قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے 7 ستمبر 1974ء کو تحفظِ ختمِ نبوت کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری اور ناقابلِ فراموش دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہ تاریخی موقع تھا جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم آئینی فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قرآنِ کریم نے واضح الفاظ میں آپ ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا ہے۔ 7 ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اپنے ایمان اور عقیدے کے تحفظ کے لیے علماء، طلبہ اور عوام نے طویل جدوجہد کی اور قوم نے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
ثمینہ سعید نے کہا کہ یہ دن محض ایک آئینی فیصلے کی یاد نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے اپنے ایمان سے وابستگی اور تحفظِ عقیدہ کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت، سیرتِ طیبہ ﷺ اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ہوگا تاکہ وہ فتنوں کے اس دور میں اپنے ایمان اور اسلامی شناخت کی حفاظت کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین بحیثیت ماں، معلمہ اور مربیہ نئی نسل کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے گھروں اور تعلیمی اداروں میں بچوں کو حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ، آپ ﷺ کی ختمِ نبوت اور اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کریں اور ان کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ اور دین سے وابستگی پیدا کریں۔
قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے ہمیشہ کی طرح آج بھی پُرعزم ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آئینِ پاکستان میں موجود متعلقہ شقوں پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے اور آئین و قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ثمینہ سعید نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 7 ستمبر کا پیغام یہی ہے کہ ایمان، عقیدہ اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے قوم کو بیدار، متحد اور باخبر رہنا ہوگا۔ تحفظِ ختمِ نبوت ہر مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے اور اس حوالے سے آئینی و قانونی ذمہ داریوں کو پوری قوت اور ایمانی جذبے ادا کیا جانا چاہیے۔
