سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین، جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کراچی کی شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی موجودہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ عوام مسائل کی اصل وجہ کو سمجھیں۔ دین ایک ہے، امت ایک ہے اور قرآن وہ مشترکہ مرکز ہے جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ ملک میں یکساں نظامِ تعلیم و تربیت کا قیام آج پاکستان کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے، جو قوم کو نظریاتی، فکری اور عملی یکجہتی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی عالمی سطح پر سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی فکر کے تحت پوری دنیا میں کام کر رہی ہے، اور مولانا مودودیؒ دورِ حاضر کے مجدد ہیں جن کی علمی و فکری خدمات روشنی کا مینار ہیں۔
پڑھ کر سنانے سے کم از کم تین گنا زیادہ سیکھا جا سکتا ہے، ڈاکٹر حمیرا طارق نے مزید کہا کہ ہر رکن جماعت خاتون کی ذمہ داری ہے کہ وہ محنت کے ساتھ مدرس بنے۔ ہمارا ہدف ہے کہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ ہر خاتون جذبہ اور محنت سے مدرس بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے تحت فہم القرآن کلاسز کے چھ ماہی کورس کا آغاز پورے پاکستان میں ہو چکا ہے، جس کا مقصد قرآن سے حقیقی تعلق پیدا کرنا اور قرآن فہمی کو گھر گھر عام کرنا ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر حمیرا طارق نے اراکینِ شوریٰ پر زور دیا کہ وہ میدانِ عمل میں اتریں اور اس جدوجہد کو عوام تک پہنچائیں۔ یہ وقت زبانی دعوؤں کا نہیں بلکہ عملی جدوجہد کا ہے۔ قرآن و سنت کی بنیاد پر مضبوط معاشرہ تشکیل دینا جماعت اسلامی کی اولین ترجیح ہے۔کراچی شوریٰ نے اپنے اجلاس میں فلسطین میں جاری نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، اور اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ شوریٰ نے امِ رباب کیس میں ملزمان کی رہائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے فوری اور شفاف سماعت کی اپیل کی۔ اس کے علاوہ، امریکہ اسرائیل اتحاد کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ مانتے ہوئے مسلم ممالک سے اس کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے کی درخواست کی۔
اس اجلاس میں ڈپٹی سیکرٹری عطیہ نثار، سمیحہ راحیل قاضی، عفت سجاد، ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید، ناظمہ صوبہ رخشندہ منیب، نائب ناظمہ صوبہ عذرا جمیل، ناظمہ کراچی جاوداں فہیم، معتمدی کراچی ساجدہ تنویر، نائبین کراچی فرح عمران، ہاجرہ عرفان، ندیمہ تسنیم، سمیہ عاصم، سمیہ اسلم بھی موجود تھیں۔
