*پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء مسترد!
حلقہ خواتین جماعت اسلامی کا صوبہ گیر عوامی ریفرنڈم
حلقہ خواتین جماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء (کالا قانون) کے خلاف اور بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کے حق میں صوبہ گیر عوامی ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پنجاب بھر میں مختلف مقامات پر ریفرنڈم کیمپ قائم کیے گئے، جہاں عوام بالخصوص خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکرٹریز ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ڈاکٹر زبیدہ جبیں اور ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے مرکزی خواتین منصورہ میں قائم ریفرنڈم کیمپ کا دورہ کیا اور ووٹ پول کر کے اس عوامی مہم میں عملی شرکت کی۔
میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ
صوبائی حکومتوں کا بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرنے سے انکار دراصل عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ نچلی سطح پر اختیارات منتقل کیے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت 2015ء کے بعد سے بلدیاتی انتخابات کرانے میں مسلسل ناکام رہی ہے، جو کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140-اے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
“پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء ایک کالا قانون ہے، جس کے ذریعے اختیارات عوامی نمائندوں کے بجائے بیوروکریسی کو منتقل کیے جا رہے ہیں، جو جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔”
ڈاکٹر حمیرا طارق نے مزید کہا کہ اس ایکٹ کے تحت مقامی حکومتوں کو سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات سے محروم کر دیا گیا ہے، جس سے عوامی نمائندگی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ
ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے دراصل عوام کو اختیار دینے سے خوفزدہ ہیں، اسی لیے بلدیاتی نظام کو دانستہ طور پر کمزور بنایا جا رہا ہے۔
ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے کہا کہ لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کا خاتمہ کر کے ٹاؤن کارپوریشنز قائم کرنا ایک نہایت خطرناک اور عوام دشمن فیصلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن پورے شہر کی مشترکہ منصوبہ بندی، بڑے ترقیاتی منصوبوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور یکساں بلدیاتی قوانین کے نفاذ کی ضامن تھی، جس کے خاتمے سے شہر ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور تمام اختیارات صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے ہاتھ میں چلے گئے ہیں۔
ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ لاہور کو سات ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کر کے منصوبہ بندی کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس جبکہ عملدرآمد بیوروکریسی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
یہ نام نہاد ٹاؤن کارپوریشنز محض کٹھ پتلی ادارے بن چکی ہیں، جو نہ عوام کو جواب دہ ہیں اور نہ ہی بااختیار۔ یہ پورا نظام جمہوریت اور عوامی نمائندگی کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی لاہور سمیت پورے پنجاب میں اس غیر آئینی اور عوام دشمن بلدیاتی ایکٹ کے خلاف عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن اس کالے قانون کو غیر جمہوری قرار دے چکے ہیں۔ جماعت اسلامی نے اس ایکٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا، ضلعی اور ڈویژنل سطح پر احتجاجی دھرنے دیے اور اب عوامی رائے کے ذریعے اس کا فیصلہ کروایا جا رہا ہے۔
حلقہ خواتین جماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام آج 15 جنوری 2026ء کو پورے صوبے میں عوامی ریفرنڈم منعقد کیا گیا، جس میں خواتین نے بھرپور جوش و خروش سے شرکت کی۔ اس ریفرنڈم کے ذریعے عوام فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ اس عوام اور جمہوریت دشمن بلدیاتی ایکٹ کو قبول کرتے ہیں یا مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
اس موقع پر سوشل میڈیا کی نگران خالدہ شہزاد، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شہناز عاصمہ، رفعت پراچہ ،سیکرٹری اطلاعات وسطی پنجاب صفیہ ناصر، نائب ناظمہ ضلع لاہور شازیہ عبدالقادر اور ضلع غربی سے ثمینہ باجوہ بھی موجود تھیں۔
