سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے رحیم یار خان کے دورے کے دوران قرآن انسٹیٹیوٹ میں مدرسات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
رمضان المبارک قرآن کے ساتھ تجدیدِ عہد کا مہینہ ہے۔ دورۂ قرآن محض مطالعہ نہیں بلکہ قرآن کو زندگی کا رہنما بنانے کی شعوری کوشش ہے۔ اگر ہم رمضان میں قرآن کو سمجھنے، اس پر غور کرنے اور اس کی ہدایات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کا عزم کرلیں تو یہی عمل فرد سے لے کر معاشرے تک حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے دورۂ قرآن کی تیاری کے بارے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ
دورۂ قرآن کی کامیابی کے لیے منظم منصوبہ بندی، خلوصِ نیت، مسلسل حاضری اور عملی اطلاق کا ذہن ہونا ناگزیر ہے۔ ہمیں قرآن کو صرف پڑھنے کے بجائے اسے سمجھ کر اپنی ذات، خاندان اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنانا ہوگا۔”
ڈاکٹر حمیرا طارق نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین قرآن فہمی کے ذریعے نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری حلقہ خواتین پاکستان ثمینہ سعید نے اپنے خطاب میں قرآن کی تعلیم کے ذریعے نظامِ زندگی میں تبدیلی اور رائے عامہ کی تیاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا
کہ قرآن صرف عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ جب تک قرآن کی تعلیم کو فرد کی سوچ اور معاشرے کے اجتماعی شعور کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، نظام میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دورۂ قرآن کے ذریعے ہم شعوری طور پر ایسی رائے عامہ تشکیل دے سکتے ہیں جو ظلم، ناانصافی اور اخلاقی بگاڑ کے مقابل قرآن کے عادلانہ اور فطری نظام کی داعی ہو۔ یہی وہ فکری بنیاد ہے جو ایک صالح اور منصفانہ معاشرے کی تعمیر کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
ثمینہ سعید نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حلقہ خواتین قرآن کی تعلیم و تربیت کے ذریعے معاشرے میں فکری بیداری، اخلاقی استحکام اور نظام کی اصلاح کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
پروگرام میں اساتذہ، طالبات اور ذمہ داران کی بڑی تعداد شریک تھی۔
