April 2nd, 2026 (1447شوال15)

ہر دل تک قرآن کی رسائی اور فرد کی تربیت سے معاشرہ بدلنے کا عزم—ثمینہ سعید۔ڈپٹی سیکرٹری

ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعیدنے ضلع وسطی حلقہ لاہور کے زیر اہتمام منعقدہ عید ملن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تحریکوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر بڑی تبدیلی ایک فرد سے شروع ہوتی ہے اور پھر ایک منظم جماعت کی صورت اختیار کرتی ہے۔ انہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ایک فرد کو جوڑ کر امت کی بنیاد رکھی، لہٰذا آج ہمیں بھی فرداً فرداً دعوت دے کر تحریک کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ممبر سازی محض تعداد بڑھانے کا نام نہیں بلکہ یہ مستقبل کی قیادت تیار کرنے کا عمل ہے۔ دارِ ارقم کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ منظم تربیت ہی وہ بنیاد ہے جس پر مضبوط جماعتیں قائم ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب لوگ اخلاص اور commitment کے ساتھ جڑتے ہیں تو تحریکیں تاریخ کا رخ بدل دیتی ہیں۔
ثمینہ سعید نے خواتین کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی اسلامی تاریخ میں صحابیات نے گھروں سے دعوت کا آغاز کر کے نسلوں کو بدلا، آج کی خواتین بھی اسی جذبے کے ساتھ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ممبر نہیں بنا رہے بلکہ دلوں کو جوڑ رہے ہیں اور یہی اصل دعوت کا تقاضا ہے۔
انہوں نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دعوت طاقت سے نہیں بلکہ اخلاق، نرمی اور حکمت سے پھیلتی ہے۔ ہم لوگوں کو بدلنے نہیں جاتے، ہم ان کے دلوں کو جیتنے جاتے ہیں، یہی ایک کامیاب داعی کا اصل ہتھیار ہے۔                                      انہوں نے مزید کہا کہ ہم ممبر سازی نہیں کر رہے، ہم لوگوں کو جہنم سے جنت کی طرف بلا رہے ہیں - اور یہ کام دراصل آخرت کا ایسا سرمایہ ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی کی خواتین ملک میں اسلامی اقدار کے فروغ اور ایک صالح معاشرے کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
اس موقع پر ڈائریکٹر ماسٹر ٹرینر پروگرام، انیلہ محمود نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے  کہا کہ رمضان قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کا مہینہ ہے اور اس مہم کے ذریعے لاکھوں خواتین تک قرآن کا پیغام عام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دورۂ قرآن محض تلاوت نہیں بلکہ فہمِ قرآن، تدبر اور عمل کی دعوت ہے۔ اس کا مقصد افراد کے اندر شعور بیدار کرنا اور قرآن کو زندگی کا عملی دستور بنانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب قرآن ہر دل تک پہنچے گا تو معاشرے میں مثبت تبدیلی خود بخود رونما ہوگی۔
انیلہ محمود نے کہا کہ ملک بھر میں خواتین بڑی تعداد میں دورۂ  قرآن میں شرکت کی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین دین کے پیغام کو سمجھنے اور آگے پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم دراصل ایک فکری اور روحانی بیداری کی تحریک ہے جو گھروں، محلوں اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن رہی ہے۔
نائب ناظمہ حلقہ لاہور شازیہ عبدالقادر نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم رمضان کے بعد بھی قرآن سے اپنے تعلق کو قائم رکھیں اور اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں، کیونکہ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ قرآن ہماری عملی زندگی کا حصہ بن جائے۔۔             انہوں نے  کہا کہ ایک مخلص داعی سینکڑوں لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے اور ایک فرد کو دین سے جوڑنا پوری نسل کو بدلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اخلاص، صبر اور استقامت کے ساتھ دعوتی کام کو جاری رکھیں کیونکہ یہی کام اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے افضل ہے۔