدین کو فوری مالی معاونت کے ساتھ ہر ممکن قانونی و انتظامی تعاون فراہم کرے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ آئندہ کسی ماں کی گود انتظامی غفلت اور ناقص حفاظتی انتظامات کے باعث یوں نہ اجڑے۔
ثمینہ سعید نے کہا کہ ان 15 معصوم جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں، مگر قوم کم از کم یہ ضرور چاہتی ہے کہ اس سانحے کا حقیقی احتساب ہو۔ قوم کو صرف افسوس نہیں، جواب، انصاف اور ایسا مؤثر نظام چاہیے جو مستقبل میں کسی اور گھر کے چراغ بجھنے سے بچا سکے۔
انہوں نے جاں بحق نومولود بچوں کے والدین اور خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں یہ ناقابلِ برداشت صدمہ سہنے کا حوصلہ عطا فرمائے